Thursday, 17 October 2019
/ آپ بیتی / سید تنزیل اشفاق / رحمت کی واپسی

رحمت کی واپسی

تاریخ تھی 19 اپریل 2017، اور دن تھا بدھ کا۔ یہ ایک گرم دن تھا۔ ہم حسب معمول دفتر کی ذمہ داریاں نبہانے میں مگن تھے۔ اسی دوران ہمیں ایک فون کال موصول ہوئی۔ دوسری طرف لہجہ گھبراہٹ والا تھا۔ گفتگو کا آغاز سلام دعا کے بغیر ہوا۔ آواز جانی پہچانی تھی لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ بدلی ہوئی تھی۔ جو الفاظ ادا ہوئے کچھ یوں تھے کہ بیٹا فوراََ  سے پہلے  ہسپتال پہنچو،  وہ آپریشن کے کمرے میں لے گئے ہیں۔ صورتحال کا کچھ کچھ ادراک تھا سو اپنا  کام  ادھورا چھوڑا، دفتر میں آگاہ کیا اور عازم ہسپتال ہوا۔

یہ سفر کیسے تمام ہوا کچھ بتا نہیں سکتا، ذہن کسی اور طرف مبضول تھا جبکہ جسم کہیں اور موجود تھا۔ راستہ بھر کیسے بچتا بچاتا آیا کچھ یاد نہیں۔ ذہن اور دل میں ایک ہی سوچ تھی کہ جلد از جلد ہسپتال پہنچا جائے۔ راستہ معمول سے بہت پہلے مکمل ہوا۔ گو کہ موسم شدید گرم تھا مگر اس کی پرواہ کسے تھی۔ جیسے ہی موٹر سائکل ہسپتال کے سامنے کھڑی کی ہسپتال داخل ہوا۔ بدحواسی میں پوچھا یہ مریض کہاں ہے۔ ان کو سمجھنے میں شاید مشکل پیش آئی سو انھوں نے دوبارہ پوچھا جی کون؟؟ خیر کچھ ہی دیر میں پتا چلا سو کمرے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ کمرے میں والدہ محترمہ پریشانی کے عالم میں اکیلے بیٹھی ہوئی تھیں۔ میرے پہنچنے پر انہیں کچھ ڈھارس ہوئی۔ میرے پوچھنے پر والدہ نے آگاہ کیا کہ 10-15 منٹ ہوچکے ہیں آپریشن تھیٹر میں۔ ابھی کچھ سنبھلے ہی تھے کہ 5 منٹ مزید وقفے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ رحمت میری والدہ کی آغوش میں تھی۔ اسے دیکھ کر شکرِ خدا ادا کیا۔ دل میں خیال آیا کہ میں اس قابل تو نہ تھا، لیکن اللہ کی عطا نے مجھے مزید شکر ادا کرنے کا موقع دیا۔

والدہ نے بیٹی کو کپڑے پہنائے، خدا گواہ ہے میں نے اللہ کی اس رحمت کے چہرے میں وہ عصمت، خوبصورتی، بالیدگی،  سادگی دیکھی کہ جسے دیکھ کر دونوں جہان وارنے کو جی چاہے۔  کچھ دیر کو بیٹی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہی تھاکہ ہسپتال انتظامیہ کہ طرف سے پیغام ملا کہ خون  کا ٹیسٹ کروانا ہے تاکہ بعد میں بہ وقت ضرورت خون لیا جا سکے۔ ابھی بیٹی سے دور جانے کا دل تو نہ تھا مگر جانا پڑا۔ بیٹی کو والدہ کے سپرد کیا اور چل پڑا۔ پانچ منٹ لگے خون کے ٹیسٹ میں مگر یہ پانچ منٹ ایسے گزر رہے تھے جیسے صدی گزرتی ہے۔ ٹیسٹ کروانے کے بعد فوراََ بیٹی کے پاس پہنچا۔ مجھے مزید وقت مل گیا کہ میں کچھ وقت اپنی نوزائدہ بیٹی کے پاس گزار پاوں۔

