/ قصیدہ / کرن رباب نقوی / جان کر نے کو ہوں قُربان، علیؑ وارث ہے

جان کر نے کو ہوں قُربان، علیؑ وارث ہے

جان کر نے کو ہوں قُربان، علیؑ وارث ہے 

مُجھ سے کہتا ہے یہ وجدان، علیؑ وارث ہے 

موت کے خوف سے گھبرا کے نہ واپس جانا

وہ بھی ہو جائے گی آسان، علیؑ وارث ہے

مُجھ سے بے کارنہ اُلجھو، یہ حقیقت سمجھو

بات اتنی ہے مِری جان، علیؑ وارث ہے

ایک میدان سجے گا میرے مہدی (العجل) کے لیے

میرا باقی ہے ابھی مان، علیؑ وارث ہے

جس قدر آج ہیں شامل تِرے لشکر میں ،لعیں!

سب نے ہونا ہے پشیمان، علیؑ وارث ہے

آخری سانس تلک جنگ رہے گی جاری

کوئی چھوڑے گا نہ میدان، علیؑ وارث ہے

پڑھ چُکی نادِعلیؑ،دیکھ تو ہوتا کیا ہے

مُشکلیں پل کی ہیں مہمان، علیؑ وارث ہے

یہ کفن کرب و بلا کا، یہ مِری خاکِ عدّن

میری بخشش کا ہے سامان، علیؑ وارث ہے

ساری ’’تلقین‘‘ میں بس اتنا سمجھ پائی ہوں

بے خطر چل سُوئے رضوان، علیؑ وارث ہے