1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. چلو اک اور نیا آسمان دیکھتے ہیں
Shahid Kamal

چلو اک اور نیا آسمان دیکھتے ہیں

چلو اک اور نیا آسمان دیکھتے ہیں
اب ان شکستہ پروں کی اڑان دیکھتے ہیں

زمیں پکار رہی ہے بچھڑنے والوں کو
مسافروں کو پلٹ کر مکان دیکھتے ہیں

یہ سرکشی بھی عجب ہے مرے چراغوں کی
ہوائے کوچہ نا مہربان دیکھتے ہیں

کوئی تو سیل بلا خیز ہے تعاقب میں
جو کشتیوں کو مری بادبان دیکھتے ہیں

گلوئے خشک جو تیروں کی زد میں تھے کل تک
اب ان کے دست ہدف میں کمان دیکھتے ہیں

یہ شہر دل ہے وہی یا کہ دشت مقتل ہے
ہتھیلیوں پہ یہاں سب کی جان دیکھتے ہیں

دلوں کی بات یہاں پر سنی نہیں جاتی
یہاں پہ لوگ زبان و بیان دیکھتے ہیں