اتنی دیر میں برادر خورد بھی آپہنچا، کہنے لگا یہ کپرے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے میں اور کپڑے لے کر آتا ہوں، جبکہ میں گُھٹّی کا سامان لینے بازار چل پڑا۔ واپسی پر والد محترم کا انتظار کرنا شروع کر دیا کہ وہ آئیں اور گھٹی بھی دیں اور بیٹی کے کان میں آذان و اقامت کہیں۔ ابھی کچھ وقت گزرا ہی تھا کہ ہسپتال انتظامیہ کا فرد خبر لے کر آیا کہ آجائیں بلیڈنگ کروا لیں۔ میں اپنے بھائی کے ہمراہ اس غرض سے چل پڑا۔ بلیڈنگ کروانے سے پہلے اپنی جیب میں موجود سامان بھائی کے حوالے کیا۔ وہ مجھے یہ کہہ کر نظروں سے اوجھل ہو گیا کہ میں آپ کے لئے جوس لے آوں۔ دس منٹ بعد بھائی کو باہر جاتے دیکھا، لیکن میں پوچھ نہیں سکا کہ کہاں جارہے ہو۔ کچھ دیر بعد بلیڈگ ہو جانے کے بعد بھائی اور والدہ کی تلاش کی لیکن وہ نظر نہ آسکے۔ کچھ پریشانی ہوئی کہ خدا خیر کرے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ امی اور والد محترم  نظر آئے۔ امی نے آگاہ کیا کہ بچی کو چلڈرن ہسپتال لے گئے ہیں کہ اتنے میں والد محترم کو فون آیا جو انھوں نے میری طرف بڑھا دیا۔ فون بھائی کا تھا۔ اطلاع یہ تھی کہ رحمتِ خداوندی اب ہمارےپاس نہیں رہی۔ یقین کرنا مشکل تھا سو دوبارہ پوچھا کہ کیا کہا؟؟  میں سمجھا شاید میں درست طریقے سے سن نہیں سکا لیکن اطلاع وہی تھی۔ سو ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ بلک بلک کرنے رونے لگا اور آنسووں کی جھڑی لگ گئی۔ والدہ کی بھی یہی حالت تھی۔ لیکن جلد خود پر قابو پا لیا۔

اب طے یہ پایا کہ والدِ محترم گھر جائیں اور بھائیوں کے ہمراہ بیٹی کو دفنا آئیں۔ مجھے بلایا گیا لیکن مجھ میں اتنا حوصلہ کہاں تھا کہ وقت آخر بیٹی کو دیکھ سکوں اور دفنا سکوں۔ اب میرے سامنے ایک اور مشکل یہ بھی تھی کی شریکِ حیات کو آگاہ کیسے کیا جائے، اگر اسی وقت اگاہ کر دیتا تو ڈر تھا ، ایک کو تو کھو چکا تھا کہیں دوسری کو بھی کھو نہ دیتا۔ خبر کو چھپائے رکھا تا وقت یہ کہ اگلا دن نہیں آگیا۔ جس وقت خبر شریک حیات کو دی اس وقت کمرے میں کوئی نہ تھا۔ وہ وقت وہ لمحے کسی قیامت سے کم نہ تھے۔ خیر ہم دونوں خوب جی بھر کے روئے۔ لیکن میں ساتھ ہی ساتھ دلاسہ دیتا رہا کہ ہم اللہ کی رضا میں راضی ہیں۔ لیکن وہ تو ماں تھی۔ اسے کہاں صبر تھا۔ اس نے تو ایک لمحہ بھی اپنی بیٹی کو دیکھا تک نہ تھا۔ نہ ایک لمحہ اسے اپنی گودی میں کِھلا سکی۔

آج پانچ دن ہونے کو ہیں، وہ آج بھی اپنی سونی گودی کو دیکھ کر اپنا ضبط برقرار نہیں رکھ پاتی۔ ماں ہے نا۔ آج بھی آہیں بھرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ میرے پاس ہوتی اسے میں کپڑے پہناتی، دودھ پلاتی اسکے ساتھ لاڈیاں کرتی۔ لیکن اب صرف یادیں ہی یادیں ہیں۔

میں سب اولاد والوں سے التجاء کرتا ہوں کہ خدارا اپنی اولاد کی قدر کرو۔ اللہ کریم کی اس عطاء کی قدر کرو۔ یہ چھن جائے تو صبر بڑی مشکل سے آتا ہے۔ اپنی اولاد کی اچھی پرورش کریں اور انہیں اچھا انسان بنائیں۔ ہر دم اللہ کریم کا شکر ادا کریں۔

 

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