اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ / اندازِ بیان اور

اندازِ بیان اور

آج کے اس مادی اور لسانیات سے دور بھاگتے دور میں زبانیں اپنی اصل شناخت اور اثر کھوچکی ہیں۔ ہر بات، ہر لہجے اور ہر محفل میں بس انگریزی ہی انسانوں کی تعلیم اور ہنر کی جانچ کا پیمانہ بنتا جارہا ہے۔ مگر کچھ باتیں کچھ احساسات اور جذبات ہر کسی زبان میں نہیں سما سکتے۔ یہاں بات میں اپنی زبان "اردو" کی کروں گا جس کو اردو شاعری نے نقطہ کمال و عروج پر پہنچا دیا۔ جس طرح اردو کی شاعری نے برصغیر پاک و ہند میں ایک ایسی شناخت اور معرفت پیدا کی کہ اس نے ہر احساس اورجذبات کو الفاظ کے پیرائے میں ایسا خوبصورت انداز میں باندھا کہ اس کی مثال ہمیں لسانیات کی پوری تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اردو کی تاریخ ایک الگ موضوع ہے مگر اردو کی شاعری نے جذبات کو اپنے اندر ایسا سمویا کہ ایک بے معنی سا لفظ بھی جب دل کی گہری تہوں سے احساسات میں غوطے کھا کر جب کسی شعر کے ساتھ جڑ تا ہے تو موتیوں کی لڑی میں پرویا گوہر نایاب بن جاتا ہے۔ ایسا فن ایسی خوبصورتی شائد ہی کسی اور زبان کی رہی ہو۔ اردو شاعری ایک ایسا ہتھیار، ایسا نظریہ ہے کہ اس نے انسانوں کے جذبات کو کھنگالنا شروع کیا۔ جس کے ذریعہ کئی تحریکوں نے جنم لیا۔۔ جس نے ثقافت کو اپنے اندر سمولیا۔ جس کے ذریعہ سے کئی معاشروں کی تشکیل ہوئی۔ مگر اس تیزی سے دوڑتی ہوئی دنیا میں اردو اور ریختہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس اردو شاعری نے کئی گمنام لوگوں کو شہر ت عزت اور مرتبہ کے انباروں سے نواز دیا۔ اردو شاعری کی تاریخ میں میر تقی میر، مرزا غالب، ابراہیم ذوق، الطاف حالی، وقت کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر، وقت کے ولی علامہ اقبال، اور ایسے کئی بڑے نام موجود ہیں جنہوں نے اس زبان کو اپنے فن سے آشنا کروایا اور اس کو آگے بڑھایا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اس زبان نے ترقی پائی۔ اردو ہر صاحب ذوق کی زبان بن گئی۔ اردو کی خاص بات یہ بھی تھی کہ بر صغیر میں یہ ہر رنگ و نسل، قوم اور مذہب کی زبان تھی جو دیگر اقوام اور ثقافتوں کا ملاپ تھی۔

بیسویں صدی کے وسط میں بھی یہ بھرپور چھائی رہی مگر آہستہ آہستہ تعصب پرستی کا شکار ہوتی گئی۔ اور پھر پاکستان اور ہندوستان بننے کے بعد قومیت میں ڈھل گئی۔ یہاں سے اردو کا زوال شروع ہوا۔ مگر اس کے بعد بھی اردو ادب نے خاص مقام بنائے رکھا جس کا سہرا بھی اس وقت کے نثر نگار، ڈرامہ نگار اور شاعر حضرات کے سر جاتا ہے جن میں سعادت حسن منٹو، منشی پریم چند، اشفاق احمد، قدر ت اللہ شہاب، اور مشتاق یوسفی جیسے مصنف شامل ہیں۔ جنہوں نے نثر نگاری کے ذریعہ سے اس کو ترویج دی۔ اس کے بعد اس وقت کے شاعروں نے بھی اس کو معدوم ہونے سے اور اس کی خوبصورتی کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس میں منیر نیازی، ساگر صدیقی، پروین شاکر، ابن انشاء، احمد فراز، فیض احمد فیض، حبیب جالب اور کئی باکمال لگ شامل ہیں۔ مگر اس کے بعد رفتہ رفتہ اردو شاعری کو گرہن لگنا شروع ہوا اور پھر بڑھتا گیا۔ اس دور میں بھی وصی شاہ اور انور مسعود جیسے لوگوں کی وجہ سے اردو شاعری کی تھوڑی بہت پہچان باقی رہی۔ مگر یہ سلسلہ بھی رفتہ رفتہ معدوم ہوتا گیا۔ اور نامور اور اعلی پائے کے شاعر تقریباً ناپید ہوچکے ہیں۔ نوجوان نسل کی سخن سے وابستگی نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے۔

