Thursday, 21 November 2019

سیاسی سرکس

اس وقت ملک پاکستان میں سیاسی سرکس اپنے عروج پر ہے۔ میڈیا، ادارے اور عوام اس سرکس کو بڑھاوا دیئے ہوئے ہیں۔ اور ہم سب اس سرکس سے محظوظ ہورہے ہیں۔ حکومت اور عوام اپنے اصل مسائل سے ہٹ کر اس سرکس میں اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی دہائیوں سے ایک ایسا کلچر پروان چڑھ رہا ہے جس سے جانے انجانے ہماری قوم کی سوچ کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔ نواز شریف کی انسانی اور طبی بنیادوں پر ضمانت، آصف علی زرداری کا ہسپتال میں داخل ہونا، اور مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ اور دھرنا آج کل ہر زبان زد عام ہے۔ ہر طرف ڈیل ڈیل کا شور برپا ہے۔ پی ٹی آئی والے اسے ڈیل جبکہ مسلم لیگ ن والے اسے حق اور سچ کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ اس ملک میں پہلی بار نہیں ہورہا۔ ہماری بھولی عوام شائد یہ بھول جاتی ہے کہ یہ سیاسی سٹنٹس ہر دور میں ہوتے آئے ہیں۔ اور ہوتے رہیں گے۔ مگر دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ان سیاسی سٹنٹس میں عوام کا کیا بھلا ہے۔ کافی تگ و دو کے بعد ابھی تک مجھے مولانا کے دھرنے کا کوئی خاص ایجنڈہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ کچھ دانشوروں کی رائے ہے کہ سب ایک پریشر بنانے کے لئے کیا جارہا ہے جس کے نتائج نواز شریف کی ضمانت اور آصف علی زرداری کی سزا میں نرمی کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ میں تمام تر حالات سے باخبر ہونے اور انفارمیشن سورسز ہونے کے باوجود اس ساری صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔

مجھے یاد ہے کہ یہ سیاستدان جو اس وقت نہ جانے کس مقصد کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں یہ ہی لوگ عمران خان کے دھرنے کو خلائی مخلوق کی پشت پناہی سے تشبیح دیتے تھے۔ یہ ہی لوگ عمران خان کے دھرنے کی فنڈنگ اور طاقت کی منطق خلائی مخلوق سے جوڑتے تھے۔ آج وہی لوگ ملین مارچ اور اسلام آباد دھرنے کو جہاد تصور کرتے ہیں۔ یہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ ہی ملک کی اصل طاقت اور سلیکٹرز ہیں۔ وہ ہی عمران خان کو لے کر آئے اور انہوں نے ہی عمران خان کے دھرنے کو بھی سپورٹ کیا۔ تو میرا سوال بہت سادہ اور عام فہم ہے کہ جب ملک پاکستان میں ہر کام اسٹیبلشمنٹ کے زور بازو سے ہی ہوتا ہے تو مولانا کے مارچ اور دھرنے کے پیچھے کون ہے۔ تو نواز شریف اور آصف علی زرداری کو لے کر آنے والا کون تھا۔ ماضی میں جو دو جماعتیں ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور ضیاالحق کی اولادیں کہتے تھے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں ذاتیات اور خاندان تک کو نہیں بخشتے تھے آج کیسے ان کو عوام کا درد اتنا یاد آگیا کہ سب گلے مل بیٹھے ہیں اور عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے لگے ہیں۔ کیسے ان لوگوں نے ہزاروں ورکروں کی لاشوں کو بھول کر میثاق جمہوریت نامی بے تکی ڈیل کی جس کا عوام اور جمہور سے کوئی تعلق نہ تھا۔ تب بھی یہ میثاق تیسری پارٹی جو مشرف لایا تھا اس کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا اور اس کے بعد جب وہ ملکی سیاست میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی تو پھر ایک دوسرے پر زور آزمائی کرنے لگے۔ مگر پھر جب ایک تیسری پارٹی کا عروج آیا تو پھر سے ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ اب پھر ایسی ہی کوئی اندر کھاتے ڈیل کرکے مولانا کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلائی جارہی ہے۔ عوام کا اتنا درد ہے تو یہ پارٹیاں استعفے دے کر اسمبلی خالی کیوں نہیں کرتیں۔ عمران خان کے دھرنے پرکہا جاتا تھا کہ آپ کے پاس اسمبلی ہے اس میں احتجاج کریں۔ سپریم کورٹ ہے اس میں مقدمہ لڑیں۔ تو آج کیوں خود اسمبلی کی بے توقیری میں کود پڑے ہیں۔ کیوں کھلم کھل عدالتوں کو یک طرفہ ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں۔ کیوں ان اداروں کو خود ہی بے عصمت کیا جارہا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ ملکی معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوتے تو کیوں آج سڑکوں کو ہی چنا جارہا ہے۔ میری سمجھ سے تمام چیزیں بالاتر ہیں۔

