1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. معاذ بن محمود/
  4. سود، 1400 برس قبل اور آج

سود، 1400 برس قبل اور آج

میں نے عبد الجبار سے لاکھ روپیہ مانگا۔ عبد الجبار نے مجھے دے دیا۔ اس کی مہربانی۔

تب پیٹرول فرض کریں سو روپے لیٹر تھا۔ ڈالر بھی فرض کیا سو کا تھا۔ کوئی احمق ہوگا جسے یہ اندازہ نہ ہو کہ چینی، پیپسی، گنے کا رس، تانگے کا کرایہ۔۔ سب کے سب براہ راست یا بالواسطہ انہی دو اشیاء کی قیمتوں سے منسلک ہیں۔۔ ایسا کیوں ہے اس کی تفصیل خود ڈھونڈ لیں۔

سات سال بعد میں نے عبد الجبار کو لاکھ روپیہ واپس دے دیا۔

اب پیٹرول اور ڈالر دو سے کے ہیں۔ باقی تمام اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عبد الجبار کو مجھے قرضہ دے کر کیا ملا؟

ثواب؟

اوکے۔ دے دیا ثواب۔

اگر آپ کے مغز میں بھوسہ یا ثواب ہی بھرا ہے اس کے سوا کچھ نہیں تو الگ بات ہے۔ بصورت دیگر سادہ سا سوال ہے کہ کیا آپ کو یہاں عبدالجبار کی حق تلفی نظر نہیں آتی؟ سات سال پہلے عبد الجبار اس لاکھ کا اونٹ خرید سکتا تھا۔ آج گائے بھی نہیں آتی۔ کیا یہ حق تلفی نہیں؟

مان لیا آپ کے نزدیک نہیں۔

لیکن ثواب فراہم کرنے والے خدا ہی کی عطاء کردہ عقل سلیم نے دنیا بھر کے مسلمان غیر مسلمان معیشت دانوں کو اس بات پر متفق کیا کہ بہرحال یہ حق تلفی ہے۔ اور اس حق تلفی کی وجہ ہے depreciation یا پیسے کی قدر میں کمی۔

اس کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم یہ طے ہے کہ دور حاضر میں سات سال پہلے اگر لاکھ روپے میں اونٹ آتا تھا تو اب اونٹ چھوڑیں دو مناسب بکرے بھی نہیں آسکیں گے۔

اس depreciation کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پچھلے کئی برس پیسے کی قدر پر سوچ و بچار کر کے ایک انٹرسٹ ریٹ قائم کیا گیا تاکہ قرض دینے والے کے پاس قرض کی واپسی پر فقط ثواب کا چھنکنا باقی نہ رہے بلکہ اس کے حقوق کا بھی تحفظ رہے۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ بینک کے پاس ایک viable اور practical کاروباری نظام موجود ہوتا ہے جس سے وہ قرض دیتا اور لیتا ہے، پھر یہاں وہاں انوسٹ کرتا ہے اور یوں یہ نظام چلتا رہتا ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے افرادی قوت و دیگر وسائل بھی چاہیے ہوتے ہیں۔ لہذا انٹرسٹ ریٹ سیٹ کرتے ہوئے یہ اخراجات بھی ذہن میں رکھنے پڑتے ہیں۔

یہ ہوگئی آسان بھاشا میں depreciation اور جدید بینکنگ۔

اب آتے ہیں ایک عملی مثال پر۔

میں جس جگہ رہتا ہوں وہاں گھر آتا ہے کئی لاکھ ڈالر کا۔ اب فرض کیا میں بہت توپ بھی چلا رہا ہوں تو بھی اپنا ساری کی ساری تنخواہ بچا کر ایک سینٹ کہیں اور لگائے بغیر بھی اتنا پیسہ جمع کرنے میں 7 سال لگ جانے ہیں۔ آدھے بچاؤں تو 14 سال۔ ایک چوتھائی بچاؤں تو قریب چھبیس سال۔ اور جب میرے پاس کئی لاکھ ڈالر جمع ہوجائیں گے تو یہی گھر اسی depreciation کی وجہ سے ہوجائے گا کئی لاکھ ڈالر کا ڈیڑھ گنا۔ یعنی اب نئے سرے سے پیسے جمع کرنا شروع کروں۔

