/ غزل / شاہد کمال / صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہے

صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہے

صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہے
وقت سے کھینچ کے رفتار الگ رکھی ہے

اپنے سائے سے الگ رکھا ہے سایہ اپنا
اپنی دیوار سے دیوار الگ رکھی ہے

اپنے کس کام کی لیجاؤ اُٹھا کر اس کو
وہ محبت کہ جو بیکار الگ رکھی ہے

دیکھ اُس دست ندامت میں سپر ہے میری
خوں میں ڈوبی ہوئی تلوار الگ رکھی ہے

جسم پہ رکھی ہے پوشاک ملامت اپنی
سر پہ اک تہمت آزار الگ رکھی ہے

وہ مرے سر کا خریدار ہے دستارکے ساتھ
ہاں مگر قیمت انکار الگ رکھی ہے

اپنےاشعار تو اوروں سے الگ ہیں لیکن
ہم نے کچھ اپنی بھی گفتار الگ رکھی ہے