مقتل کے دریچے سے نہ پھلوار دکھاؤ
گر میرا مقدر ہے، مجھے دار دکھاؤ
ڈوبے ہیں ستارے یہاں کتنے ہی زمیں پر
کربل سی اگر ہو تو شبِ تار دکھاؤ
اشکوں کے عوض بخش دے جنت کی جو کنجی
دل والو، کوئی ایسا بھی دلدار دکھاؤ
جو ابن علی نے کیا تحریر لہو سے
ایسا کوئی تاریخ میں انکار دکھاؤ
ملتا ہو جسے گریہ و ماتم کے عوض خلد
عالم میں کوئی ایسا خریدار دکھاؤ
جو یار کی آواز پہ مقتل میں در آئے
تم ابنِ مظاہر سا کوئی یار، دکھاؤ
کرتا ہوں اطاعت میں حسین ابن علی کی
تم جس کے مجاور ہو وہ دربار دکھاؤ