Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / نصرت جاوید / سوات کی پرامن فضا پھر بارود آلود

سوات کی پرامن فضا پھر بارود آلود

دو جمع دو برابر چار والے کلیے کے تحت دیکھیں تو ہفتے کی سہ پہر وادیٔ سوات کے علاقہ کبل میں ہوا حملہ ان ہی لوگوںکی کارستانی نظر آتا ہے جنہیں آج سے نو سال قبل ایک بھرپور کارروائی کے ذریعے اس علاقے سے بھاگ جانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ فوجی جوانوں کے لئے مختص گرائونڈ میں گھس کر جوواردات ہوئی اس نے آخری خبریں آنے تک گیارہ لوگوں کو شہید کیا۔ طویل عرصے سے پرامن دِکھتی فضاء غم وغصے سے بھرگئی۔ عام افراد میں یہ خوف بھی جاگزیں ہوا کہ خدانخواستہ سوات کہیں ’’خونی چوک‘‘ کے دنوں کو واپس تو نہیں لوٹ رہا۔ اس خوف کو ذہن سے دور رکھنے کے لئے دو جمع دو برابر چار والا کلیہ مزید منطقی محسوس ہوتا ہے۔ 

گزشتہ 20 دنوں کے دوران افغان دارالحکومت کابل میں پے در پے دہشت گردی کی تین بہت بڑی وارداتیں ہوئیں۔ افغان حکومت نے مبینہ طورپر پاکستانی سرپرستی میں متحرک ہوئے ’’طالبان‘‘ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ سوچنا لہذا ہرگز جائز ہوگا کہ افغانستان میں پناہ گزیں سواتی طالبان کے ذریعے کبل میں ’’بدلے‘‘ کی صورت نکالی گئی ہے۔ ذاتی طورپر اگرچہ مجھے اس ضمن میں دو جمع دو برابر چار والے کلیے تک محدود رہنے میں بہت دقت محسوس ہورہی ہے۔ 

نجانے کیوں مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ انگریزی فلم ’’کاسابلانکا‘‘ کی وجہ سے مشہور ہوئی Usual Suspects والی ترکیب کبل میں ہوئے سانحے پر منطبق نہیں ہوتی۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو روابط ہوئے ان سے قبل پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یہ اطلاع دی تھی کہ افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کی وجہ سے مطلوب ٹھہرائے 27 افراد کو ہماری سرزمین سے اٹھاکر گزشتہ سال نومبرمیں افغان حکام کے حوالے کردیا گیا تھا۔ شاید یہ حوالگی امریکی دبائو کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اسی باعث پاکستان کے خلاف تندوتیز بیانات دینے کے باوجود ایک اعلیٰ سطح افغان وفد گزشتہ ہفتے اسلام آباد آیا۔ ہماری سیکرٹری خارجہ کی قیادت میں ایک وفد اس کے فوری بعد اسلام آباد سے کابل بھی گیا۔ 

تمام تر تلخی کے باوجود ایسے رابطوں نے افغانستان میں متحرک ’’طالبان‘‘ میں یہ خوف پیدا کیا ہوگا کہ شاید ایک بار پھر ان کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کے لئے پاکستان میں چھپنا ناممکن بنادیا جائے گا۔ اسی خوف نے کبل کی واردات کروائی۔ اس کے ذریعے پاکستان کو یہ وارننگ دی گئی کہ وہ افغان طالبان کے ہمدردوں اور سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچے۔ 

دہشت گردی کے خلاف جنگ بہت طویل اورپیچیدہ ہوا کرتی ہے۔ یہاں دو جمع دو برابر چار والے کلیے معاملات کو ضرورت سے زیاد سادہ بنادیتے ہیں۔ وہ جنہیں Grey Areas کہا جاتا ہے، نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ 

طالبان کو کئی برس قبل ’’گڈ‘‘ا ور ’’بیڈ‘‘ میں بھی تقسیم کیا گیا تھا۔ ہماری ریاست کے لئے ’’گڈ‘‘ طالبان وہ تھے جنہوں نے فقط افغانستان ہی کو اپنا محاذ سمجھا۔ ہمارے علاقوں میں شورش کی کارروائیوں سے دور رہے۔ 

