/ نیاز احمد ڈیال / کسبِ کمال کْن

کسبِ کمال کْن

برناڈشا نے کہا تھا کہ"شہرت اور ناموری کی خواہش معمولی ذہن رکھنے والوں کی ایک کھلی کمزوری ہے جبکہ بڑا ذہن رکھنے والوں کی ایک پوشیدہ کمزوری ہے"۔ برناڈ شا کے یہ الفاظ مِن و عن سچائی کا پرتو لیے ہمارے گرد و پیش جگمگا رہے ہیں۔ کسی نہ کسی درجے میں ہم سب خود کو اپنے ہم جنسوں، ہم عصروں اور ہم چشموں میں مقبول او ر معروف بنانے کی کوشش میں سر گرداں رہتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ چاہنا اور چاہے جانا انسانی سرشت میں شامل ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں اور ہم چشموں میں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اسکی مہارتوں اور صلاحیتوں کا لوہا مانا جائے۔ اس کے نام ومقام کی گونج ہر سو سنائی دے۔ ایک حد تک ہمارے اندر ان احساسات، جذبات اور خواہشات کے پائے جا نے میں کوئی قباحت اور حرج نہیں، کیونکہ انسان کے اندر چھپے یہی احساسات اْ سے زندگی میں کچھ کر گزرنے پر اْکسا تے ہیں۔ اْس کے جذ بوں اور ولولوں میں تحریک (motivation) پیدا کرتے ہیں۔ تحریک لفظوں کی ہو یا جذبوں کی ہمیں زندہ رہنے کی نوید سناتی ہے، حالات کے مشکل دھاروں سے ٹکرانا سکھاتی ہے۔ دْکھ، سْکھ، غم، خوشی، کامیابی اور ناکامی ہرحال میں جینے کے ڈھنگ بتاتی ہے۔ زندگی میں جب کوئی تحریک نہ رہے تو وہ جمود کا شکار ہوکر یکسانیت کا روپ دھا رلیتی ہے، اور یکسانیت موت کا دوسرا نام ہے۔
زندگی مختلف رنگوں، روشنیوں، خوشبوؤں اور ذائقوں کے مجموعے کا نام ہے۔ اس میں چاشنی اْس وقت تک رہتی ہے جب تک ہم اپنے محسوسات، خواہشات اور جذبات میں اعتدال اور توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ لیکن جونہی ہم اعتدال و توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں تو زندگی افراط و تفریط کا شکار ہوکر خود ہمارے لیے لا ینحل سوال بن جاتی ہے۔ مسائل و مصائب کے اژ دھے منہ کھو ل کر ہمارے امن و سکون کا منہ چڑانے لگتے ہیں۔ ہمارے اندر حسد، بْغض، نفرت، انتقام، کینہ پروری، ہوس پرستی، خود غرضی، مایوسی اور ریا کاری جیسے قبیح و غیر اخلاقی جذبات جنم لینے لگتے ہیں۔ یہ مزموم اور خبیث احساسات انسان کی پاکیزہ روح کو گھن کی طرح کمزور کرنے لگتے ہیں۔ انسان انسانی اقدار اور اخلاقی روایات کو پسِ پْشت ڈال کر تسکین محسوس کرنے لگتا ہے۔ دوسروں پر سبقت لے جانے میں ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ خود غرضی اور ہوس پرستی کا ناگ پھن پھیلائے انسانی قدروں کو ڈس کر زہریلا بنا دیتا ہے۔ اْسے اپنی ذات اور ذاتی مفادات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ دفتر ہو یا گھر، محلے داری ہو یا رشتے داری وہ اپنے ساتھیوں کو بچھاڑنے اور نیچا دکھانے کے لیے ہمہ وقت منفی اور غلیظ پرو پیگنڈوں میں مصروف رہتا ہے۔ حسد کی آگ لاوا بن کر ہر وقت اْس کے دل و دماغ میں ایک بے چینی سی پیدا کیے رکھتی ہے۔ بْخل اور بْغض اْسے خود غرضی اور اناء پرستی کی بھینٹ چڑھاکر انسانیت کے ارفع و اعلیٰ مقام سے گرا دیتے ہیں۔ اپنی جھوٹی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے وہ دوسروں پر دشنام درازی اور الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔
حضرت عمرْؓ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے "حسد ایک آگ ہے جو حسد کرنے والے کو بھی جلاتی ہے اور جس کے لیے حسد کیا جائے اْسے بھی نقصان پہنچاتی ہے"ثابت ہوا کہ حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں اپنے سکون و اطمینان کو جھونک دیتا ہے۔ انسان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ماہرین کے مطابق عام طور پر انسانوں میں دو طرح کے ا حساسات پائے جاتے ہیں، احساسِ برتری اور احساسِ کمتری؛ان احساسات میں مبتلا ہونے کے لیے عمر، عہدے یا شعبے کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ احساسِ کمتری میں مبتلا افراد خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے کمتر ہونے کا احساس ہی انہیں دوسروں سے حسد، بغض اور بخل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ جبکہ احساسِ برتری میں گرفتا ر افراد اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ دوسروں سے اعلیٰ درجے کے انسان ہیں۔ یوں اْن کی یہ سوچ انہیں دوسروں پر فوقیت جمانے پر ابھارتی ہے، اور وہ حقارت، نخوت اور خود غرضی جیسے رذیل جذبات سے سرشار ہو کر معاشرے میں بد امنی، انتشار اور خلفشار کا باعث بن جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں دفاتر میں اس طرح کی صورتحال اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک ہی ادارے اور ایک ہی پرو فیشن سے منسلک لوگ باہم حسد اور رقابت کے جذبات میں گرفتار نظر آتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کی بجائے اْن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، اْن کے کام کی حوصلہ شکنی کرنا سینئیر افراد اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں۔ محنتی، قابل اور ایماندار لوگوں کو طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے تنگ کرنا معمول کی بات ہے۔ با لخصوص ایسے افراد جو خود تو کچھ کرنے یا آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن قابل، محنتی او رآگے بڑھنے کا جذبہ اور ولولہ رکھنے والوں سے حسد کرتے ہوئے اْن کے خلاف سازشیں کرنے اور اْن کی ٹانگیں کھینچنے(leg pulling) پر ہی سارا زور لگاتے رہتے ہیں۔ بعض افراد اپنی چرب زبانی، خوشامد ی رویوں اور افسرانِ بالا کی مہربانیوں سے بڑا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں ہوتے یوں وہ اپنی نااہلی اور کم مائیگی کو چھپانے کی خاطر نئے آنے والوں کی ترقی میں حائل ہونے، ان کے راستے کی دیوار بننے میں عافیت خیال کرتے ہوئے منفی طرزِ عمل اپنا لیتے ہیں۔ اس موضوع سے متعلق ایک دانشور سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ؛"انسانی صلاحیتیں پانی کی طرح ہوتی ہیں اور پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ جہاں سنگلاخ چٹانیں حائل ہوں وہاں پانی زیرِ زمین اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور موقع ملتے ہی چشمے کی شکل میں پھوٹ پڑتا ہے۔ "با لکل اسی طرح قابل اور باصلاحیت لوگ بھی ہر طرح کے ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے کامیابیوں کا سفر جاری رکھتے ہیں۔ اْن کے لیے حاسدین، مْخالفین اور سازشی عناصر کی حرکات سنگِ راہ کی بجائے سنگِ میل کا کام دیتی ہیں۔ اور وہ " یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اْڑانے کے لیے " کے مصداق گھبرا کر اپنے عزم اور حاصلے کم نہیں کرتے بلکہ انہیں رکاوٹوں سے نئی ہمتیں اور نئی جہتیں میسرآتی ہیں۔ مقام اور ظرف دو الگ الگ پہلو ؤں کا نام ہے۔ مقام تو اکثر لوگوں کو مل جایا کرتا ہے لیکن ظرف بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ کم ظرف لوگ جلد ہی اپنے مقام و مرتبے کو خاک میں ملا لیا کرتے ہیں۔ اعلیٰ ظرف لوگ مقام کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ دوام کی تلاش میں سر گرداں ہوتے ہیں۔ زندگی میں مقام اور دوام کے حصول کا واحد راستہ مقصد سے پْختہ لگن اور کردار کی مضبوطی ہے۔ لگن کے سچے اور دْھن کے پکے لوگ یہ جان لیتے ہیں کہ ؂ 
