1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید محمد زاہد
  4. روح کا سودا، آخری شرط

روح کا سودا، آخری شرط

"لاؤ، معاہدہ دکھاؤ تم کوئی الٹی چال تو نہیں چل رہے؟"

گندھک کے غبار میں لپٹا چیلا سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے پر سمیٹتے ہوئے سنہری چمکدار کاغذات پر سرخ سیاہی سے لکھا معاہدہ اس کے سامنے رکھ دیا۔

"عجب بات کر رہی ہو! کیسا دھوکا؟ نیکی کا لالچ دینے والے ایسے کام کرتے ہیں۔ شیطانی کام صرف اعتماد پر چلتا ہے"۔

"تم نیک، نہ میں۔ کام کی بات کرو"۔

"میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔ دنیاوی دھندوں سے جب تمہارا دل بھر جائے اور تمہارا وقت پورا ہو جائے تو تم اپنی روح میرے حوالے کرو گی تاکہ میں اسے اپنے آقا، شہنشاہِ دوزخ، شیطانِ اعظم ابلیس کے حضور پیش کر سکوں"۔

"یہ تو تم بتا چکے ہو"۔ اس کا لہجہ پُر اطمینان تھا۔

"پھر کیا سوچ رہی ہو؟"

"کچھ بھی نہیں"۔

چیلے نے تیوری چڑھائی، "برائی کا کام کرتے وقت زیادہ نہیں سوچا جاتا"۔

اس نے معاہدے کے کاغذات سامنے پھیلا دیے۔ سرخ سیاہی ہلکی سی پھیل گئی تھی۔ پہلے پہل شیطانی معاہدات خون سے لکھے جاتے تھے لیکن دورِ جدید میں خون کے اور بھی کئی استعمال تھے اس لیے سرخ سیاہی کو متبادل کے طور پر اختیار کر لیا گیا تھا۔

"تو پھر معاہدہ پکا"۔ الفاظ کمرے میں گونج پیدا کر رہے تھے۔ چیلا خوش ہوا تو کمرے میں پھیلی گندھک کے دھوئیں کی بدبو اور بھی زیادہ ہوگئی۔

عورت پُرسکون بیٹھی رہی۔

ادھیڑ عمر عورت پچاس کے لگ بھگ دکھائی دیتی تھی۔ سرخ و سفید چہرے پر جھریاں نمایاں ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ بالوں میں کافی چاندی اتر چکی تھی۔ مزاج خوشگوار تھا اور مسکراہٹ نرم۔ ہر چیز سے بے نیاز دکھائی دے رہی تاہم مسکراہٹ میں اداسی تھی اور آنکھیں درد بھری۔ چہرے کی کتاب پر لکھا تھا کہ بہت کچھ کھونے کے بعد بھی وہ ڈگمگائی نہیں۔ اہم نقصانات کے باوجود وہ حوصلے میں تھی اور سوچ سمجھ کر معاہدہ کرنا چاہتی تھی۔

شیطان کا تجربہ کار چیلا انسانی جذبات سے کھیلنا جانتا تھا۔ محتاط ہو کر بات کر رہا تھا۔

کچھ دیر تک خاموشی سے بیٹھی رہی پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، "اس کے علاوہ کوئی اور شرط تو نہیں"۔ چیلا بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس عورت کی باتیں سن کے پریشان ہو رہا تھا۔

"جی نہیں"۔

"پکی بات ہے"۔

وہ کھڑا ہوگیا۔

"بس تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ کے کسی گڑھے میں بھیج دیا جائے گا"۔

وہ الفاظ کو چباتے ہوئے بول رہا تھا۔ جھک کر اپنا چہرہ اس کے برابر کیا۔

عورت ٹھوڑی پر ناخن سے خارش کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی، "تم کوئی خاص اچھے بروکر نہیں لگتے۔ اپنے سودے کی قدر اور حقیقت بھی ٹھیک طرح سے واضح نہیں کر پا رہے"۔

"تم نے اپنی روح ہمارے ہاتھ بیچی ہے۔ کیا تم کو لگتا ہے کہ اس خیال کا مذاق اڑانے سے تمہارا عذاب کم ہو جائے گا؟"

