/ نیاز احمد ڈیال / مردہ دل خاک جیاکرتے ہیں!

مردہ دل خاک جیاکرتے ہیں!

سوچ سے خیال، خیال سے نظریہ، نظریہ سے مقصد، مقصد سے تحریک، تحریک سے جستجواورجستجو سے کامیابی جنم لیتی ہے۔ کامیا بی خوشی اور آسودگی کا باعث بنتی ہے۔ آسودگی زندگی کے تمام تر رنگوں سے محظوظ ہونے کے مواقع مہیا کرتی ہے۔ اکثر لوگ صبح سے شام اور شام سے صبح کرلینے کو زندگی خیال کرلیتے ہیں۔ حالانکہ زندگی صرف زندہ رہنے یا سانس لینے کا نام نہیں ہے زندگی تو ایک مقصد، لگن اور جستجو کا نام ہے۔ جہدِ مسلسل اور خوب سے خوب تر کی جستجوہی زندگی ہے۔ بلکہ زندگی تو ایک ایسے گلدستے کا نام ہے جس میں محبت کی مہکاربھی ہے، نفرت کی یلغار بھی ہے۔ وصل کی راحتیں بھی ہیں، ہجر کی مشقتیں بھی ہیں۔ سکھ کی چاشنی بھی ہے، دکھ کی راگنی بھی ہے۔ خوشیوں کا سویرا بھی ہے، غموں کا اندھیرا بھی ہے۔ کامیابیوں کا سرور بھی ہے، ناکامیوں کا فطور بھی ہے۔ دوستی کا گلاب بھی ہے، دشمنی کا عذاب بھی ہے۔ قربتوں کی مٹھاس بھی ہے، دوریوں کی پیاس بھی ہے۔ پا نے کا کمال بھی ہے، کھونے کا ملال بھی ہے۔ خوابوں کی کتاب بھی ہے، حقیقتوں کا نصاب بھی ہے۔ زندگی سوال بھی ہے، زندگی جواب بھی ہے۔ عروج بھی ہے، زوال بھی ہے۔ اس میں نشیب بھی ہیں، فراز بھی ہیں۔ المختصرزندگی کے کئی ذائقے ہیں اور کئی روشنیاں ہیں۔ کئی راستے ہیں، کئی موڑ ہیں۔ کئی قافلے ہیں، کئی منزلیں ہیں۔ کئی رنگ، کئی روپ ہیں، کہیں چھاؤں تو کہیں دھوپ ہے۔
ہر انسان کو زندگی ایک نئے رنگ اور نئے ڈھنگ سے ملتی ہے۔ بعض لوگ زندگی سے عجیب و غریب تو قعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اسے اپنے انداز میں ہانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور منہ کی کھا تے ہیں۔ لیکن جو لوگ زندگی سے سمجھوتہ کرکے اور اس کی اہمیت کو مان کر جیتے ہیں وہی کامیاب و کامران کہلانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس حقیقت کو پا لینے میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں کہ؂ 
تونے چھیڑا تو یہ اور الجھ جائے گی
زندگی زلف نہیں جو کہ سنور جائے گی
زندگی کے سب رنگوں سے استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سوچ و وچار کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ ہماری زندگی پر ہماری سوچ اور خیا لات مستقل طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ شیکسپئیر نے کہا ہے کہ" ہم وہ نہیں ہوتے جو کرتے ہیں بلکہ ہم وہ ہوتے ہیں جو سوچتے ہیں"۔ سوچ کا انداز ہی ہماری کامیابی یا ناکامی کا رخ متعین کرتا ہے۔ دکھ، سکھ غم وخوشی اور دیگر حالات و واقعات کا دارو مدار بھی سوچ ہی طے کرتی ہے۔ خوشحال اور آ سودہ زندگی کا ہماری ذہنی حالت سے گہرا تعلق ہے۔ مثبت اور تعمیری سوچ کوآسودہ حال زندگی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے۔ ماحول کی غیر موزو نیت، حالات کی نا موافقت اور معاشی و سماجی الجھنیں زندگی کو اس قدر پیچیدہ نہیں بناتیں جس قدر ہم منفی و تخریبی سوچ کے انداز سے خود اپنے لئے زندگی کو مشکل اور تکلیف دہ بنا لیتے ہیں۔ ناقص منصوبہ بندی، کاہلی، کام چوری، فضول خیالی اور حقا ئق سے نظریں چرانے کا طرزِ عمل بھی ہمارے انفرادی اور اجتماعی مسائل میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ علاوہ ازیں سائنسی ارتقاء اور مصروف زندگی کے بے ہنگم شور سے انسان ذہنی سکون اور قلبی اطمینا ن سے روز بروز محروم ہو تا جارہا ہے۔ خود پسندی، نفسا نفسی اور مادیت پرستی کا زہر اس کے روں روں میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ بد مزاجی، چڑچڑا پن، دوسروں کو کمتر خیال کرنا اور روپے پیسے کی دوڑ میں سبقت لے جانے کے رجحان میں اضا فہ ہو نے سے اخلاقی قدروں کی نا قدری عام ہو تی جا رہی ہے۔ حسد، کینہ اور بْغض جیسے جذبات روح کو گھن کی طرح سے کمزور کرتے جا رہے ہیں۔ روح کمزور ہونے سے ذہنی و جسمانی امراض کی بہتات ہو رہی ہے۔
خالقِ خائنات نے انسانی وجود کو تین اجزاء کا مجموعہ بنایا۔ روح، نفس اور جسد۔ روح کا مقام دل، نفس کا گھر دماغ اور جسد کامرکز جگر کو بنایا۔ دل میں قوتِ حیوانی پیدا کردی، دماغ میں عقلیہ و شہوانیہ طاقتیں رکھ دیں اور جگر کو قوتِ طبعی کا سبب بنادیا۔ قوتِ طبعی ایک ایسی صلاحیت کو کہا جاتا ہے جو پورے انسانی بدن کو حرارت پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ روح اور نفس کی صحت مندی یا بیماری کادارو مدار قوتِ طبعی پر ہو تا ہے۔ نفس کی غذا ہم نے اپنی خوراک کے ذریعے سے حاصل کرنی ہوتی ہے۔ اب اگر ہم شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی اشیاء کا استعمال کریں گے تو ہمارے اندر قوتِ شہوانیہ مضبوط ہو کر ہمیں حیوانی صفات سے متصف کردیں گی۔ اور اگر ہم عقلی جذبات کو بڑھاوا دینے والے اجزاء کا انتخاب کریں گے تو ہم قوتِ عقل سے ما لا مال ہو کر فرشتوں سے بھی بلند مقام پر فائز ہو کر ارض و سماء کو مسخر کرنے والے بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو قوتِ عقلیہ سے نواز کراپنا قربِ خاص عطا کیا، حیوانات کو شہوت کی طاقت فراہم کر کے ا نہیں کائنات کی رونقوں میں اضافے کا ذریعہ بنادیا۔ لیکن حضرت انسان کوعقل اور شہوت دونوں ہی دیں تاکہ وہ اپنے انتخاب کی بناء پر اپنا مقام خود بنائے۔ جب انسان قوتِ عقلیہ کا استعمال کرتا ہے تو وہ اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرکے مسجودِ ملائک کہلاتا ہے۔ لیکن جب وہ قوتِ شہوت سے مغلوب ہوتا ہے تو حیوانوں سے بھی کمتر درجے میں شمار ہونے لگتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری صلاحیتوں کے پروان چڑھنے میں ہماری غذا کا بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے۔ روح کی مضبوطی اور توانائی کے لئے اللہ کا ذکر پہلی غذا ہے۔ بطورِ مسلمان ہمارا ایمان ہونا چاہئے کہ" خبر دار!دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے" فرقانِ حمید کے اس حکم پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوں۔ ہمہ وقت اللہ کی یاد کثرت سے کریں۔ تاکہ روحانی طور پر ہم مضبوط ہو سکیں۔ علاوہ ازیں ایسی تمام غذائیں جو ہمارے دماغ کی مضبوطی کاباعث بنتی ہیں ہم ان کا استعمال تواتر سے کریں قارئین !حلال رزق ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کو اپنا کر ہم قوتِ عقلیہ سے سر فراز ہو کر قوتِ شہوانیہ کو مغلوب کر سکتے ہیں۔ عقل ہمیں برداشت، ہمت، طاقت، حوصلہ، عفو و درگزر، صلہ رحمی، عجز و انکساری، غمگساری ہمدردی اور ایثار و قربانی جیسے ارفع و اعلیٰ جذبات سکھاتی ہے۔ جبکہ شہوت سے غصہ، انتقام، نفرت، حسد، بغض، کینہ، کنجوسی، قطع رحمی، خود غرضی، سنگدلی اور طمع و لالچ جیسے قبیح جذبات کو ہوا ملتی ہے۔ لہ، ذا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ ہمیں کو نساراستہ اپنانا ہے تاکہ ہم اپنی منزل کو با سہولت پا سکیں۔ عقل کامیابی کی کلید ہے جبکہ شہوت ناکامی کا گڑھا۔ عقل کوشش اور سعیِ حاصل کو پروان چڑھاتی ہے۔ سعی حاصل تلاش و جستجو کو اجاگر کرتی ہے اور تلاش و جستجو سے منزل کا حصول ممکن ہو تا ہے۔ جبکہ منزل کے حصول سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہوا کرتی اور زندگی میں کامیابی پا نے والے انسان ہی صحیح معنوں میں" انسان "کہلانے کے مستحق ہو تے ہیں۔
مسکراہٹ اور غصہ انسانی طبیعت کے دو اہم جزو ہیں۔ ماہرین کے نزدیک مسکراہٹ سے انسانی چہرے کی ہشا شیت بشاشیت اور ترو تازگی میں اضافہ ہو تا ہے۔ اس کے بر عکس غصے سے چہرے پر پر مژدگی چھا کر اس کی چمک، دمک اور کشش ختم ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں غصیلی طبیعت کے مالک افراد اپنے جیون کو تو روگی بناتے ہی ہیں لیکن خود سے جڑے لوگوں کے لئے بھی ایک لا ینحل قسم کا مسئلہ بن کر ان کے آرام و سکون کو غارت کر کے رکھ دیتے ہیں۔ طبی نقطہ نظر سے غصہ پورے بدنِ انسانی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے با لخصوص نظامِ انہضام کو تو برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ نظامِ دورانِ خون میں بھی کئی ایک نقص واقع ہو کر امراضِ قلب کے مسلط ہو نے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا خوشگوار اور خوشحال زندگی کے لئے زندہ دلی سے جیتے ہوئے خود بھی خوش رہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ زندہ دل لوگ نہ صرف زندگی میں رونقِ محفل بن کر جیتے ہیں بلکہ بعد از مرگ بھی دوسروں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
؂زندگی زندہ دلی کا نام ہے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
موجو دہ دور میں تنگ دستی اور غربت کا خوف ایک ایسا مرض ہے جو ہر کسی کو لاحق رہتا ہے۔ اس خوف سے نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ آمدنی اورا خراجات میں توازن قائم کیا جائے۔ آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کی ایک حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ"میانہ رو کبھی تنگ دست نہیں ہوتا"۔ ایک عام مگر بڑی کہاوت بھی مشہور ہے کہ" چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ"۔ آمدنی اور خراجات کے ما بین توازن پیدا کرنے کی عادت اپنائیں۔ ریا کاری، نمود و نمائش او رناک اونچی کرنے کے شوق کو دفع کریں۔ ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ مالی فکر اور معاشی تنگی آپ کو کبھی تنگ نہیں کرے گی۔
اپنا اندازِ فکر، زاوئیہ نگاہ اور طرزِ عمل بدل لیجئے آپ کی زندگی بھی بدل جائے گی۔ ہمیشہ مثبت سوچ کو دماغ میں جگہ دیکر خود کو کئی ایک پریشانیوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ واصف علی واصف ؒ مرحوم نے کہا تھا کہ "پریشانی حالات سے نہیں ہوتی بلکہ پریشانی خیالات سے ہوتی ہے"۔ سوچوں کا تسلسل ہمارے چہرے، لہجے اور بدن پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ کا میابیوں اور خوشیوں کے بارے میں سوچنے والے اکثر و بیشتر کامیابیوں اور خوشیوں سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ جبکہ ناکامی اور افسردگی کی سوچ انسان کو کبھی آسود گی سے آشنا نہیں ہو نے دیتی۔
یاد رکھیں ہر کام کے لیئے ایک وقت اور ہر وقت کے لیئے ایک کام ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے اور گنجائش سے زیادہ نہ کبھی کسی کو ملا ہے اور نہ ہی مل سکتا ہے۔ حضرت امامِ غزالی ؒ نے فرمایا ہے۔ "انسان اپنے لیئے 80 % مسائل وقت سے پہلے اور گنجائش سے زیادہ مانگ کر خود پیدا کرتا ہے"۔ لہٰذا خواہش، کوشش اور توکل کے بعد مناسب اور موزوں وقت کے لیئے انتظار اور صبر کریں۔ نصیب کا لکھاکبھی ٹلتا نہیں ہے۔ جو آپ کا نصیب ہے وہ آپ کو مل کر رہے گا۔ غیر ضروری خواہشات اور توقعات سے بھی بچیں۔ کیونکہ خواہشات سے ضروریات جنم لیتی ہیں ضروریات توقعات کا باعث بنتی ہیں، توقعات سے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خدشات توہمات کا سبب بنتے ہیں۔ جب توقعات ٹوٹتی ہیں تو صدمات ملتے ہیں۔ خدشات بڑھتے ہیں تو خوف و ہراس پھیلتے ہیں۔ جبکہ توہمات ہمیں ناکامی، مایوسی، نا اْمیدی اور افسردگی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے دوست احباب اور عزیز و اقرباسے امیدیں باندھنا اور توقعات لگانا بھی ذہنی پریشانی کی وجہ بنتے ہیں۔ معروف دانشور منو بھائی کے بقول"یہ امید ہی ہے جو نا امید کرتی ہے اور توقعات ہی ہیں جو مایوسی پھیلاتی ہیں"۔ لہٰذا فضول اور بے کار کی توقعات سے بچیں۔ دوسروں سے کیے گئے اپنے اچھے سلوک اور دوسروں کے برے رویوں کو بھول جانا بھی ذہنی سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔ کبھی کبھی بھول جا نے کی روش بھی نفع بخش ثابت ہو تی ہے۔ شاید یہ شعر بھی شاعر نے کسی ایسی ہی صورت حال کے لئے لکھا تھاکہ؛؂ 
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
لیکن اکثر اوقات اپنے غلط رویوں اور دوسروں کے اچھے طرزِ عمل کو یاد رکھنا بھی ذہنی تسکین کا باعث ہو تا ہے۔ یوں اپنے نا مناسب کامو ں پر ندامت کا احساس ہوکر خامیوں پر قابو پانے کی سبیل ہاتھ آتی ہے۔ اور دوسروں کے احسانات کو یاد رکھنے سے احسان مندی اور مشکوریت کے جذبات پید ا ہوکر طبیعت میں فرحت و تازگی اور مزاج میں سرور و کیف آتے ہیں۔ مذہب انسان کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ مذہبی فرائض کی ادائیگی کا اہتمام باقاعدگی سے کریں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے سب کچھ ہونے کا یقین پیدا کریں۔ ذہنی اطمینان کا سب سے بڑا ذریعہ یقین ہی ہے۔ یقین کی پختگی سے انسان توہمات، شکوک و شبہات، انجانے خوف وسواس اور اندیشوں کے چنگل سے بچا رہتا ہے۔ مرحوم علامہ محمدا قبالؒ کے یہ اشعار گنگناتے رہنے سے بھی سوچ اور یقین کی کیفیت میں تبدیلی پیدا ہو کر زندگی اصل" زندگی " بنتی ہے۔ ؂ تیری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی۔ ۔ ۔ مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے
تیری دعا ہے کہ ہو پوری آرزو تیر
میری دعاہے کہ تیری آرزو بدل جائے