Thursday, 17 October 2019
/ آپ بیتی / سید تنزیل اشفاق / دوستی، یادوں کے جھروکے میں۔۔

دوستی، یادوں کے جھروکے میں۔۔

انسان کو اللہ کریم نے احسنِ تقویم پہ پیدا فرمایا ہے اور حضرت انسان کو وہ کچھ عطاء کیا ہے جس کا باقی جاندار شاید تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسی لئے شائد اللہ کریم نے حضرت انسان سے سوال کیا کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے؟ جس کا شاید انسان کے پاس کوئی جواب نہیں سوائے اس کے کہ میرے مولا، ہم آپ کی کسی ایک نعمت کا بھی شکریہ ادا نہیں کر سکے۔ کبھی سوچیئے تو سہی، سانسوں کا آنا جانا، ہمارے تمام اعضاء کا اعتدال پہ ہونا، بصارت کے ساتھ بصیرت کا ہونا کیا نعمت نہیں، کیا کبھی ہم نے ان سب کا شکریہ ادا کیا؟ انسان نے اللہ کریم کا تو خیر کیا شکریہ ادا کرنا ہے، آج کے انسان کے پاس اپنا شکریہ ادا کرنے کا وقت بھی مہیا نہیں۔ 

انسان  اللہ کریم کی وہ مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے شعور اور لاشعور جیسی نعمت عطا کی۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ شعور اور لاشعور کا باہم رشتہ کیا ہے؟ کبھی آواز آتی ہے کہ ان دونوں کے مابین رقابت کا رشتہ ہے، کبھی آواز آتی ہے کہ ان دونوں کی رقابت میں محبت کا جذبہ ہے۔ شعور وہ جو انسان کی ہر وقت دسترس میں ہے، لیکن لاشعور، شعور کی ضد ہے۔ جتنی آسانی سے شعور یادیں لوٹا دیتا ہے، لاشعور ماننے میں اتنا ہی ضدی۔ لاشعور کی مِنّت، ترلا کیا جائے اور مسلسل کیا جائے پھر بھی مرضی اپنی ہی کرتا ہے۔ لاشعور ماضی کی یادوں کا خزانہ ہے جسے کھولنے کے لئے جہد کرنا پڑتا ہے۔ آج کا کالم بھی ایسے ہی جہد کا نتیجہ ہے۔

دوستی اللہ کریم کی وہ عطاء ہے جس کے سہارے انسان بچپن کی توتلی زبان سے آغاز کرتا ہے اور تا وقت بڑھاپہ جب انسان کے اپنے بچے ساتھ نہ دیں تو دوست ہی اکثر کام آتے ہیں اور درد بانٹتے ہیں۔ ہماری زندگی کے بھی عجیب اتفاقات ہیں۔ ہمارے بچپن  کے دوست اور جوانی  کے دوست کا نام ایک ہی حرف سے شروع ہوتا ہے، بلکہ نام ہی ایک ہے۔ والدین کے ابتدائی حرف بھی ایک ہی ہیں۔ حتیٰ کہ ہم تینوں کے ناموں کا ابتدائی حرف بھی ایک ہی ہے، اور والدین کے ناموں کا ابتدائی حرف بھی ایک ہی ہے۔ ان میں سے ایک  مونث اور ایک مذکر۔

یہ بات تب کی ہے جب ہم پرائمری سکول کی منازل طے کررہے تھے۔ وہ ہم سے ایک کلاس آگے اور ہم ایک کلاس پیچھے، پھر یوں ہوا کہ انھوں نے سال میں دو، دو جماعتیں پاس کرنا شروع کیں لیکن ہم نے کچھوے کی چال چلنے میں بھی عافیت جانی۔ وہ اول درجے کی لائق اور ہم اول درجے کے نالائق۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک مقابلہ شروع ہوا، کلاس میں پوزیشن لینے کا، یہاں تو کسی نہ کسی طور ہم مقابلہ کر پائے مگر سال میں دو کلاسیں پاس کرنے کے محاذ پر ہم پسپا ہوتے رہے۔ دل ہی دل میں دکھ تو بہت تھا مگر کر کچھ نہیں سکتے تھے۔ حیرانگی اس بات پہ تھی  کہ کھیلنا بھی ہمارے ساتھ اور پڑھائی میں ہم سے آگے۔ وقت گزرتا رہا اور سال میں دو، دو کلاسیں پاس کرنے کی بدولت ہمارے اور انکے درمیان تعلیمی فاصلہ برھتا ہی رہا۔ 