چیلے نے اڑنے کے انداز میں اپنے پر کھول دیے۔ کمرے میں ان کی حرکت سے بھونچال آ گیا۔ وہ معاہدہ چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔ آج تک کسی انسان نے ایسی باتیں نہیں کی تھیں۔ سب کو اپنی دنیاوی زندگی کی فکر ہوتی ہے۔

"تم لوگوں کو بیوقوف بنا لیتے ہو۔ میں ان جیسی نہیں۔ سوچ سمجھ کر ان کاغذات پر دستخط کروں گی"۔

بدروح کے چہرے سے خباثت ٹپک رہی تھی۔ وہ اسے گھورنے لگا۔

"تم نے اس سے پہلے عذاب کا ذکر نہیں کیا تھا"۔

چیلا بلبلانے لگا۔ "یہ کوئی بتانے والی چیز ہے۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ دوزخ میں سزا ہوتی ہے؟"

"تم نے روح خریدنے کی بات کی تھی۔ دوزخ کا تو ذکر ہی نہیں کیا"۔

"میں نے اپنے آقا، دوزخ کے شہنشاہ ابلیس اعظم کے نام سے بات شروع کی تھی۔ صاف بتایا تھا تمہاری روح آقا کے حضور پیش کر دوں گا"۔

"اس کا مطلب ہے کہ تم میری روح کو دوزخ میں لے کر جاؤ گے"۔

چیلا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ جسم کا سارا وزن دم پر پڑا تو درد سے چلا اٹھا۔

"جی، ہاں"۔

"میرے لیے یہ نئی بات ہے"۔

"کیا تم یہ سوچ رہی ہو کہ شیطان اعظم تمہیں دوزخ میں نہیں کسی اور جگہ رکھے گا؟"شیطان دانت پیستے ہوئے چلایا، "یہ عورت میرے لیے ناقابل برداشت ہو رہی ہے"۔

"میں جانتی ہوں لیکن مکمل طور پر سمجھنا چاہتی ہوں۔ تم نے معاہدہ کسی وکیل کی دستاویز کی طرح بڑا گول مول لکھا ہے"۔

"یہ شیطانی معاہدہ ہے صاف اور سیدھا۔ اس دنیا میں تم جو بھی گناہ کرنا چاہو، میرے آقا کی مدد تمہارے ساتھ ہوگی۔ دولت، حسن، جوانی تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیں گے۔ لوٹنا یا لٹانا، نشہ کرنا یا بیچنا، قتل کرنا یا جوا کھیلنا، ہر کھیل تم جیتو گی۔ طے شدہ مدت کے بعد تمہیں ہمارے ساتھ جانا ہوگا: دوزخ میں۔

تمہیں بتانا ہمارا کام نہیں۔ تمہیں خود علم ہونا چاہیے کہ دوزخ میں تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟"

چیلا اٹھ کر کمرے میں گھومنے لگا۔ ایسے سوالات کبھی بھی نہیں پوچھے گئے تھے۔ وہ اول فول بکنے لگا۔ عورت پر کسی بات کا کچھ اثر نہیں تھا۔

"معاہدہ تمہارے سامنے ہے۔ اس کو اچھی طرح پڑھ لو"۔

"میں سمجھ رہی ہوں لیکن کچھ سوالات ابھی باقی ہیں"۔

عورت بدستور پر سکون تھی۔ چیلے نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا۔

"ہاں پوچھو"۔

عذاب کیسا ہوتا ہے؟ تم تو ادھر آتے جاتے ہو گے۔ کیا یہ ہمیشہ چلتا رہے گا؟ کوئی چھٹی نہیں ہوگی۔ ساتوں دن 24 گھنٹے؟ کیا دوزخ میں 40 گھنٹے کا ہفتہ نہیں ہوتا؟"

وہ اسے گھورنے لگا۔

"عجب مضحکہ خیز بات کر رہی ہو۔ دل چاہتا ہے تمہیں ابھی قتل کرکے روح اپنے ساتھ لے جاؤں"۔

"قتل؟" عورت کے چہرے کا سکون یک دم غائب ہوگیا۔

"تم مجھے ڈرا رہے ہو۔

جب تک میں دستخط نہ کروں، تمہارا مجھ پر کوئی حق نہیں اور میں اس وقت تک دستخط نہیں کروں گی جب تک ساری شرائط کی سمجھ نہ آ جائے"۔