مگر میری سمجھ میں جو چیزیں آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس ماہ میں FATF کا اجلاس پیرس میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس پاکستانی معیشت کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس میں پاکستاں کے بین القوامی کارورباری سٹیٹس کو طے کیا جانا تھا۔ ہم گزشتہ چند سالوں سے FATF کی گرے لسٹ میں شامل تھے۔ پاکستان FATF کی مقرر کردہ شرائط کو تقریباً پورا کرچکا تھا سوائے تین چار کے۔ پاکستان کے گرے سے وائٹ لسٹ میں جانے کے امکانات ہر ممکن حد تک روشن تھے۔ بھارت ہمیں گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کرنے میں ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہا تھا۔ FATF کی پاکستان کو دی گئی ایک اہم شرط یہ تھی کہ پاکستان اپنے ملک میں غیر قانونی اور مذہبی عسکری ونگز کو ختم کر ے گا۔ پاکستان نے اس شرط پر جی جان سے کام کیا۔ اور تقریباً تمام غیر قانونی عسکری ونگز کو نیوٹرلائز کر لیا گیا، اس میں گزشتہ حکومت کا بھی اہم کردار تھا۔ مگر پھر کیا ہوا۔ FATF کے اجلاس سے محض تین روز پہلے جمعیت علما ء اسلام نے دھرنے کے نام پر ایک عسکری ونگ بنایا اس کی باقاعدہ پریڈ کروائی۔ اس فورس کو ڈنڈہ بردار دکھایا۔ اور واضح طور پراس کی ویڈیو بنا کر اسے وائرل کردیا۔ بھارت اس ویڈیو کو پورے دو دن اپنے چینلز پر چلاتا رہا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو خوب بڑھاوا دیا۔ اور بھارت FATF کے ممبران کو خفیہ طور پر پاکستان کے خلاف اکساتا رہا۔ مگر اس ناپاک سازش کے باوجود پاکستان FATF کی بلیک لسٹ میں جانے سے بچا رہا۔

مگر یہ سب ڈرامہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا۔ مگر پاکستان کا میڈیا اس اتنے بڑے مسئلے پر خاموش ہی رہا اور دھرنا اور ڈیل کا واویلا کرتا رہا۔ بھارت تو اس سازش میں واضح طور پر شامل تھا مگر کیا ہمارے ملک کے چند عناصر بھی۔۔۔ خدا نہ کرے۔

یہ ہیں اصل مسائل جن پر بڑی صفائی سے پردہ ڈالا جاتا ہے۔ اور ایسے بے تکے موضوعات اور ان کی بحث و تکرار میں عوام کو ڈالا جاتا ہے جس کا کوئی واضح مقصد نہیں ہوتا۔ مگر ایسے ایشوز کو چھپانے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے میں اپوزیشن ہی شامل نہیں بلکہ موجودہ حکمراں جماعت بھی کسی طور پیچھے نہیں ہٹتی۔ اصل مسائل پر کام کرنے کی بجائے اپوزیش جماعتوں کی ہرزہ سرائی کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ ملک میں اس وقت شدیدمہنگائی، بحران اور انارکی چھائی ہوئی ہے۔ حکومت کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کا کوئی لائحہ عمل یا عمل واضح نہیں ہے۔ قانون کی حاکمیت، معیشت، معاشرتی مسائل غرض کے ہر طرح کے بحران سانپ کی طرح پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔ کاروباری تناؤ دو دہائیوں کی بد ترین سطح پر ہے۔ حکومت کسی معاملہ میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ غرض کہ ہر طرف سرکس لگی ہوئی ہے۔ اور عوام اپنی معصومیت کے باعث اس سرکس کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔  چہرے نئے ہیں کردار وہی ہیں۔ کہانی نئی ہے خلاصہ وہی ہے۔ حالات نئے ہیں مسائل وہی ہیں۔ مداری نئے ہیں تماشہ وہی ہے۔ ان سارے حالات میں غالب کا شعر یاد آتا ہے۔۔

بازیچہ اطفال ہے یہ دنیا میرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ

حمزہ اشتیاق پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ روزنامہ افلاک سے منسلک ہیں۔ سیاسی و معاشرتی مسائل پہ اظہار خیال کرتے ہیں۔