1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. آج پھر رو برو کرو گے تم
Shahid Kamal

آج پھر رو برو کرو گے تم

آج پھر رو برو کرو گے تم
مجھ سے کیا گفتگو کرو گے تم

مجھ سے لوگے مرے لہو کے قصاص!
پھر مجھے سرخرو کرو گے تم

زخم پر زخم کھائے جاتے ہو
اور رفو پر رفو کرو گے تم

تم صف دوستاں میں ہو شامل!
پھر بھی کارِ عدد کرو گے تم

حیف ہو میری بد مزاجی پر
آپ اپنا لہو کرو گے تم

خود گنوا دو گے ایک دن مجھ کو
پھر مری جستجو کرو گے تم

ہم بھی مقتل میں سر کٹائیں گے
اپنے خوں سے وضو کرو گے تم

اے مری جان! عیب ہے یہ بھی
ہم کو تم، تُو کو تم کرو گے تم

میں تو شاہد بھی ہوں کمال بھی ہوں
میرے حق میں غلو کرو گے تم