وہ سچ کہہ رہی تھی۔ چیلے کے چہرے سے اب خوف جھلکنے لگنے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر ناکام لوٹا تو شیطانی اعظم سخت سزا دے گا۔

ابلیس نے اپنے سب چیلوں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ انسانوں کو آسمانی امور کا زیادہ علم نہ دیا جائے، اگر وہ کچھ پوچھیں بھی تو تفصیل سے گریز کیا جائے، تاکہ وہ الجھن میں رہیں۔ مگر یہ ہوشیار عورت تو بال کی کھال اتار رہی تھی۔

پہلی بار وہ فانی مخلوق کے سامنے بے بس نظر آ رہا تھا۔

"مزید کیا پوچھنا چاہتی ہو"۔

عورت نے کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے صفحات پلٹتی رہی۔ اتنی سمجھدار عورت شیطان کے ساتھ کیوں معاہدہ کرنا چاہتی ہے؟ وہ سوچ رہا تھا۔ انسانوں نے ہمیشہ خدا کے ساتھ ساتھ شیطان کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کی اور ہمیشہ ناکام رہا۔ اس عورت کا بھی انجام یہی ہونا تھا۔ بس اسے صبر اور حوصلے سے عورت کو اپنے جال میں پھنسانا تھا۔

عورت نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ غصے بھرا چہرہ دیکھ کر بولی، "کیا تم ہمیشہ دھواں ہی اگلتے رہتے ہو؟"

وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ تیز سانسوں سے نکلتے ہوئے گندے کے دھوئیں کو کنٹرول کیا۔ زمین کی ٹھنڈی ہوا سر سے ٹکرائی تو غصہ ٹھنڈا ہوا۔ جون بدل کر انسانی روپ ڈھال لیا۔ یہ اس کی روایتی شکل تھی، گندمی رنگت، لمبا قد، مہذب باوقار چہرہ، گرے بال صاف ستھری تراشیدہ داڑھی۔ وہ جانتا تھا کہ عورتیں ایسی شکلوں پہ اعتماد کرتی ہیں۔ ان کو دھوکہ دینے کے لیے اس نے ہمیشہ یہ روپ اختیار کیا تھا۔ واپس کمرے میں داخل ہوا۔ عورت نے اس کی نئی شکل دیکھی تو ایک ہلکی سی اوہ، کی آواز اس کے منہ سے نکلی۔ آواز میں کوئی ہل چل نہیں تھی۔ چیلا اس کا رد عمل دیکھ کر حیران ہوگیا۔

"کیا یہ ناگوار شکل ہے؟"

"نہیں، نہیں۔ بس تمہیں دیکھ کر مجھے کوئی یاد آ گیا"۔

اسے الجھن میں چھوڑ کر دوبارہ معاہدہ پڑھنے لگی۔ آخری صفحہ الٹا، "ٹھیک ہے۔ یہ سب ٹھیک اور اچھا ہے۔ لیکن دوزخ میں مجھے کیا سزا ملے گی؟ وہ واضح نہیں"۔

ابلیسی دستیار مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔

"میں تمہیں یہ اختیار دے سکتا ہوں کہ اپنی پسند کی سزا چن لو"۔

خوش ہو کر بولی، "ٹھیک ہے جب وہاں پہنچوں گی تو فیصلہ کر لوں گی"۔

بس اتنا بتا دو کہ مجھے کن لوگوں کے ساتھ رکھا جائے گا؟"

چیلا سوچنے لگا۔ "ہو سکتا ہے، قاتلوں کے ساتھ، چوروں کے ساتھ"۔

"سب قبول ہے بس مجھے تم عصمت دری کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہ رکھنا۔ مجھے ان سے نفرت ہے"۔

"ٹھیک ہے تمہیں قاتلوں کے ساتھ رکھا جائے گا"۔

"میرے آخری سوال کا جواب دے دو کہ یہ دوزخ کے حلقے کیسے بنتے ہیں؟"

