Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ / اندر کی جنگ میں الجھا شخص

اندر کی جنگ میں الجھا شخص

بعض اوقات انسان کی کیفیت ایک ایسے حصار میں بند پرندے کی طرح ہوتی ہے جیسا کہ وہ دیکھ تو سب رہا ہوتا ہے۔ ہر لمحے، ہر احساس کو محسوس تو ضرور کررہا ہوتا ہے مگر وہ اڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنے احساسات کو عملیات کی شکل نہیں دے پاتا۔ وہ ایک اندر کی الجھن کا شکار ہوا ہوتا ہے۔ اس کے اپنے اندر ہی توڑ پھوڑ چل رہی ہوتی ہے۔ وہ پلس مائنس کے ایسے حسابوں کتابوں میں پڑا ہوتا ہے کہ اسے آسان سے آسان کلیہ سمجھنے کیلئے بھی بہت مشقت کرنا پڑتی ہے۔ ایسی الجھن ایسی کیفیت انسان کے دل و دماغ میں غدر مچائے ہوئے ہوتی ہے۔ جسے عام دنیا، عام اشخاص سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اب یہ اندر کی جنگ کیا ہے یا کیوں ہے۔ اس کا جواب وہ جنگ لڑتا ہوا شخص بھی دینے سے قاصر ہوتا ہے۔ وہ جنگ اس کی عزت نفس کی جنگ ہوسکتی ہے۔ وہ جنگ قدرت کے عجب رنگوں کو سمجھنے یا اپنے نصیب کو کھوجنے کی جنگ ہوسکتی ہے۔ وہ اس کے اپنے احساسات کی ہوسکتی ہے، محبت کے جذبات کی، خاندان کے اخلاص کی، کسی چیز کسی احساس کے ارتقاء کی، انجانے اندیکھے سوالات کے جواب کی، قدرت کے انتخاب کی، غرض کے نہ جانے کتنے ہی موضوعات کی جنگ وہ اکیلا شخص اپنے اندر لڑ رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اندر کئی میل کا سفر طے کررہا ہوتا ہے، مگر دیکھنے والے یہاں تک کے اس کے اپنے بھی اس کی ایسی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس کی اس کیفیت کو سمجھ کر اس سے پوچھ بھی لے تب بھی وہ شخص اپنے آپ میں چل رہی جنگ اس دوسرے شخص کو نہیں سمجھا پائے گا۔ ایسا شخص اپنے اندر کے سراب میں ہوتا ہے۔

مگر یہ کیفیت کسی تخلیق کار، کسی ادیب، کسی موسیقار، کسی آرٹسٹ کی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ ایسا لاوا ہے جس کی آگ میں جل کر ہی کندن تیار ہوتا ہے۔ جس شخص میں خود سے کسی تحریک نے جنم نہیں لیا۔ جوخود میں کبھی الجھا نہیں۔ جو خود سے کبھی لڑا نہیں۔ جو اپنے اندر کی جنگ کا فاتح نہیں ہوا وہ اپنی زندگی گزار تو لیتا ہے مگر اطمینان سے عاری ہوتا ہے اور کبھی کوئی معنی خیز کارنامہ سر انجام نہیں دے پاتا۔ ایسی کیفیت میں لاکھوں پہاڑوں میں سے راستہ کھوجنا پڑتا ہے۔ سمندر کی تہوں میں جا کر غوطے کھانے پڑتے ہیں۔ پھونکوں سے آگ بجھانی پڑتی ہے۔ اور جب وہ یہ سب اپنے اندر کررہا ہوتا ہے تب دنیا اس کو مجنون بھی کہتی ہے۔ عمل سے عاری بھی سمجھتی ہے۔ سست اور کاہل بھی جانتی ہے۔ ناکامی کے طعنے بھی دیتی ہے۔ راتوں کو گھومنے کے طعنے، گھر سے بے فکری کے طعنے۔ پیسے نہ کمانے کے طعنے یا پھر ایسے احساسات کا دکھاوا جس سے آپ کی عزت نفس تباہ ہوجائے۔ آپ کا اعتماد زیرو ہوجائے۔ آپ بھاگ رہے ہوتے ہو اپنوں سے، سب سے، کسی کا سامنا کرنے کی کوفت سے۔ کئی لوگوں کے چھبتے ہوئے سوالات سے بھاگنا شروع کردیتے ہو۔ لوگ آپ کو سمجھتے نہیں آپ کو اٹھاتے نہیں بلکہ گراتے ہیں۔ باتوں میں آپ کا ساتھ دیتے ہیں مگر اپنے عمل سے آپ کو محسوس کرواتے ہیں جو کہ اندر چھلنی چھلنی کردیتا ہے۔ یہ ایک ایسی ہیجانی صورتحال ہوتی ہے کہ آپ بے بس ہوجاتے ہو۔ کوئی صورت نہیں ہوتی باہر نکلنے کی۔ تب آپ کسی معجزے کے منتظر ہوتے ہو۔ اگر وہ معجزہ ہوجائے بادلوں کے پار سے مدد آجائے تو آپ فاتح ہوجاتے ہو، کرشماتی شخصیت کے حامل ہوجاتے ہو۔ اور اگر ایسے میں کوئی معجزہ بھی نہ ہو اور کوئی اپنا آپ کو سمجھ کر سہارا بھی نہ دے تو آپ ساغر صدیقی بن جاتے ہو اور اسی حالت میں مرتے ہو۔ خود میں چل رہی جنگ اگر وقت پر ختم نہ ہو اور چلتی رہے تو انسان ساری زندگی اس الجھن میں پڑا رہتا ہے۔ وہ سائیں ہوجاتا ہے پاگل ہوجاتا ہے۔ اندر کی جنگ اگر اندر تک ہی رہے تو اس کے جیتنے کے آثار زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر.. اگر اس چلتی جنگ میں باہر سے بھی حملے ہونے لگیں تو وہ تباہی پھیلا دیتی ہے جس کے اثرات اندر اور باہر دونوں طرف ہوتے ہیں۔

