/ قصیدہ / کرن رباب نقوی / اِس لیے فکر سے مولاؑ نے بچا رکھا ہے

اِس لیے فکر سے مولاؑ نے بچا رکھا ہے

اِس لیے فکر سے مولاؑ نے بچا رکھا ہے 

میں نے غازیؑ کا عَلم چھت پہ لگا رکھا ہے 

روز ہوتی ہے مُلاقات شہِ مُرسل سے

میں نے گھر میں جو عزا خانہ سجا رکھا ہے

ہے عقیدے کا سفر جاری کئی صدیوں سے

حُب نے ہر شخص کو مُختار بنا رکھا ہے

تُم یہ کہتے ہو کہ تشہد ہے اضافی، بولو

اِس کو چھوڑیں تو بھلا دین میں کیا رکھا ہے

رابطہ کس سے کریں، کون تسلی دے گا

اِن عبا والوں نے دیں کھیل بنا رکھا ہے

اَب تو نُصرت کو چلے آئیں نا آقا میرے

ہر طرف کُفر نے کہرام مچا رکھا ہے

ایک لمحے میں تُمیں مولاؑ سکھا سکتے ہیں

جو سبق نسلِ یزیدی کو سِکھا رکھا ہے

جا زرا پُوچھ تو اُن سے کہ بَھلا کیا گُزری

تیرے اجداد کو انجام دِکھا رکھا ہے

جُھولتے دیکھ کِرؔن، بھاگ پڑی مُشکل بھی

نام مولا کا جو سینے سے لگا رکھا ہے