Thursday, 17 October 2019
/ آپ بیتی / سید حسین عباس / دورہِ مہا راشٹر

دورہِ مہا راشٹر

عرصہ دراز سے میرے چچا زاد بھائی کا اصرار تھا کہ میں مہاراشٹر میں انکے گھر آؤں، عمر کے اس حصے میں اگر چہ یہ کام مشکل معلوم ہوتا تھا مگر اب ان کے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا اس وجہ سے میں نے وہاں جانا  واجب سمجھا اور اس انتظام میں لگ گیا کہ کس طرح پہنچوں بھلا ہو فیڈکس والوں کا انہوں نے انڈیا کے ویزا کے حصول میں معاونت کر کے ایک بڑا کارنامہ کیا اور ہم عازم سفر ہوئے، ویزا 90 دنوں کا تھا ہم نے اپنے سفر کے راستوں کو اس طرح ترتیب دیا تھا کے کراچی سے زیرو پوائنٹ (کھوکھراپار) پھر وہاں کسٹم اور امیگریشن کی کاروائی کے بعد موناباؤ (انڈیا) بارڈر کے اُس پار جانا ہوتا ہے۔ زیرو پوائنٹ پر مسافروں کے لیے شیڈ کا انتظام کیا گیا ہے جس میں بیٹھنے کے علاوہ حوائج ضروریہ اور مسجد کا اہتمام ہے کراچی سے سفر جمعہ کی شام رات نو بجے سے شروع ہوتا ہے اور ہفتہ کی صبح زیرو پوائنٹ پہنچ جاتے ہیں، پھر امیگریشن اور کسٹم کی کاروائی سے فارغ ہو کر مونا باؤ کے لیے ٹرین پر سوار ہوئے اور شام کو موناباؤ میں داخل ہوئے۔ کوئی 15 منٹ میں موناباؤ (ہندوستان) کے بارڈر کے اندر پہنچ گئے یہاں ہندوستانی امیگریشن اور کسٹم کے لیے بہت شاندار شیڈ بنائے گئے ہیں مسافروں کی سہولت کی خاطر 10 سے زائد کاؤنٹر بنائے گئے ہیں جن میں ہندوستانی باشندوں کے لیے الگ اور پاکستانی مہمانوں کے لیے الگ الگ کاؤنٹرز بتائے جاتے ہیں۔ امیگریشن سے فارغ ہو کر کسٹم کی باری آتی ہے اگر چہ کہ کسٹم کے افسران بڑی اچھی طرح پیش آئے مگر پاکستان سے انڈین کرنسی لانا انکے لیے قابل اعتراض اور ناراضگی کا سبب تھی ان کے خیال میں یا تو پاکستانی کرنسی لانی چائیے تھی یا پھر ڈالر وغیرہ تبدیلی کے لیے بینک کی سہولت موجود ہے میرے پاس دو ہزار ہندوستانی روپے تھے جس پر کسٹم افسر بہت ناراض تھے بہر حال تھوڑی دیر انہوں نے انتظار کرایا اور پھرایک میٹنگ اور مشورے کے بعد مجھے تنبیہہ کی کے اب تو ہم چھوڑ رہے ہیں مگر آپ اپنے لوگوں سے کہہ دیں کے انڈین کرنسی نہ لائیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بعض دوسرے لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں بہ حق سر کار ضبط کرلی گئیں یہاں سے فارغ ہو نے کے بعد اگلی منزل کے لیے ریل کا ٹکٹ لینے گئے تو وہاں ایک فارم بھرنا پڑا جس میں نام، پاسپورٹ نمبر اور عمر کے اندرا جات تھے۔ سینئرسٹیزن کے زمرے میں آنے والے کے لئے آدھے کے قریب تخفیف کر دی گئی تھی ٹکٹ لے کر وہاں سے اگلی منزل (بھگت کی کوٹھی) جودھ پور کے لیے روانہ ہو گئے یہ سفر کوئی آٹھ گھنٹے کا تھا دوسری صبح وہاں پہنچ گئے اور سامان کے حصول کے بعد اسٹیشن سے نکلتے ہوئے دوپہر کے بارہ بج گئے تھے یہاں میرے دو بھتیجے سفر کے اگلے مراحل میں ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھے جلد ہی ہمیں ان کی آمد کے سبب کا احساس ہوگیا۔ کیوں کہ پورے سفر میں کہیں بھی کوئی بورڈ کوئی تحریر ہندی رسم الخط کے علاوہ کسی اور زبان میں نہیں تھی اور ہمارا عالم یہ تھاکہ، ’’زبانِ یارِ من ہندی ومن ہندی نمی دانم‘‘کہ میرے دوست کی زبان ہندی ہے اور میں ہندی نہیں جانتا۔ 