میں وہ دور  کیسے بھول سکتا ہوں جب ہم دونوں سکول کی ہیڈ مسٹریس کی آنکھوں کا تارا ہوا کرتے۔ صبح کی اسمبلی کو کنٹرول کرنا ہو، یا قومی ترانہ پڑھنا یا سکول کے کسی فنکشن میں ملی نغمہ پڑھنا۔ ہم دونوں کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ ہم اپنے سکول کی جانب سے بزم نونہال میں شرکت کرتے۔ وہ اور ہم اپنی اپنی امیوں کے ساتھ، میڈم کی مہران گاڑی میں پہلی بار بیٹھے اور شرکت کے لئے گئے۔ ہمدرد کی جانب سے منعقد اس بزم نونہال میں ہم دونوں نے کلام پڑھا، تقریب کے اختتام پر ہمیں حکیم سعید شہید نے  اپنے ہاتھوں سے دستخط شدہ سرٹیفیکیٹ عطا کئے جو آج بھی ہمارے پاس محفوظ پڑا ہے اور بچپن کی یادوں کی اساسہ ہے۔

بچپن کے کھیل اور یادیں، اب بھی یاد ہے جب ہم کوکلا چھپاکی کھیلا کرتے۔ اب بھی ہمارے نتھتوں سے اس اچار کی خوشبو اور زبان سے ذائقہ نہیں گیا  جو انکے گھر بنا کرتا۔ پھر یوں ہوا کہ قدرت کے فیصلے کی بدولت اس دوستی کا رابطہ منقطع ہو گیا کہ زمینی فاصلے ذیادہ اور رابطہ کے ذرائع محدود اور مسدود۔ ایک مرتبہ ہم والدہ کے ہمراہ انکے گھر گئے۔ برسوں کے بچھڑے دو دوست جب آمنے سامنے ہوئے تو  ہمارے دوست نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دیا، ہم حیران پریشان، ہون کی کریئے، خیر ہم نے بھی خوشدلی سے ہاتھ ملایا، بیٹھے اور ماضی کی یادیں کریدنے لگے۔ اس موقعے پہ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی خاتون سے مخاطب ہیں۔

رابطہ ایک بار پھر منقطع ہوا، اب کی بار انکی شادی بھی ہو گئی اور ہم بہ وجوہ انکی شادی میں شرکت نہ کرسکے، جس کا پچھتاوا آج بھی ہے۔ لیکن ملاقات تب ہوئی جب ہماری بارات جا رہی تھی۔ میں ندامت کے ساتھ ہی ساتھ شکرگزار تھا کہ میری خطاء معافی کے قابل تو نہ تھی لیکن ان کا آجانا میرے لئے باعث خوشی تھا۔ اسی دوران ہمارے دوست نے ایم ایس سی سائکالوجی میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور ہم سادہ میڈل بھی حاصل نہ کرسکے۔ نصیب اپنا اپنا۔۔۔

ماں، باپ کی لاڈلی، ماں باپ کا سہارا، جب بیاہ دیا جائے تو صرف تصور ہی ممکن ہے کہ ماں باپ پہ کیا گزرتی ہے۔ ہمارے بچپن کا دوست بچپن میں بلا کا ذہین مگر اب بلا کا گھامڑ ہو گیا ہے۔ ویسے گھامڑ کا لفظ میں میں سنا ہی ہے، مطلب نہیں جانتا۔ پچھلے دنوں پھر سے ملاقات کا موقع ملا، دوران ملاقات اندازہ ہوا کہ میرے دوست نے ایک غلط فیصلہ کیا ہے۔ حد درجہ افسوس ہوا، اب تک کرب میں مبتلاء ہوں۔ اگر میرا دوست یہ کالم پڑھے تو اسے بتانا چاہوں گا دوست، ماں، باپ پھر نہیں ملتے، اپنی سزا بچوں کو نہ دو۔

خیر، یہ کالم کافی طویل ہو گیا، یادوں کا چشمہ کب یادوں کا دریا بن جائے پتا ہی نہیں چلتا۔ لکھنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے مگر اس مقام پر اپنے قلم کو روکتا ہوں اور پھر کسی نشست میں کچھ عرض کروں گا۔ میری دعاء ہے کہ اللہ کریم میرے ہردوست پہ اپنا فضل، کرم ، رحمت، کشادہ زرق، صحت، بخت اور اپنی نعمتوں سے نوازے۔۔۔



سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