1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. جو گزرتی ہے مرے دل پہ وہ اب مت پوچھو
Shahid Kamal

جو گزرتی ہے مرے دل پہ وہ اب مت پوچھو

جو گزرتی ہے مرے دل پہ وہ اب مت پوچھو
مجھ سے تم میری اداسی کا سبب مت پوچھو

چاہنے والا تمہارا ہوں یہی کافی ہے
اے مری جان مرا نام و نسب مت پوچھو

پھر وہ چہرہ ہے وہی خواب پریشانی ہے
پھر وہی بصرہ و بغداد و حلب مت پوچھو

کوئی لشکر ہے کہ شب خون کی تیاری ہے
شور کیسا ہے سر کوچہ شب مت پوچھو

ایک دریا ہے جو تصویر ہوا جاتا ہے
میرے اندر ہے کوئی تشنہ بلب مت پوچھو

بھوک کھا جاتی ہے آئین جہانگیری بھی
کس کو کہتے ہیں یہ تہذیب و ادب مت پوچھو

زندگی تجھ سے شکایت تو نہیں ہے لیکن
مجھ پہ دنیا نے جو ڈھائے ہیں غضب مت پوچھو