بھگت کی کوٹھی سے منزل کی جانب دوسری ٹرین کرنی تھی مہاراشٹر کے لیے رات آٹھ بجے ٹرین کی روانگی تھی درمیانی وقفہ ایک ہوٹل میں گزارا۔ اگر چہ دوسرے اسٹیشن پر (جہاں سے یہ ٹرین چلتی ہے) بھی چادر پچھاکر شام تک انتظار کیا جا سکتا تھا بہت سے مسافروں نے یہی طریقہ اپنایا، شام کو ٹرین پربھنی کے لیے روانہ ہوئی، دوسری صبح جلدی پہنچنے کی خاطر ہم منماڑ پر اُتر گئے اور جلگاؤں کے لیے دوسری ٹرین لی پھر جلگاؤں پر اُتر کر پر بھنی کے لئے ایک اور ٹرین پر سوار ہوئے۔ پر بھنی پہنچ کر ایک جیپ کے ذریعے پرلی پہنچے کیونکہ پرلی کی ٹرین چار گھنٹے بعد تھی۔ پرلی سے آٹو رکشا میں امبا جُگائی کوئی دو گھنٹے میں صبح چھ بجے پہنچے، استقبال کے لئے سب لوگ بے چین تھے انہوں نے سفر کی تھکن سے راحت کے لیے نہانے اور ناشتے کا انتظام کر رکھا تھا اس سے فارغ ہو کر بچوں سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہر کوئی خوشی کے مارے پھولا نہیں سما رہا تھا بچیاں اپنی پھوپھی پھوپھا اور دو بھائیوں کو بڑی محبت اور حیر ت سے دیکھ رہی تھیں کیونکہ اپنی پیدائش کے تقریباََ بیس بائیس سال بعد انہوں نے اپنے اتنے قریبی رشتہ داروں کو دیکھا تھا آج تک جو کہانی تھی ان کے سامنے حقیقت کا روپ دھارے ہوئے تھی میں بتانا بھول گیا کہ ان لوگوں میں سے چند ایک سال پہلے کراچی آ کر گئے تھے مگر کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا پھر اپنے گھر میں دیکھنے کی بات ہی اور ہوتی ہے ارادہ یہ تھا کہ اب ذرا نیند پوری کر لی جائے مگر بھائی نے کہا کہ پہلے پولیس میں اطلاع اور رجسٹری ضروری ہے لہذا صبح نو بجے بیڑ(Beed) کے لئے بس میں بیٹھے اور چار گھنٹے بعد پولیس ہیڈ آفس پہنچ گئے۔ شاید ہماری بد نصیبی تھی کہ ایس پی صاحب کسی ارجنٹ ضرورت پر دورے پر گئے ہوئے تھے۔ ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا۔ ہمیں انتظار کرتے ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے، متعلقہ افسر کی طرف سے دیرہوجانے کے لئے بار بار معذرت کی جاتی رہی اور انہوں نے چائے بھی پلائی، اور ہم دوستانہ ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ایس پی صاحب سے مسلسل رابطے میں تھے آخر کار رات گیارہ بجے ایس پی صاحب نے ریسٹ ہاؤس میں کھانا لگنے کے دوران ہم کو وہیں بلاکر کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے ایک خوشگوار انٹرویو کیا اور پھر اپنی عدیم الفرصتی کے لئے معذرت کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کے دوپہر کا کھانا اب کھانے کے تیاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کے آپ کو پریشان کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے آپ آرام و سکون سے رہیں مگر آپ کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے اس کے لئے ہم آپ سے رابطے میں رہیں گے اس میں آپ کو کوئی اہتمام نہیں کرنا ہے۔ 

پھر ایسا ہی ہوا کہ ان کے اہلکاروں نے دس روز میں ایک مرتبہ ملاقات کی اور ہمارے اصرار کے باوجود چائے یا کسی اور تکلف سے انکار کیا اور چلے گئے۔ میں اندر اندر بھائی سے بہت شرمندہ تھا کہ جب یہ لوگ کراچی آئے تھے تب ہماری پولیس کا رویّہ اس سے بہت مختلف تھا یہاں پر پولیس ہیڈ آفس میں کوئی نذرانہ یا فیس نہیں دینی پڑی تھی اور بیٹھنے کا معقول انتظام تھا اور تمام کاغذات اہلکاروں نے اپنی ضرورت کے مطابق فوٹو اسٹیٹ کیے تھے (کھانچے کے لئے) کسی حلف نامہ کی ضرورت نہیں تھی ہمیں بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ ہمارے ہاں آدمی کی عزت اور قدر کا رواج کب شروع ہوگا ہو سکتا ہے کہ اس الیکشن میں اگر ہم محب وطن اور ایماندار افراد کا چناؤ کرسکیں، گذشتہ الیکشن میں تو عوام کا کہنا تھا کہ ہم نے تو ووٹ ڈالے ہی نہیں تھے۔ پارٹیوں نے خود ہی ووٹ کے ٹھپّے لگا لیے تھے کہیں جان کا خوف تھا کہیں برادری کا ساتھ دینا ضروری تھا لہذا ہماری رائے کوئی کیسے جان سکتا تھا، ہمارا ووٹ ہماری مرضی کے بغیر ڈالا گیا اور آنے والے پانچ سال تک مینڈیٹ کی رٹ لگاتے رہے میں نے یہ محسوس کیا کہ اس نام نہاد مینڈیٹ نے حکمرانوں کو ہمارا آقا بنادیا تھا اور ہم انکے کمّی تھے، جبکہ انڈیا میں پولیس افسروں کو دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ عوام آقا ہیں اور سرکاری اہلکار ان کے خدمت گذار ہیں، کاش ہم بھی آزادی سے اپنے ووٹ کا اظہار کر سکیں۔ ’’پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ ‘‘ 

اب ذرا ٹرینوں کا ذکر ہو جائے کرائے بہت کم اور انتظام بہت اعلیٰ۔ ٹرین میں صاف ستھرے کھانے کی سہو لت اور سیٹوں کا آرام دہ سیٹ اپ قابل ذکر ہے پورے ہندوستان میں کہیں سے کہیں بھی کمپیوٹر پر بکنگ کی جاتی ہے (Senior Citizen) عمر رسیدہ افراد کا احترام، ان کے لئے رعایت اور فکر مندی بھی قابلِ ذکر ہے ویل چیئر وغیرہ کا انتظام قلیوں کا مناسب رویّہ اور احتیاط بھی دیکھی۔ دوران سفر ٹرین میں صفائی ستھرائی اور شفاف پانی کا اچھا انتظام موبائل چارجر کے لئے بجلی کے پوائنٹ پنکھوں اور روشنی کا مناسب سیٹ اپ، کمپیوٹر لیپ ٹاپ کے لئے وائی فائی (WiFi) کی سہولت آپ اس کے ذریعے (I-Phone) بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ان سب سہو لیات کا ہمارے ریلوے کے نظام سے کوئی موازنہ نہیں ہے کیونکہ یہ خبر تو آپکو بھی معلوم ہے کہ ہمارے ہاں ریلوے نظام کا کیا حشر کیا گیا اور وزیر ریلوے فرماتے ہیں کہ بہت سے ملکوں میں ریل کا نظام ہی نہیں ہے وہ حق بجانب ہیں کیونکہ اس بیان کے لیے ان کے پاس مینڈیٹ تھا۔ 

20 روز کی مہمان نوازی کے بعد ہم نے واپسی کا سفر کیا اور دوبارہ پولیس سے واسطہ پڑا۔ تمام مراحل اسی طرح آرام اور اطمینان سے حل ہوگئے ایس پی صاحب نے پھر ایک خوشگوار انٹرویو کیا جس کا اہم سوال یہ تھا کہ آپ کو ہمارے ہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی، ہم اُمید کرتے ہیں کے آپ پھر تشریف لائیں گے ہم شکریہ کے بعد وہاں سے واپس آگئے واپسی پر بھی کسٹم اور امیگریشن کے مراحل سے گذرنہ پڑا مگر یہ سب آسان ہوگیا۔ پاکستان کی سائیڈ پر بھی انہوں نے بڑی خندہ پیشانی اور حکمتِ عملی سے کام جلدی جلدی کرادیا۔ ایک بات کا احساس ہوا کہ پاکستان کی طرف شیڈکی گنجائش کم ہے اور پلیٹ فارم کا چبوترا نہ ہونے کی وجہ سے کئی خواتین اور بزرگ حضرات چھوٹے موٹے حادثہ کا شکار ہوئے ایک بزرگ خاتون کا ٹخنہ ٹوٹ گیا اور بہت تکلیف میں تھیں اگر چہ کہ ویل چیئر کا انتظام تھا مگر یہ تکلیف کا مداوا نہ تھا۔ 

زیرو پوائنٹ پر عملہ اچھا خوش مزاج اور معاون ہے اللہ کرے یہ روش بر قرار رہے اور آنے جانے والوں کو سہولیات میّسر رہیں۔

سید حسین عباس

سید حَسین عبّاس مدنی تعلیم ۔ایم ۔اے۔ اسلامیات۔ الیکٹرانکس ٹیلیکام ،سابق ریڈیو آفیسر عرصہ پچیس سال سمندر نوردی میں گذارا، دنیا کے گرد تین چکر لگائے امام شامل چیچنیا کے مشہور مجاہد کی زندگی پر ایک کتاب روزنامہ ’امّت‘ کیلیئے ترجمہ کی جو سنہ ۲۰۰۰ اگست سے اکتوبر ۲۰۰۰ تک ۹۰ اقساط میں چھپی۔