Thursday, 17 October 2019

امّی جی

سوچ رہا ہوں بات کہاں سے شروع کروں، کہاں سے ابتداء کروں کہ اس ہستی کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہے کہ اب لگتا ہے کہ شاید حد ہو گئی۔ مگر سچ یہ ہے کہ ماں کے بارے میں شاید حقیقی ادراک کسی کو بھی نہیں۔ میرے خیال میں ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں ایک وہ جو ہمیں سمجھ آ جائے، اور ایک وہ جو ہمیں سمجھ نہ آئے۔ ایک وہ جو ہمارے سامنے ہے اور ایک وہ جو ہم سے اوجھل ہے۔ ہماری ماں کے بھی دو روپ ہیں ایک وہ جو ہمارے سامنے ہے اور ایک وہ جس کا ادراک ہم نہیں کر سکے، یا شاید اس دنیا میں اس کا ادراک ممکن ہی نہیں۔ اب تک جو بھی ماں کے بارے میں گفتگو یا تحاریر رقم ہوئیں وہ ظاہری پیکر کے بارے میں ہیں۔ تو چلیں ہم بھی اپنی کتھا، اپنی ماں کے متعلق اپنے محسوسات تحریر کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔


امّی جی، وہ میٹھا اور شیریں نام جس کے لینے سے منہ میں ان چکھا ذائقہ محسوس ہوتا ہے، وہ نام جس سے روح کو قرار آتا ہے، وہ نام جس کے لینے سے تکالیف میں سکون میّسر آتا ہے۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی ہم پر وہ عطاء ہے جو اللہ نے اپنے فرشتوں کو بھی عطاء نہیں کیا۔ ماں وہ درخت کہ جس کی گھنی چھاوں ہمیں تمام مصائب و آلام کی تپش اور دھوپ سے بچاتی ہے۔ جو تمام قسم کی تکالیف اپنے اوپر جھیل کر ہماری نشو نما کرتی ہے اور ہمیں اس قابل کرتی ہے کہ ہم اپنے انا اور تکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میں"۔ وہ ماں جو کسی لالچ کی روادار نہیں، وہ ماں جو اپنے بچوں کو کبھی دل سے بددعا نہیں دیتی۔ وہ ماں کہ جو ساری زندگی ہمیں پروان چڑھاتی ہے اور کسی شے کی متمنی نہیں ہوتی، مگر ہم بڑھاپے میں انہیں طرح طرح کی تکالیف دیتے ہیں۔۔۔۔

میں اپنی ماں کو امّی جی کہتا ہوں، نجانے کب سے مجھے اپنی ماں سے محبّت ہے، شاید میرے وہم و گمان میں بھی نہیں۔ شاید جب زندگی کی رمق میرے اندر دوڑی تھی تب سے، یا شاید جب میں اپنی ماں کے حصّے کی غذا کھا جاتا تھا تب سے یا شاید جب میری وجہ سے میرے ماں تکلیف سہتی تب سے۔ لیکن میں جب سے ماں کی گود میں آیا ماں کو سراپا محبت و خلوص پایا۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں سو ماں کا سب سے ذیادہ پیار بھی میں نے پایا۔ اور میں ہی وہ ہوں جس نے ماں کو تکلیف بھی سب سے ذیادہ دی۔

غالباََ چار سال کی عمر میں سکول جانا شروع کیا، مجھے اب بھی یاد ہے صبح سویرے میری ماں مجھے تیار کیا کرتی اور سکول بھیجتی، اس کے بعد سارا دن گھریلو کاموں میں مصروف رہتی اس دوران جب میں دوسری یا تیسری جماعت میں تھا، سکول سے واپس آتا تو بلا کی بھوک لگی ہوتی، واپس پہنچنے پہ پتا چلتا آج تو کپڑے دُھل رہے ہیں اور آج کھانا نہیں بنا۔ پھر کیا ہوتا پارا فورا چڑھ جاتا اور غصّے اور بھوک کی وجہ سے دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا۔ لیکن ہمارا غصّہ بھی عجیب ہوتا، امی سے کہتا کہ میں خود روٹی بنا لوں گا اور پھر میں خود ہی روٹی نما کوئی شے بناتا اور امی کے لئے بھی غصے میں بنا دیتا۔ اور اسکے بعد جیسے تیسے ہم وہ روٹی نما شے کھاتے۔

زندگی چلتی رہی، وقت کے تھپیڑوں سے ساتھ ساتھ یہ رشتہ نبھتا رہا۔ جب کبھی میں بیمار ہوتا میری ماں اپنا آرام ترک کر کے ساری ساری رات میری تیمار داری میں لگی رہتی۔ ایک مرتبہ میں بہت بیمار ہوا، ساری رات امی میری تیمار داری کرتی رہیں۔ خدا جانے کب انکی آنکھ لگ گئی، مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہوئی، میں بتائے بغیر چل دیوار کا سہارا لے کر چل پڑتا کہ ان کو تکلیف نہ ہو اور فراغت کے بعد جیسے ہی باہر نکلتا اپنی ماں کو فکرمند کھڑا پاتا۔ اب بھی شادی شدہ ہونے کے باوجود میری ماں مجھ سے دیوانہ وار محبت کرتی ہے۔

میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جنھیں اللہ توفیق دیتا ہے کہ وہ ماں کے ہوتے ہوئے ماں سے پیار کریں، محبت کریں۔ جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔ میری ماں میرے بچوں سے بھی ویسے ہی دیوانہ وار محبت کرتی ہے جیسے وہ مجھ سے کرتی ہے۔ جس مقام پہ جا کہ ماں نے ہم سے محبت کی، ہماری خدمت کی، گو کہ ہم اس مقام پہ جا کر ماں کی خدمت نہیں کر پا رہے مگر صد شُکر کہ ہم اُن لوگوں میں سے نہیں جو ماں سے بدتمیزی کرتے ہیں۔ اب میری ماں بڑھاپے کا شکار ہے، کسی نہ کسی بیماری میں مبتلاء رہتی ہیں لیکن بطور مجموعی کافی بہتر ہیں، دل میں نہ جانے کیوں دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں میری ماں مجھ سے چھن نہ جائے۔ خُدا گواہ ہے میں محسوس کرتا ہوں کہ جتنا بھی وقت میسّر ہو اپنی ماں کی خدمت کر لوں، اپنی ماں کو راضی کرلوں کہ شاید یہی میرا توشہ آخرت ہو۔ شاید یہی میری بخشش کا سامان ہو۔ اب بھی، جب کبھی اکیلا محسوس کرتا ہوں تو ماں کی گود میں سر رکھ لیتا ہوں، واللہ، بہ خدا مجھے اتنی راحت ملتی ہے کہ جس کا بیان ممکن نہیں۔ میں خود پر اکثر حیران ہوتا ہوں کہ نہ جانے میرے پیارے اللہ نے مجھ میں وہ کونسی خوبی دیکھی جو مجھے میری ماں جیسی عظیم نعمت عطاء کی۔

لوگو، گواہ رہنا میں آج اقرار کر رہا ہوں، کہ میرے پلّے کچھ نہیں، نہ میں نیکوکار ہوں نہ میرے پاس نیکیاں ہیں، میں اس دنیا سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ میں اس دنیا سے اگر کچھ لے کر جا رہا ہوں تو اپنے ماں، باپ کی محبّت، ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت اور ان کی دعا لے کر جاوں گا۔ لوگو اللہ کی اس عظیم نعمت کی قدر کرو اس سے پہلے کہ یہ چھن جائے۔۔۔۔۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