بات کردار کی ہوتی ہے وگرنہ عارف
قد میں تو سایہ بھی انسان سے بڑا ہوتا ہے
ایسے لوگوں کو نہ صرف مقام ملتا ہے بلکہ دوام بھی نصیب ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آگہی کے دو جْزو ہوتے ہیں۔ علم اور حلم، علم بغیر حلم کے ایسے ہی ہے جیسے کشتی بغیر چپو کے، گاڑی بغیر انجن کے، بندوق بغیر گولی کے اور قلم بغیر سیاہی کے۔ لہٰذا جو لوگ اس حقیقت کو پا لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اْن کے اندر علم کے ساتھ ساتھ حلم بھی سرائیت کر نے لگتا ہے۔ اپنے ہم جنسوں، ہمعصروں اور ہم چشموں کے لیے عجز و انکساری، عفو و درگزر، ہمدردی، محبت، اْخوت، ایثار اور قربانی جیسے ارفع و اعلیٰ جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہمہ وقت اْن کے دلوں میں موجزن رہتا ہے۔ بْغض، حسد، نفرت، بْخل اور خود غرضی جیسے قبیح خیالات بھی اْن کی سوچ سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔
ہماری ایک بڑی معاشرتی بد نصیبی یہ بھی ہے کہ ہمارے اندر دوسروں کو تسلیم کرنے کی گنجائش اور حوصلہ نہیں پایا جاتا ہے۔ معروف دانشور سید واصف علی واصف ؒ مرحوم کے بقول "زندگی صرف "میں" ہی نہیں زندگی "وہ" بھی ہے زندگی "تو" بھی ہے"۔ جبکہ ہم "میں " کے حصار سے باہر جھانکنے کا تکلف ہی نہیں کرتے۔ راقم کی رائے کے مطابق زندگی میں سب سے مشکل اور بڑے دو کام ہوتے ہیں۔ اوّل اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور اْن کا ازالہ کرنا، دوم دوسروں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں دل سے سراہنا۔ یہ دونوں اوصاف صرف اور صرف اعلیٰ ظرفی اور حلیمئی طبع کی بدولت ہی میسر آسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے افراد جنہیں اپنے خْدا اور خْدا داد صلاحیتوں پر بھروسہ ہوتا ہے وہ کبھی بھی کسی کی صلاحیتوں اور کامیابیوں سے حسد کرتے ہوئے نا خوش اور ناشاد نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ "وقت سے پہلے اور نصیب سے زیادہ کسی کو ملاہے اور نہ ہی مل سکتا ہے"۔ جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے اور اللہ اچھا ہی کرتا ہے"۔ پر عمل پیرا ہوکر نہ صرف خود مْطمئن زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ خود سے جْڑے لوگوں کے لیے بھی باعثِ اطمینان ثابت ہوتے ہیں۔
شیخ سعدی ؒ نے مقام و دوام کے طالبوں کو اپنے مخصوص انداز میں بہت ہی خوبصورت پیغام دیا ہے کہ" کسبِ کمال کْن کہ عزیزی جہاں می شوی، یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ زمانہ تمہیں محبوب بنالے تو کچھ بہت ہی اچھا کر کے دکھاؤ۔ بقولِ شخصے ہمیشہ نظریات زندہ رہتے ہیں اور نظریاتی شخصیات کو دوام حاصل ہوتا ہے۔ ذاتیات پر مبنی خیالات بھی وقتی ور عارضی ہوتے ہیں اور ذاتیات ہمیشہ کی موت مر جایا کرتی ہیں۔ لہٰذا اگر تاریخ کے جھروکوں میں ذرا سا جھانکیں تو ان مٹ اور لازوال لوگوں کی روحیں یہی کہتی ملیں گی ؂ 
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ مرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے