/ کرن رباب نقوی / حد سے بڑھنے لگی ہے خاموشی

حد سے بڑھنے لگی ہے خاموشی

حد سے بڑھنے لگی ہے خاموشی
اَب تو ڈسنے لگی ہے خاموشی

شور کرتا نہیں ہے تنگ زرا
مُجھ سے لڑنے لگی ہے خاموشی

ایسا ماحول کر دیا اِس نے 
اَب کھٹکنے لگی ہے خاموشی

اُس کے آتے ہی بام و دَر سے مِرے
کیسی جھڑنے لگی ہے خاموشی

مُجھ کو مبہوت اَب نہیں کرتی
دِل کو چُبھنے لگی ہے خاموشی

آؤ پھر سے نگر بساتے ہیں
مُجھ سے کہنے لگی ہے خاموشی

کوئی آئے تو چونک جاتی ہوں
کام کرنے لگی ہے خاموشی