’’بیڈ‘‘ طالبان نے ریاست کے مقابلے میں پہلے سوات اور بعدازاں قبائلی علاقوںمیں اپنی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی۔ پے در پے فوجی آپریشنز کے ذریعے ان علاقوں میں حکومتی رٹ کو بحال کروالیا گیا۔ ٹھوس حقیقت مگر یہی رہی کہ ’’طالبان’’ ایک وسیع تر سوچ کے نمائندہ ہیں۔ یقینا وہ گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ان کے اہداف اور ترجیحات بھی اکثر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ وسیع تر تناظر میں لیکن وہ ایک Grand Idea پر متفق ہیں۔ اسی نظریے میں ریاست خواہ وہ افغانستان کی ہو یاپاکستان کی، کسی تقدیس کی حامل نہیں۔ ریاستی ڈھانچے کی دونوں ممالک میں تباہی یا کمزوری ہی اصل ہدف ہے۔ بھارت اور افغانستان میں موجود اس کے کارندوں نے اسی سچ کا استحصال کرتے ہوئے ہی پاکستان کے خلاف طالبانی Assets تیار کئے ہیں۔ پاکستان میں موجود افغان طالبان کے ہمدرد اور ممکنہ سہولت کار اکثر ان Assetsکی پہچان نہیں کر پاتے۔ 

دہشت گردی میں Sleepers Cell بھی اہم ترین حامل سمجھے جاتے ہیں۔ انتہائی کامیاب فوجی آپریشن بھی ان کاخاتمہ یقینی نہیںبناسکتے۔ ان کا توڑ فقط ہمہ جہتی ریاستی اقدامات اور ایک طاقتور متبادل بیانیہ تشکیل دینے کی صورت ہی ممکن ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ فوجی اعتبار سے حیران کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود ہماری ریاست Post Operation اقدامات کماحقہ انداز میں اٹھا نہیں پائی اور متبادل بیانیے والا معاملہ قطعاََ آگے نہیں بڑھا۔ 

ایسا ہوگیا ہوتا تو احسان اللہ احسان کو ٹیلی وژن پر ایک ’’معزز مہمان‘‘ کی صورت لانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ سوات کے ’’صوفی‘‘ کو ضعیف العمری‘‘ کا عذر تراش کر رہا نہ کر دیا جاتا۔ سوات آپریشن سے قبل جب وہاں کے مکین اپنے گھر بار چھوڑ کر بے کسی کے عالم میں مردان کی طرف قافلوں کی صورت سفر کر رہے ہوتے تھے تو میں دورانِ سفر ان سے باتوں میں مصروف رہتا۔ ان میں سے ہر شخص ملافضل اللہ کو نہیں بلکہ صوفی کو خود پر آئی قیامت کا ذمہ دار تصور کرتا۔ صوفی کی رہائی نے ان کے زخم یقینا ہرے کردئیے ہوں گے۔ صوفی کی رہائی نے مگر وقتی طورپر ہتھیار پھینک کر عام زندگی میں مشغول ہوئے Sleepers کو نیا حوصلہ بخشا ہوگا۔ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ نے جو ’’نئی‘‘ پالیسی دی ہے وہ ان کی نظر میں صدر بش کی نام نہاد وار آن ٹیرر کی نئی قسط ہوگی۔ ’’جہاد‘‘ برپا کرنے کا ایک اور بیانیہ۔ پاکستان اس نئے مرحلے میں ایک بار پھر شورش وبدامنی کا شکار بن سکتا ہے۔ ہمارے اس حوالے سے خدشات کومگر بدقسمتی سے دنیا میں سنجیدگی سے لینے کو کوئی تیار نہیں ہوگا۔ 

ٹرمپ کی ’’نئی‘‘ افغان پالیسی کے بعد ہمارے خطے میں جو ماحول بن رہا ہے اس پر غور کرنے کی ویسے بھی ہمارے میڈیا میں کسی کو فرصت ہی نہیں۔ ہمارے میڈیا پر حاوی Discourse ایک بار پھر سپریم کورٹ کے Activism پر فوکس ہو چکا ہے۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے بعد اب باری ہے توہین عدالت کے ذریعے نون کے لاحقے والی مسلم لیگ سے متعلق چند زبان دراز افراد کی ممکنہ نااہلیوں کی۔ سکرینوں پر رونق اور چسکے۔ سوات اور قبائلی علاقوں میں جو نئی فضا بن رہی ہے اس کے بارے میں سوچنے کی فرصت کسے؟