Sunday, 15 September 2019
/ غزل / شاہد کمال / ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھو

ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھو

ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھو
نوکِ نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو

لفظ وہ بھی ہے جو ادراکِ سماعت میں نہیں
میرے کانوں میں وہ رس گھول رہا ہے دیکھو

مجھ میں دم توڑ رہا ہے مرے خوابوں کا چناب
کون آنکھوں میں گہررول رہا ہے دیکھو

جو ترے ہجر کے موسم میں گزارا ہم نے
وقت وہ بھی بہت انمول رہا ہے دیکھو

ہے کسی دستِ ہوس کار میں تیر اور کمان
پھر پرندہ کوئی پَر تول رہا ہے دیکھو