1. ہوم
  2. قصیدہ
  3. شاہد کمال
  4. سوچتے کیا ہو تم ایسا نہیں ہونے دیتا
Shahid Kamal

سوچتے کیا ہو تم ایسا نہیں ہونے دیتا

سوچتے کیا ہو تم ایسا نہیں ہونے دیتا
عشق حیدر کبھی رسوا نہیں ہونے دیتا

میری شہ رگ میں لہو بن کے سفر کرتا ہے
میری تنہائی کو صحرا نہیں ہونے دیتا

ہر قدم سینہ سپر رہتی ہے نصرت اُس کی
مشکلوں میں کبھی تنہا نہیں ہونے دیتا

کچھ خبر ہے تجھے دنیا یہ سخی ایسا ہے
میری غربت کا تماشہ نہیں ہونے دیتا

زندگی اس کی تو فاقوں میں گزرتی ہے مگر
میرے گھر میں کبھی فاقہ نہیں ہونے دیتا

عشق حیدر مجھے مرنے نہیں دیتا شاہدؔ
مر بھی جاؤں تو یہ مردہ نہیں ہونے دیتا