1. ہوم
  2. غزل
  3. شاہد کمال
  4. ہونا اگر یہی ہے تو پھر بے حساب ہو
Shahid Kamal

ہونا اگر یہی ہے تو پھر بے حساب ہو

ہونا اگر یہی ہے تو پھر بے حساب ہو
وہ کون ہے جو میری طرح سے خراب ہو

لازم نہیں کہ اُس کا نشانہ خطا کرے
ممکن نہیں کہ میرا ہدف کامیاب ہو

دستِ ہَوس کو بند قبا کھولنے تو دے
شاید کہ آج پھر کوئی چہرہ گلاب ہو

لگتا ہے مجھ کو تیری محبت بھی اِن دنوں
جیسے کسی غریب کی آنکھوں کا خواب ہو

یہ کیا ہوا کے اپنے مکینوں کو کھا گئی
ان بستیوں پہ جیسے خدا کا عذاب ہو

کس کام کی یہ خوفِ خدا کی حکایتیں
قتل حسینؑ بھی جہاں کارِ ثواب ہو

تو بھی زبانِ میرؔ میں جب گفتگو کرے
شاہد کمال تیری غزل لاجواب ہو