ان کیفیات میں ایک کیفیت آرٹسٹ یا تخلیق کار کی بھی ہوتی ہے۔ تخلیق کاری ایسی چیز ہے جیسا کہ روز قیامت کو دماغ میں بند کرلینا۔ یہ کیفیت خود میں چل رہی الجھن، توڑ پھوڑ، تباہی، تنہائی، خوشی، غمی کا نام ہے۔ ایسے شخص کو اس کے خیالات، سوالات سونے نہیں دیتے۔ وہ تنہائی کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظر میں سویا ہوتا ہے۔ بے کا ر وقت ضائع کررہا ہوتا ہے۔ مگر اس کی محض آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ اس کے اندر ایک ڈرامہ، ایک افسانہ چل رہا ہوتا ہے۔ آپ ایسے سمجھ لیجئے جیسے آپ نے جلتے چولہے پرپانی کی کیتلی رکھی ہو اور آپ اس کی سٹیم اس کی بھاپ نکلنے کا راستہ بند کردیں تو جو کچھ پانی پر گزر رہی ہوتی ہے وہی اس شخص کی حالت ہوتی ہے۔ وہ اپنے اندر ہی ابل رہا ہوتا ہے، جل رہا ہوتا ہے۔ اس کا ظاہر تو بنا سنورا ہوتا ہے مگر وہ اندر سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ عملی کاموں سے بے بہرہ ہوچکا ہوتا ہے۔ اس کی تمام تر توانائی خود کی ذات میں چل رہی جنگ میں صرف ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کو باہر کا کچھ بھی یاد نہیں رہتا اس کی آنکھیں کھلی بھی ہوں تو اپنے اندر چل رہی فلم دیکھ رہی ہوتی ہیں جو اس کا دماغ اس کے سامنے چلا رہا ہوتا ہے۔ وہ حاضر ہو کر بھی غیر حاضر ہوتا ہے۔ وہ ایک عذاب میں مبتلا ہوتا ہے حالت جنگ میں ہوتا ہے وہ اس سے نکلنے کی بھرپور کوشش بھی کرتا ہے۔ سر جھٹکتا ہے مگر کوئی انجانا سا احساس کوئی اندیکھی طاقت اس کے پیچھے لگی ہوتی ہے وہ دوبارہ اسی ہیجانیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کے ارد گرد سب کچھ مصنوعی لبادے میں لپٹا ہوتا ہے۔ اس کی خوشی مختصر رہ جاتی ہے۔ اس کی ڈومین، اس کا سفئیر اور ہوتا ہے وہ کسی اور دنیا میں میلوں کا سفر طے کررہا ہوتا ہے۔ وہ بازار میں سامان کے تھیلے بھول آتا ہے۔ چلتے چلتے راستہ بھول جاتا ہے۔ کسی چیز کی قیمت سے زیادہ ادا کر آتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اندر کی تہلکہ خیز زندگی جی رہا ہوتا ہے۔ جیسا کہ بہت سی چیزیں بکھری ہوئی ہوں اور آپ کو سفر پر جانے میں آدھا گھنٹہ ہو اور اسی وقت میں سب کچھ سمیٹنا ہو۔ ایسی حالت زار میں مبتلا شخص جب وہ کسی گتھی، کسی الجھن، یا کسی سوال کا جواب پالیتا ہے تو وہ اطمینان میں آجاتا ہے۔ اور وہ سکون وہ اطمینان اس بات کا نہیں ہوتا کہ اس نے معاملہ حل کرلیا ہے بلکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ اس عذاب سے نکل آیا ہے جس میں وہ مبتلا تھا۔ وہ ہار جیت سے قطع نظر اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ اس پر مسلط جنگ سے نکل آیا ہے۔

اس موضوع کا کوئی اختتام نہیں کیونکہ ایسی کیفیت کسی تحریک کا آغاز ہے انجام نہیں۔

حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ

حمزہ اشتیاق پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ روزنامہ افلاک سے منسلک ہیں۔ سیاسی و معاشرتی مسائل پہ اظہار خیال کرتے ہیں۔