عورت واقعی ایک مشکل معاملہ تھی۔ پھر ایک طویل بحث چھڑ گئی، چیلا اسے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا اور وہ سوال پر سوال اٹھاتی رہی۔ چونکہ اسے یقین ہو چلا تھا کہ معاہدہ طے پا جائے گا، اس لیے وہ کسی حد تک مطمئن تھا۔ کافی دیر کی گفتگو کے بعد آخرکار عورت نے معاہدے پر دستخط کر دیے، ایک کپکپاتی ہوئی سانس لی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ جاتے ہوئے اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ چیلے کے دل میں شدید غصہ تھا، جی چاہتا تھا کہ اسی وقت اس کی گردن دبوچ کر مروڑ دے۔ ابھی سے عذاب کا آغاز کر دے لیکن اسے یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ اس نے کامیابی سے ایک روح خرید لی، یہی کافی تھا۔

***

برسوں بیت گئے، شیطان اپنے کام میں لگا رہا۔ جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی، انسانوں کو اپنے جال میں پھنسانا اس کے لیے دشوار ہوتا گیا۔ بہت سے لوگ اب اس کے پاس آنا ہی پسند نہیں کرتے تھے۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ وہ نیک ہو گئے تھے، بلکہ اس لیے کہ ان کا آخرت پر ایمان متزلزل ہو چکا تھا۔ وہ جنت و دوزخ کی حقیقت ہی سے انکار کرنے لگے تھے۔ اپنے مفادات کے حصول کے لیے انسانوں نے نئے راستے تلاش کر لیے، اپنی روحیں شیطان کے بجائے دوسری منفی قوتوں اور تاریک طاقتوں کے حوالے کرنے لگے تھے۔ ابلیس کی توجہ بھی ایسے معاملات کی طرف زیادہ مرکوز ہوگئی تھی۔

چیلوں کو بدکاری، دنگا فساد، ظلم و زیادتی کے کاموں سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ لیکن اس چیلے کے دماغ سے وہ عورت نہیں نکلی تھی۔

معاہدے کی مدت پوری ہونے والی تھی۔ چیلے نے ایک دن سوچا کہ اس عورت کو دیکھا جائے کہ وہ کیا کر رہی ہے؟ معلوم ہوا کہ وہ عورت شیطانی دولت کو خیراتی کاموں میں استعمال کر رہی تھی۔ سکولوں، ہسپتالوں پر اس نے پیسہ لگایا۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے فنڈز قائم کیے۔ یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کا سہارا بنی۔

اکثر بدکردار لوگ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے حرام کمائی کا کچھ حصہ نیک کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ شیاطین ایسی جاہلانہ روش کی چنداں پروا نہیں کرتے، کیونکہ جب یہی لوگ نیک نامی سمیٹتے ہیں تو عوام کے دلوں میں گناہ کا خوف اور برائی سے نفرت بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔ مگر ایسے لوگ اپنی زیادہ دولت سمیٹ کر ہی رکھتے ہیں۔ وہ ان کے اپنے کام آتی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بھلائی جنم لیتی ہے۔ پھر شیاطین کے دنیاوی کارندے اسی دولت پر ٹوٹ پڑتے ہیں، چھینا جھپٹی کا بازار گرم ہو جاتا ہے، زمین فساد سے بھرنے لگتی ہے اور ابلیس مسکراتا رہتا ہے۔

لیکن جب وہ عورت مرنے کے قریب پہنچی تو اس نے اپنی ساری دولت سماجی بہبود کے اداروں میں تقسیم کر دی۔ جب چیلے نے اس کی روح اپنے آقا کے حوالے کی، تو شیطانِ اعظم اسے دیکھتے ہی غضبناک ہو اٹھا۔ اس پر آگ کے شعلے برسائے، مگر وہ اس عالم میں بھی پوری طرح مطمئن رہی۔

کئی برس بیت گئے، مگر اس عورت کا سکون چیلے کے لیے معمہ بنا رہا۔ ایک روز وہ قاتلوں کے ایک حلقے میں جا نکلا۔ آگ اور خون سے بھرے اس گڑھے میں وہی عورت اپنے بیٹے کے ساتھ نہایت سکون سے بیٹھی تھی۔ اسے دیکھتے ہی وہ بولی، "میرا بیٹا شیطانی کاموں میں الجھ گیا تھا۔ اس نے قتل کیے اور پھر خود بھی قتل ہوگیا۔ میں جانتی تھی کہ اس کا انجام جہنم ہے۔ مگر جہاں میرا بیٹا ہو، میرے لیے وہ جگہ جہنم نہیں"۔