/ نظم / شاہد کمال / ماں

ماں

مرا وجود مری روح میری جان ہے ماں
غموں کی دھوپ میں خوشیوں کی سائبان ہے ماں

مرے وجود کے لہجے میں گفتگو اس کی
مری زمین تخیل پہ آسمان ہے ماں

اسی کا لمس حقیقت ہے استخوانوں میں
مرے لہو کے نصابوں کے درمیان ہے ماں

دکھوں کے شہر بلاؤں کے زرد موسم میں
دعاے ردِّ بلا سورہ امان ہے ماں

یہ اس کی ذات مرا قبلہ نماز حیات
مرے وجود اقامت کی وہ اذان ہے ماں

مدار اسی پہ انساب آدمیت کا
کہ وہ سفینہ آدم کا بادبان ہے ماں

وہ جس جگہ پہ بہشتیں قیام کرتی ہیں
اسی زمین مقدس پہ آسمان ہے ماں

غموں کا زہر تو پیتی ہے اف نہیں کرتی
زبان رکھتے ہوے کتنی بے زبان ہے ماں

نوید صبح مسرت غموں کی رات میں وہ
مثال روح ہے اس پیکر حیات میں وہ

مشام گلشن جاں بسی ہے بو اس کی
دل و نظر کو ہے ہر وقت جستجو اس کی

سلگتی دشت سماعت پہ قہقہوں کی پھوار
میں اس کے لب کے تبسم کی آہٹوں کے نثار

برستے نطق کی رم جھم گھٹاؤں میں اکثر
وہ اپنے شبنمی لہجوں کی چھاؤں میں اکثر

لٹا کے پہلو میں جب لوریاں سناتی تھی
تب اس کے بعد کہیں مجھ کو نیند آتی تھی

کوائف دنیا سے بے خبر ہو کر
میں اس کے زانو پہ سوجاتا اپنا سر رکھ کر

نواح فکر کی آبادیوں میں دیکھ اسے
انھیں شعور کی رعنائیوں میں دیکھ اسے

عیاں ہو چشم حقیقت پہ راز ہستی کا
تو پھر سے چھیڑ دے اک بار ساز ہستی کا

کلیم طفل کی آغوش جلوہ گاہ طور
ہے میری ذات کو خود جس کی زندگی کو غرور

وہ شاہزادی اخلاص پیار کی دیوی
ہے آیتوں کی زباں پر بھی گفتگو اس کی

وقار حضرت حوا تقدس آدم
ہے سجدہ گاہ ملک اب بھی اس کا قدم

کسی کو اور زمانے میں یہ شرف نہ ملا
ہے اس کے پاے مقدس کے نیچ باغ ارم

ادھر بھی چشم عنایت اے رب جود و نمود
برہنہ روح کو کردے عطا لباس وجود

سکون دل کو نظر کو قرار ملتا ہے
شکستہ روح کو جب اس کا پیار ملتا ہے

سرود قلب کو پھر روح کیف پرور دے
خزاں رسیدہ نظر کو شگفتہ منظر دے

عروس صبح کی مشرق میں جلوہ آرائی
فشار روح ہے گویا وہ شام تنہائی

نسیم صبح کے جھونکوں سے چوٹ لگتی ہے
قباے پیکر احساس تار تار ہے یوں

علم ہیں زخم کے انفاس کی مناروں پر
کھلے ہیں اشک تبسم کی شاخساروں پر

سسکتی روح سے سہمے ہوے ہیں سناٹے
ہر ایک سمت ہیں خاموشیوں کے ہنگامے

گھٹن سی ہوتی ہے اس رنگ و بو کی محفل میں
اتر کے دیکھ ذرا میرے دیدہ و دل میں

ندی سے جھیل سے چشموں سے آبشاروں سے
کلی سے پھول سے خوشبو سے سنگ زاروں سے

خزاں کے ہاتھ پہ دم توڑتی بہاروں سے
نماز شب کی دعاؤں کے استعاروں سے

بریدہ حلق تبسم غموں کے خنجر سے
سسکتی شام کے اس اک اداس منظر سے

سکوت شب میں ستاروں سے چاند تاروں سے
میں پوچھتا ہوں ہر اک صبح اگتے سورج سے

مرے دکھوں کے اندھیرے سمیٹنے والی
کہاں گئ وہ اجالوں کو باٹنے والی

خزاں نصیب بہاروں کی گود کا پالا
میں ایک پھول ہوں اس مامتا کے آنگن کا

میں ایک طفلک بے دست و پا کی صورت سے
ہر ایک چہرے کو تکتا صرف حسرت سے

بس اس خیال سے وہ لوٹ کر کے آے گی
اور اپنی گود میں بڑھ کر مجھے اٹھا لے گی

لٹا کے پہلو میں وہ لوریاں سناے گی
اداس آنکھوں میں پھر سے بہار آے گی

اگر نہ پوری کسی بات کی ہو ضد میری
میں روٹھ جاؤنگا اور وہ مجھے مناے گی

وہ پونچھ کر مرے اشکوں کو اپنے آنچل سے
اجالے خوشیوں کے دامن میں میرے بھر دے گی

صدائیں دیتا ہے یہ ذوق بندگی اس کو
تلاش کرتی ہے بے نور زندگی اس کو

نوا سروش کوئی گیت گنگنا پھر سے
اے چاند تو ہی کہانی کوئی سنا پھر سے

یہ گیت اور یہ کہانی تو اک بہانہ ہے
وہ مجھ سے روٹھ گی ہے اسے منانا ہے

میں تنہا تنہا سا ہوں اور وحشتوں کا ہجوم
اداس اداس سی لگتی ہیں گھر کی دیواریں

خزاں کا جشن ہے دل کے اجاڑ گلشن میں
اداسیوں کا بسیرا ہے گھر کے آنگن میں

سکون راتوں کو دن میں بھی وہ قرار کہاں
حیات تجھ میں اب وہ رنگ اعتبار کہاں

سمجھ میں آتا نہیں یہ مقام دیں کس کو
تری بلند نگاہی کا نام دیں کس کو

زمین کس کو کہیں آسماں کہیں کس کو
حیات تو ہی بتا دے کہ ماں کہیں کس کو