1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ابنِ فاضل/
  4. کرکٹ

کرکٹ

کہنے کو تو ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے۔ لیکن کرکٹ کی زبوں حالی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارا قومی کھیل ہے۔ گمان فاضل ہے کہ کرکٹ میں ہمارا برا حال اس لیے ہے ہم اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اگر ہم اسے کھیل سمجھیں تو شاید ہارنے کا اتنا افسوس نہ ہو۔ اب دیکھیں نہ بحیثیت قوم، تعلیم کو ہم نے کھیل بنا رکھا ہے اس لیے ہمیں اس کی ابتری پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔ کرکٹ سے پوری قوم کو جذباتی لگاؤ ہے سوائے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے۔ ان کو اس سے معاشی لگاؤ ہے۔

پوری قوم ہفتوں میچوں کا انتظار کرتی ہے۔ پھر دھڑکتے دلوں میں شکست کا خوف لیے سارے کام چھوڑ کر میچ دیکھتی ہے اور آفرین ہے ہماری کرکٹ ٹیم پر، اس نے کبھی جو قوم کو مایوس کیا ہو۔ ہمیشہ توقعات کے مطابق ہارتی ہے۔ البتہ وہ قوم سے مایوس ضرور ہوتی ہے کہ قوم اتنی دعائیں نہیں کرتی جتنی جیت کیلئے درکار ہوتی ہیں۔ ہماری ٹیم کی سب سے اہم خوبی اس کی مستقل مزاجی ہے۔ یہ اچھی ٹیموں جیسے آسٹریلیا، جنوبی افریقہ وغیرہ سے بھی آخری اوور میں ہارتی ہے اور بیکار ٹیموں جیسے کینیا، زمبابوے اور آئرلینڈ وغیرہ سے بھی آخری اوور میں ہی ہارتی ہے۔

جو لوگ کرکٹ کی زیادہ شد بد نہیں رکھتے وہ میچ کے متعلق ایسے پوچھتے ہیں، آج میچ کا کیا بنا، لیکن جو تھوڑی سمجھ رکھتے ہیں وہ ایسے پوچھتے ہیں کتنے سے ہارے۔ یا یہ کہ کتنے میں ہارے۔ البتہ ماہرین کا سوال ہوتا ہے بیٹنگ چلی؟ اور نوے فیصدی جواب ہوتا ہے کہ "نہیں"۔ ہاں البتہ دس فیصدی جواب ہوتا ہے کہ آج تو باؤلنگ بھی نہیں چلی۔ ویسے چلی تو کبھی ہم سے جمہوریت بھی نہیں ہے اور نہ کبھی کوئی تحریک اور تو اور ہماری تو گھر میں بھی کبھی نہیں چلی۔

کرکٹ میں ہماری مسلسل اور تاریخ ساز عدم فتوحات پر قابل خرگوشوی کی بھرپور تحقیق ہے۔ فرماتے ہیں پہلے پہل ہمیں کرکٹ بہت اچھی کھیلنا نہیں آتی تھی۔ سو ہم ہارجاتے تھے۔ پھر ہم نے سیکھ لی۔ لیکن جوے کی وجہ سے ہارتے رہے۔ کچھ عرصہ سے ہم نے جوے پر تو قابو پا لیا ہے مگر اب باقی ٹیموں نے بھی اچھا کھیلنا سیکھ لیا ہے۔ سو ہم ہارجاتے ہیں۔ ایک عورتوں کی بھی ٹیم ہے۔ اس میں تمام کھلاڑی عورتیں ہیں۔ لیکن وہ مردانہ وار مقابلہ کرکے ہارتی ہے۔

کہتے ہیں کرکٹ انگلستان والوں کی ایجاد ہے، یقیناً ہوگی۔ کیونکہ جتنی تاریخ ہم نے پڑھ رکھی ہے انگلستان والوں سے اس سے بھی بڑی بڑی اور تاریخی حماقتیں سرزد ہوچکی ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شریفوں کا کھیل ہے۔ اس بات پر البتہ ہمیں تحفظات ہیں، کیونکہ ہمارے علم کے مطابق شریف تو بہت بعد میں انگلستان گئے۔ شروع شروع میں یہ لوگ دن کے وقت کرکٹ کھیلتے تھے۔ ہوسکتا ہے کسی نے باور کروایا ہو کہ بنی نوع انسان کا عمومی چلن ہے کہ محزب اخلاق اور ناپسندیدہ کام رات کی تاریکی میں کیے جاتے ہیں۔ اب رات کے وقت کھیلتے ہیں۔

کرکٹ کھیلنے کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں۔ گیند، بلا اور کھلاڑی۔ اور ان تینوں میں سے بھی کھلاڑی سب سے اہم ہے۔ کیونکہ ان کے بنا گیند اور بلا بیکار ہیں، جبکہ گیند بلا نہ ہو تو کھلاڑی یسو پنجو یا چڑی اڈی کاں اڈا وغیرہ کھیل سکتے ہیں۔ ویسے قومی ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں کو گیند بلے کی موجودگی میں بھی چڑی اُڈی کاں اُڈا ہی کھیلنا چاہیے۔ اس میں پوری قوم کا بھلا ہے اور چڑی اور کاں کا بھی۔ کرکٹ ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ کیوں، نہیں جانتے مگر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ لگتے ہیں جب حریف ٹیم بیٹنگ کررہی ہو۔ اور بہت کم لگتے ہیں جب قومی ٹیم۔

کرکٹ آبادی سے دور کھلے میدان میں کھیلی جاتی ہے۔ نہایت منطقی بات ہے اور صرف کرکٹ پر ہی کیا موقوف صاحب، جنگی مشقیں، گولہ بارود کی ٹسٹنگ اور منشیات وغیرہ کو ٹھکانے لگانے جیسے سارے خطرناک کام بھی آبادی سے دور کھلے میدانوں میں ہی سرانجام دیے جاتے ہیں۔ البتہ اس کی ایک قسم محلہ کرکٹ ہوتی ہے۔ جو گلی محلوں میں نرم گیند اور سرگرم کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلی جاتی ہے۔ اس میں گیارہ کھلاڑیوں کی شرط بھی نہیں۔ دو لوگ بھی کھیل سکتے ہیں۔ بلکہ تین لوگ بھی۔ ایسی صورت میں ایک کھلاڑی دونوں طرف سے کھیلتا ہے بالکل اپنی پولیس کی طرح۔

ایسا نہیں کہ کرکٹ کا کوئی فائدہ نہیں۔ سانپ اور بچھو کے زہر کی طرح یہ بھی کئی طریقوں سے انسانوں کیلئے مفید ہے۔ نیک لوگ اس سے قوت برداشت میں اضافہ کرتے ہیں۔ جب کہ خراب لوگ گالیوں کی لغت میں۔ محلہ کرکٹ کے دم سے بہت سی صنعتوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ بطور خاص گیند، بلے، کھڑکیوں کے شیشے اور آئیوڈکس بنانے والی صنعتوں کو۔