Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ / زندہ دلی کا آرٹ

زندہ دلی کا آرٹ

انکل کی عمر 55سال کے قریب ہوگی۔۔ دکھنے میں انتہائی سنجیدہ اور کم گو معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان کی طبعیت میں خوش اخلاقی اور زندہ دلی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ میں ان کے رویہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ آج کے اس مادی دور میں بھی بس خیالات اور تصورات سے خوش ہونے والے انسان ہیں۔ مہمان نواز ی اور عزت نوازی ان کے اندر قدرتی طور پر موجود ہے۔ ان کو کھانے اور کھلانے کا بھی شوق ہے۔ زرہ سی بات پر کھل کر قہقہ لگانا اور بات کر کے دوسروں کو ہنسانا ان کا فن ہے۔۔ عرصہ 22 سال فوج میں ملازمت کی اور اس کے بعد اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ زندگی کی دوسری مصروفیات بھی ہیں۔ مگر کبھی ان کی الجھن میں پڑ کر اپنی شخصیت کو متاثر نہیں کیا۔ بات کرتے وقت گنگنانا، ہر عمر کے انسان کو عزت دینا خواہ وہ چھوٹا ہے یا بڑا، ہر کسی سے دوستی بڑھانا، دوستوں جیسی گفتگو کرنا، اور پرجوش طریقے سے مخاطب ہونا ان کی خوبیوں میں شامل ہے۔ میں نے انکل سے ان کی اس پرجوش طبعیت اور اس عمر میں بھی جوانوں کی طرح ہشاش بشاش رہنے کا پوچھا تو ان کا جواب بہت متاثر کن تھا۔ کہنے لگے میں نے کبھی بھی کسی پریشانی کو خود سے بڑا نہیں سمجھا۔ اور خود پر حاوی نہیں کیا۔ میں بہت حیران ہوا۔ میں نے پھر پوچھا کہ انکل بعض پریشانیاں تو انسان کو توڑ دیتی ہے۔ اس کا اچھا خاصہ موڈ خراب کردیتی ہے۔ مگر آپ کی طبعیت میں کبھی اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔

