1. ہوم/
  2. شاہد کمال/
  3. صفحہ 1

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیں

Shahid Kamal

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیںہم اپنی اپنی سہولت سے لڑتے رہتے ہیں کہاں کسی کو ہے فرصت کسی سے لڑنے کییہاں سب اپنی ضرورت سے لڑتے رہتے ہیں مداخلت نہیں کرتی

مزید »

پیام انسانیت، مشاعرئے کا انعقاد

Shahid Kamal

لکھنؤ گلوبل کنکشن اورانڈین مسلم ویلفیرایسوسی ایشن کے اشتراک سے ''پیام انسانیت'' کے نام سے ایک بہترین مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں بین الاقوامی شہرت کے حامل

مزید »

مشرق وسطیٰ میں تیسری اور آخری عالمی جنگ

Shahid Kamal

کسی بھی مسئلہ کے آخری اور حتمی فیصلے کو جنگ پر ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔چونکہ جنگ سے برآمدہونے والا نتیجہ ہمارے انسانی سماجیات کے نفسیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب

مزید »

ماں

Shahid Kamal

مرا وجود مری روح میری جان ہے ماںغموں کی دھوپ میں خوشیوں کی سائبان ہے ماں مرے وجود کے لہجے میں گفتگو اس کیمری زمین تخیل پہ آسمان ہے ماں اسی کا لمس حقیقت ہے است

مزید »

ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھو

Shahid Kamal

ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھونوکِ نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو لفظ وہ بھی ہے جو ادراکِ سماعت میں نہیںمیرے کانوں میں وہ رس گھول رہا ہے دیکھو مجھ میں

مزید »

صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہے

Shahid Kamal

صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہےوقت سے کھینچ کے رفتار الگ رکھی ہے اپنے سائے سے الگ رکھا ہے سایہ اپنااپنی دیوار سے دیوار الگ رکھی ہے اپنے کس کام کی لیجاؤ اُٹھا کر

مزید »

لوٹ کر پھر وہ اسیرانِ قفس بھی آئے

Shahid Kamal

لوٹ کر پھر وہ اسیرانِ قفس بھی آئے پھول شاخوں پہ چلو اب کے برس بھی آئے سبز جھیلوں میں اُترنے لگے خوابوں کے پرند شاخِ مژگاں پہ تری نیند کا رَس بھی آ

مزید »

عرب کے سرکش اونٹ کی آخری کروٹ

Shahid Kamal

دور اندیش افراد کی نگاہیں مستقبل میں زمانے کی کج رفتاری سے رونما ہونے والے وقوعات کو بآسانی درک کرلیتی ہیں، اور ان کے کانوں کی بصیرت زود ہنگام وقت کی آہ

مزید »

عجب نہیں ہے، کہ الزام میں نہیں آتا

Shahid Kamal

عجب نہیں ہے، کہ الزام میں نہیں آتا ہمارا نام کسی نام میں نہیں آتا میں کھولتا ہوں بدن کی گرہ تسلسل سے مگرجنون کی افہام میں نہیں آتا کسے مل

مزید »