1. ہوم
  2. نظم
  3. معاذ بن محمود
  4. پارسا اور فاحشہ
Maaz Bin Mahmood

پارسا اور فاحشہ

اس نے دعوت دی

میں نے قبول کی

وہ داعی ہو کے پارسا

میں مدعو پھر بھی فاحشہ

جسم میرا ہی تھا

آنکھ تیری تھی ظالم

تو ناظر رہا اور پارسا

میں حاضر ہوئی سو فاحشہ

محفل سجائی تو نے

جلوہ تھا میرا ہی مگر

تو میزباں بھی پارسا

میں مہماں ہو کر فاحشہ

تو چاہتا تھا جو جو

میں کرتی رہی وہ وہ

تو چاہ کر بھی پارسا

میں کر کے ہوئی فاحشہ

تو خریدنے پارسائی

آں پڑا بستر پہ میرے

تو خریدار ہو کے پارسا

تیرا مال میں، میں فاحشہ

تیری امارت کے بل پہ

ساری شہرت میری تھی

تو امیر رہ کے پارسا

میں مشہور ہوئی، سو فاحشہ

میری حدت کو پا کر

تو پگھلتا رہا کب تک

تو ٹپک ٹپک کے پارسا

میں جلتی رہی میں فاحشہ

تو زیر لباس شہوت میں رہا

میں بے لباس بے حس سی رہی

تو شہوت میں رہ کہ پارسا

میں برہنہ سو فاحشہ

تو باریش تھا میرے ساتھ تھا

میں بے پردہ تھی تیرے ساتھ تھی

تو مفتی تھا سو تھا پارسا

میں قندیل تھی، رہی فاحشہ

میں بھی آبرو تھی بے پاپ تھی

میں نے بھوک دیکھی تھی باپ کی

مجھے چاہ تھی اک بھائی کی

جو خریدے ماں کی دوائی بھی

مرا بھائی بھی اک مان تھا

تھا نشے میں دھت میری جان تھا

میری جان لے گیا پارسا

جو قتل ہوئی وہ میں فاحشہ