وہ اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے آگے ہوئے اور ہاتھ میز پر رکھ کر دھیمے مگر پراثر انداز سے کہنے لگے کہ حمزہ صاحب! جب اللہ پاک فرماتا ہے کہ میں کسی پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ تو ہم انسان کیوں اس کو اپنے اوپر حاوی کرلیتے ہیں۔ جبکہ ہمیں اللہ نے بس کوشش در کوشش کرنے کا اختیار دیا ہے وہ کرتے رہنا چاہئیے۔ کوشش کرو اور نتیجہ اللہ پر چھوڑو کیونکہ اس سے آگے آپ بے بس ہو۔ اس سے آگے اللہ کا کام ہے انسان کا اختیار نہیں تو خواہ مخواہ خود کو ڈپریس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا الٹا آپ کی طبعیت میں مایوسی بڑھتی جائے گی۔ میں انکل کے اس دلچسپ تبصرہ سے بہت متاثر ہوا۔ میں نے پھر پوچھا کہ جناب آپ اس عمر میں بھی جوانوں کی طرح ری ایکٹ کرتے ہیں۔ گانے سنتے ہیں، گنگاتے ہیں، فیس بک کی ویڈیوز پر کھل کر ہنستے ہیں۔ ہمیں اور اپنے ملازموں تک سے دوستوں کی طرح باتیں کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت میں سنجیدگی کا عنصر بہت حد تک کم ہے۔ میری یہ بات سن کر انہوں نے ایک زور دار قہقہ لگایا۔ سامنے پڑا ہوا جوس کا گلاس اٹھایا اس کا ایک گھونٹ لے کر مخاطب ہوئے۔ دیکھو میں نے لوگوں کو سنجیدگی میں جا کر بور ہوتا دیکھا ہے۔ وہ خود پر سنجیدگی کا حصار باندھ لیتے ہیں۔ خود اپنے آپ کو عمر کی بیڑیوں میں باندھتے ہیں۔ سنجیدہ حرکات کر کے خود کو دانا ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ آہستہ آہستہ بور طبعیت ہوجاتے ہیں یہ بوریت انہیں اکیلے پن کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اکیلا پن ان کے اندر کیمیکل ری ایشن کرتا رہتا ہے۔ وہ بات بات پر چڑنے لگتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ جو کچھ میرے گرد یہ لوگ کررہے ہیں غلط کررہے ہیں۔ غصہ ان کو خالی کر دیتا ہے ان کے اپنے بھی پاس نہیں بیٹھتے۔ حالانکہ ان کے دل میں بھی گھلنے ملنے کی، بات کرنے کی، گھومنے پھرنے کی، دوستوں میں بیٹھنے کی، مذاق کرنے کی چاہ ہوتی ہے مگر ان کے گرد ان کی عمر کا ایک بے معنی عزر اور اس کی سنجیدگی کا تقاضہ انہیں یہ سب کرنے سے روک رہا ہوتا ہے۔ ایسا شخص جدیدیت کو نہیں اپناتا۔ اس کے ذہن میں نئے خیالات جنم لینا بند کر دیتے ہیں۔ یہ سب ہوتا تب ہے جب کوئی شخص خود کو زیادہ عمر والا سمجھنے لگتا ہے اور سنجیدگی کا غلاف چڑھا لیتا ہے۔ ہاں سنجیدگی عمر کا تقاضہ بھی ہے مگر وہ سنجیدگی کردار کی ہو نہ کہ مذاج کی۔ مذاج کی سنجیدگی آپ کو اندر سے بوڑھا کردیتی ہے۔ جب آپ اندر سے بوڑھے ہوتے ہو تو آپ کا جسم بھی بوڑھا ہونا شروع ہوجاتا ہے آپ عمر سے بھی بڑے لگنے لگتے ہو۔ آپ میں چارم کم ہونے لگتا ہے۔ اور اگر آپ زندہ دل رہو مذاج میں دلچسپی پیدا کرلو تو آپ بڑھتی عمر کو بھی اپنے پیچھے لگا لیتے ہو۔ آپ موت تک زندگی کو انجوائے کرتے ہو۔ یہ ایک آرٹ ہے۔ اور اس آرٹ کو ایک اصول کی طرح میں نے اپنے اوپر لاگو کررکھا ہے۔ میں نے کبھی خود کو بڑی عمر کا نہیں سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ میرے مذاج میں زندہ دلی موجود ہے اور میرے آپ جیسے کئی دوست ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ جو دیتے ہو وہی پلٹ کر آپ کے پاس آتاہے کیونکہ اللہ پاک ناانصافی نہیں کرتا آپ کسی کو عزت دو وہ پلٹ کر آپ کو ضرور ملے گی چاہے کہیں سے بھی ملے۔ آپ خوشیاں بانٹو اس کی تقسیم آپ کی خوشیوں کو ضرب دے دے گی۔ آپ مایوسیاں بانٹنا شروع کردوگے تو وہ آپ تک ریورس ہونگی اور آپ کو کھانا شروع کردیں گی۔ ان باتوں نے مجھے انکل کی شخصیت سمیت ان کی سوچ سے بھی بہت متاثر کیا۔ اسکے ساتھ ہی میں نے گفتگو کا سلسہ ختم کیا اور ان سے اجازت لے کر واپسی کیلئے نکل گیا۔

انکل کے زندگی گزارنے کے اس کلیہ نے میرے ذہن بہت سے خیالات کو جنم دیا کہ واقعی زندگی اللہ پاک کی طرف سے انسان کو دی گئی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہمیں اس کا بھرپور استعمال کرنا چاہئیے۔ پریشانیاں، غم، سکھ دکھ اس کا حصہ ہیں پوری زندگی نہیں۔ کوئی بھی فکر کوئی بھی پریشانی انسان کی استطاعت سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ہمیں اس کے حل کیلئے بھرپور کوشش کرنی چاہئیے اور اس کے بعد معاملہ اللہ کے حضور رکھ دینا چاہیے۔ کیونکہ اللہ ہی آزمائش دینے والا اور اس سے نکالنے والا ہے۔ اور وہ بہترین حکمت والا ہے۔ یہ معاملہ کامل ایمان ہونے کا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں بھرپور طریقے سے زندگی کو عمل میں لانا چاہئیے اپنے اندر کی خوش مزاجی اور زندہ دلی کو مرنے یا معدوم ہونے نہیں دینا چاہئیے۔ کیونکہ مزاج کی مردگی آپ میں بے چینی کو جنم دے دے گی۔ کسی حد تک انسان کو بے فکرا اوربے پرواہ ہونا چاہئے تاکہ کوئی حادثہ کوئی پریشانی آپ کو تبا ہ نہ کردے۔ آپ جو خود کے لئے چاہتے ہو وہ لوگوں کو بھی دینا شروع کردو۔ آپ تک وہ ضرور پلٹیں گی اور برکات دیں گی۔ یہ زندہ دل لوگوں کا آرٹ ہے جو آپ کی شخصیت کو پر اثر اور سحر انگیز کردیتا ہے۔

حمزہ اشتیاق ایڈووکیٹ

حمزہ اشتیاق پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ روزنامہ افلاک سے منسلک ہیں۔ سیاسی و معاشرتی مسائل پہ اظہار خیال کرتے ہیں۔