مگر آج کے اس دور میں بھی چند باکمال اور اردو سے محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اردو اور اردو شاعری کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو سہارا دے رکھا ہے اوربرصغیرمیں اس کی ترویج اور ترقی کیلیئے دن رات کوشاں ہیں۔ ان میں سرفہرست ریحان صدیقی صاحب اور شازیہ کدوائی کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے نئی نسل کو اس جانب راغب کرنے کیلئے ایک سوسائٹی "انداز بیاں اور" قائم کی اور اس میں شاعری سے تعلق رکھنے والے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو پروموٹ کیا۔ انہوں نے مشاعرہ کی اصطلاح کو اصل رنگ و شکل میں جدت دے کر پروان چڑھایا اور ہر سال ایک عالمی معیار کا اردو مشاعرہ ابو ظہبی میں منعقد کر کے شاعری کی گم ہوتی آوازکو پھر سے منظر عام پرلاکھڑا کیا ہے۔ ان کے اس پروگرام نے کئی بہترین اور باکمال شاعروں کی معرفت سے ہمیں نوازا ہے۔ ان کی سوسائٹی "انداز بیاں اور" پاکستان اور بھارت کے بہترین شاعروں اور نوجوان شاعروں کو متحدہ عرب امارات میں مشاعرہ پر مدعواور ان کی سرپرستی کرتی ہے۔ ان کی یہ سوسائٹی شعر وسخن میں ایک بڑا نام بن چکی ہے اور آج کے اردو کے تاریک دور میں چراغ کی روشن لو کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

حال ہی میں ہمارے خطے میں شعروشاعری سے لگاؤ رکھنے والے اور عمدہ شاعری کرنے والے دوایسے ہیرے ابھرے ہیں ہیں جنہوں نے شاعری میں بہترین نام کمایا ہے۔ علی زریون اور تہذیب حافی دو ایسے نوجوان شاعر ہیں جنہوں نے شاعری کو جدت دے کر ہمارے اس خطے کے نوجوانوں کو شاعری سے لگاؤ پیدا کردیا ہے۔ دونوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ہمیں ان پر فخر ہے انہوں نے اردو شاعری کے معدوم ہوتے وقت میں شاعری کو روشن کیا اور اس میں دلچسپی فراہم کی ہے۔ دونوں کا سخن اور انداز بیاں دل کو چھو جانے والا ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آسان اور سادہ مگر پر اثر شاعری ہماری نئی نسل کو اپنی طرف بھرپور متوجہ کرنے میں کامیاب رہی ہے کیونکہ اس میں اصطلاح انتہائی سادہ اور نوجوانوں کے جذبات کی عکاسی کرنے والی ہے۔ اور ان ابھرتے ستاروں کو ریحان صدیقی اور شازیہ کدوائی نے اپنے اس"انداز بیان اور" کے پروگرام کے توسط سے رونما ہونے والے مشاعرے میں بلا کر عالمی شہرت پر پہنچا دیا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ اقبال اور غالب کی زمین میں شاعری کی نمی ابھی باقی ہے۔ ورنہ ہم اس فن باکمال سے بالکل ناآشنا ہوچلے تھے۔ میں ذاتی طور پر بہت خوش ہوں ان لوگوں کی کاوشوں اور محنت سے کہ جن کی بدولت ہمیں نئے دور سے ہم آہنگ شاعری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ہمارے ارباب اختیار لوگوں کو بھی چاہیئے کہ ایسی سوسائٹیز اور ایسے لوگوں کو پروموٹ کریں۔ اور ہماری نئی نسل کے دیکھنے کے زاویہ کو بھی بدلنا چاہئے کہ دنیا میں ایسے شعبہ جات بھی ہیں جن میں عزت، مقام اور مرتبہ ملتا ہے۔ فن اور ادب ایسی چیزیں ہیں جس سے لوگوں کو مدتوں یاد ر رکھا جاتا ہے۔ اور مجھ جیسا ادب سے رغبت رکھنے والا شخص تو ریحان صدیقی اور شازیہ کدوائی جیسے گمنام لوگوں کوضرور یاد رکھے گا اور اپنا خراج عقیدت پیش کرتا رہے گا۔

حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ

حمزہ اشتیاق پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ روزنامہ افلاک سے منسلک ہیں۔ سیاسی و معاشرتی مسائل پہ اظہار خیال کرتے ہیں۔