1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ثناء ہاشمی/
  4. تاحیات معافی کی درخواست

تاحیات معافی کی درخواست

ہمارے اخلاق اتنے پست ہوگئے ہیں کہ بعض اوقات حیرت تکلیف سے زیادہ شرمندگی ہوتی ہے، عورت کو ہم اتنا آسان ہدف کیوں سمجھتے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں مرد کو حق کس نے دیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کہ عورت پر جملے بازی کرے، اور اس پر ستم یہ کہ ہراسگی کرے، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا لکھوں، شاید مجھ بے حد غصہ اور بہت غم ہے کیوں اور کیسے کرتے ہیں یہ مرد اسطرح، آپ کو رتی بھر شرم نہیں آتی عورت کے ساتھ اپنے رویہ پر، آپکو کبھی شرمندگی نہیں ہوتی، کاش میں ان مردوں سے پوچھ سکوں کے اپنی بے غیرتی کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے انکے ہاتھ شل نہیں ہوئے؟ کس منہ سے اپنی ماں بہن بیٹی یا بیوی کا سامنا کرتے ہیں؟ جنسی ہوس کے مارے یہ مرد آخر کیا چاھتے ہیں؟

ایک وزیر بھرے جلسے میں کھڑے ہوکر ایک خاتون کی خوبصورتی پر اپنی مہر ثبت کرنے والے کون ہیں؟ کس نے اجازت دی ہے کہ وہ اس طرح کے جملے ادا کریں؟ سونے پہ سہاگہ پنجاب کی خاتون وزیر انکی آئیڈیالوجی سے متفق ہونے کا بیان دیں۔ میرے لئے یہ سب ناقابل برداشت ہے، لیکن میں کیا اور میری برداشت کیا، وقت کے وزیر اعظم اپنے کابینہ کی رکن کے آنسووں کے قصے کو طنز میں استعمال کرکے مخالف جماعت کے سربراہ کو آڑے ہاتھوں لیتے رہتےہیں، پڑھنے والوں کو یہ شکوہ نا ہو کہ بلاول بھٹو صاحب کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی اس پر مجھے کیوں گلہ نہیں، بے حد افسوس اور انتہائی قابل مذمت گفتگو ہے، لیکن میں عورتوں پر اس معاشرے کے مردوں کی اجاراہ داری پر نوحہ کناں ہوں۔۔ اور کیوں نا ہوں، ایک بینک میں کام کرنے والے اخلاقی پستی اور جنسی ہوس میں مدہوش شخص کی وہ ویڈیو جو وائرل ہوئی اور اسکے بعد اس کے خلاف کاروائی ہوئی، کیا یہ تسلی بخش ہے، میرے نزدیک اسکا جواب نا ہے وہ ویڈیو ناجانے کتنے لوگوں نے دیکھی ہو گی، اور اپنی طرف سے کئی باتیں بھی گھڑ لی ہوں گی، اس خاتون کے گھر کے مردوں کی نظریں اس عورت کے لئے مذید نئے سوالات کے ساتھ منتظر ہوں گی، اور اس مرد نامی جنسی ہوس کے مدہوش سانس لینے والی مخلوق کے لئے کوئی سوال نہیں،  بہت مجبور ہوکر یہ لکھ رہی ہوں اس مرد کی ماں، بہن، اگر بیوی اور بیٹی موجود ہیں انکے سامنے جاتے ہوئے کیا وہ شرمندہ ہے، میں نہیں جانتی لیکن مجھے اس مردوں کے معاشرے کا بخوبی اندازہ ہے، مجھے اس ویڈیو کی اخلاقی گراوٹ پر بات نہیں کرنی، مجھ شرم آتی ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہنے والے ہیں ہمیں عورت کی عزت کیوں کرنی نہیں آتی؟ خاتون کوئی بھی ہو اس پر اس مردوں کے تجزیے آخر کیوں آتے ہیں؟ اور یہ حق انہیں کیسے ملا؟ کس نے دیا؟ آج جب میں یہ لکھ رہی ہوں وزیراعظم کی زوجہ کے بارے میں بھی ایک خاتون نے نازیبا اخلاق باختہ اور پست الفاظ کہے اورا سکے بعد انکی شان میں بھی ٹوئیٹر پر ایک محاز جاری ہے، میں خاتون کے ٹوئیٹ اور انکے ٹوئیٹ کے بعد جوابی ٹوئیٹس کی پرزور مذمت کرتی ہوں، بشری بی بی، مریم بی بی، شیریں مزاری قابل احترام ہیں۔

خود کو بیچنے کے لئے عورت کے آنسو، اسکی خوبصورتی، اسکے منصب کا سہارا مت لیجئے اس لئے نہیں کہ یہ جانی پہچانی خواتین ہیں بلکہ اس معاشرے میں رہنے والی ہر عورت قابل عزت ہے اور اگر آپ عزت نہیں دے سکتے تو عورت کے بارے میں اپنے غلیظ زہن کی عکاسی بھی نا کریں، عورت سلیو لیس پہنے یا برقعہ مردوں کی نظروں کا اسکینئر انکے لئے ایک ہی ہے، ٹیچر ہو، بینکر ہو، ایئر ہوسٹس ہو، سیلز لیڈٰی ہو، ڈاکٹر ہو، یا کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو، عورت کا جرم یہ ہے کہ وہ عورت ہے اور اس پر ستم یہ کہ گھر سے باہر نکل کر روزگار کماتی ہے؟ اس کی جگہ تو گھر ہے، عورت باہر نکلی ہے تو پھر یہ بھی برداشت کرے، میں شرمندہ ہوں ان خیالات پر شاید میں لکھتی ہی رہوں اور میرے ہاتھ نا رکے اور اسکی بس ایک ہی وجہ ہے کہ یہ واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، کبھی ریپ، کبھی کینگ ریپ، کبھی کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی، کہیں کاری، کہیں ونی، کہیں سوار، کہیں جبری شادی، میری درخواست ہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد صاحب سے، وہ فیصل بینک کے ملازم کی حرکت کا نوٹس لیں اور اس شخص سے تحریری معافی طلب کریں اور جب تک یہ شخص حیات ہے یہ اپنی معافی کی درخواست عدالت میں جمع کرواتا رہے تاکہ احساس ندامت کے ساتھ معاشرتی سبق بھی جاری رہے، صوبائی، وفاقی پارلیمان کی خواتین برائے مہربانی، ایک دوسرے کی عزت کو مقدم جانیں، سیاست برائے سیاست نا کریں آپ عورت ہوکر ایک غلط رویے کو رد نہیں کریں گی تو ہم کس سے شکوہ کریں۔

ثناء ہاشمی

ثناء ہاشمی نے بطور اینکر اے آر وائی، بزنس پلس، نیوز ون اور ہیلتھ ٹی وی پہ کام کر چکی ہیں۔ ثناء آج کل جی نیوز میں کام کر رہی ہیں۔ ثناء کے کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