اس کی نسبت بینک مجھے کہتا ہے کہ اگر تمہاری اِنکم اتنی ہے کہ تم قرض لے کر واپس کر سکو تو ایسا کرو پہلے کئی لاکھ ڈالر کا بیس فیصد لا کر دکھاؤ۔ یہ اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ تمہاری اِنکم بھی سٹیبل ہے اور تم پیسے جمع بھی کر سکتے ہو۔ مزید برآں یہ پیسے ہمیں دے کر تم گھر چلانے کے قابل بھی رہو گے یہ بھی ثابت کرو۔ میں یہ سب کچھ کر دیتا ہوں۔ اس کے عوض بینک وہی گھر جو میں چھبیس سال بعد بھی نہ خرید سکتا ماہانہ اقساط پر مجھے خرید کر دیتا ہے۔ یہ قسط اس کرائے سے کم ہے جو میں موجودہ مالک مکان کو ابھی ہر ماہ دیتا ہوں۔ یعنی میں کرائے پر ہی رہوں تو تیس سال میں ناصرف میرے پاس سے تیس سال کا کرایہ جائے گا بلکہ بدلے میں مجھے گھنٹہ بھی نہیں ملے گا۔ میرا کوئی اثاثہ بھی نہیں بنے گا۔

اب یا تو اللہ اور اللہ کے دوستوں سے کہہ کر مجھے گھر دلا دیا جائے جو میرے جانے کے بعد میری اولاد کے سر پر چھت قائم رکھے۔۔ یا پھر مجھے اللہ کے دشمنوں سے ایک ایسا معاہدہ کرنے دیں جس میں میرا بھی فائدہ ہو، بینک کا بھی اور ریاست کا بھی تاکہ میں مر جاؤں تو میری اولاد کی کفالت ریاست کو نہ کرنی پڑے۔

کلامِ مقدس میں ایک قصہ موجود ہے مفہوم جس کا کچا پکا کچھ یوں ہے کہ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کی ممانعت تھی۔ اتفاق سے اسی دن مچھلیاں بھی زیادہ ترنگ میں ہوتیں سو جال میں خوب آتیں۔ ایک گروہ کے کسی ہوشیار نے طریقہ نکالا کہ جال ڈال کر چلے جاتے ممنوعہ دن اور اگلے دن آکر مچھلیاں نکال جاتے۔

خدا نے انہیں بندر بنا دیا۔

اگر نارمل بینکنگ کو ہفتے کے روز مچھلیاں پکڑنا سمجھ لیا جائے تو یقین کیجیے اسلامی بینکاری جمعہ کی شام کو جال بچھا کر خدا کے ساتھ بددیانتی سے بھی گیا گزرا کام ہے۔ میں اپنی دانست میں کم از کم ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

علمائے کرام سودی نظام کا بائیکاٹ کر لیں کرنا ہے تو۔ بچھا لیں وہ بھی جمعہ کی شام جال۔ ایک لاؤڈ سپیکر تو چائنہ سے مال لائے بغیر بن نہیں سکتا۔ نکال کر دیں کیش اپنے اسلامی اکاؤنٹ سے غیر اسلامی اکاؤنٹ والے کو جو چائنہ سے لاؤڈ سپیکر کے لیے مال منگوا سکے۔ پکڑ لیں جمعہ کی شام کو مچھلیاں۔

1400 سال پہلے اس طرح کی depreciation نہیں ہوتی تھی۔ 1400 سال پہلے مجبوری کے حساب سے شرح سود مقرر ہوتی تھی۔ ماں مر رہی ہے پیسہ چاہیے یہ لو سو دینار دو سو واپس دو گے۔ اونٹ خریدنا ہے ایک اور یہ پکڑو سو دینار ایک سو بیس واپس دے دینا۔ کوئی systematic process نہیں تھا کوئی standardization نہیں تھی۔ لہذا سود کی شکل تب کچھ تھی اب کچھ۔

یہ میری دانست ہے۔ غلط بھی ہو سکتی ہے اور اس سے اختلاف بھی ممکن ہے۔