Thursday, 17 October 2019
/ آپ بیتی / سید تنزیل اشفاق / پیر بوٹی شاہ

پیر بوٹی شاہ

عامل بابانور شاہ بنگالی، پروفیسر بابو جی بنگالی، پیر شاہ بابا کاظمی، بابا مخدوم کالیا، عامل خالد بنگالی اور ان جیسے اور کئی عاملین ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ آپ کے ہر مسئلے کا حل جانتے ہیں۔ بس آپکے آستانے پر آنے کی دیر ہے۔ آپکے آستانے پر آتے ہی محبوب آپ کے قدموں میں، شادی میں رکاوٹ ختم، امتحان میں فوراََ گھر بیٹھے کامیابی، کاروبار میں رکاوٹ ختم، گھریلو ناچاقی، شوہر کو راہ راست پر لانا، دشمن کو زیر کرنا اور ان ہی جیسے دیگر نا ممکنات ممکن ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ ان عاملین کی شکلیں اور حلیے دیکھیں تو ایک باحوش انسان بخوبی فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا کام کرنا ان جیسے شعبدہ بازوں کے بس کا کام نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب کے سب ایسے ہیں، مگر اکثریت ایسوں ہی کی ہے۔ اللہ کے ایسے بندے بھی زمین پہ بستے ہیں جنکی نگاہ کرم سے کردار بدل جاتے ہیں مگر ایسے اللہ والے اپنی مشہوری نہیں چاہتے۔

 آپ نے بڑے بڑے عاملوں سے اپنا علاج کروایا ہوگا۔ ایک مرتبہ پیربوٹی شاہ سے بھی علاج کروا کے دیکھیں، آپ کے نہ صرف چودہ بلکہ جتنے طبق بھی ہیں سب روشن ہو جائیں گے۔ عموماََ علاج کے لئے عاملوں کے آستانے ہوا کرتے ہیں، لیکن آستانوں میں نہیں سب کے دلوں میں رہتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا یہ کیا نام ہوا، پیر بوٹی شاہ؟ تو گزارش یہ ہے کہ پیر کا بوٹی، اور شاہ سے گہرا تعلق ہے جس کہ بنا پر انہیں اس نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بوٹی شاہ نام ہے ایک ہستی کا کہ جن کے نام میں ہی انکا کام پوشیدہ ہے۔  انکے تعارف کے لئے ان کا نام ہی کافی ہے۔ گو کہ حاملِ آستانہ نہیں ہیں مگر پُھوک شُوک پھر بھی مار لیتے ہیں۔ اور پھوک بھی ایسی مارتے ہیں جو پیناڈول سے بھی جلدی آرام دیتی ہے اس بات کے ہم عینی اورغینی شاہد ہیں۔

ہمارے پیر صاحب کی زندگی کے تین ہی مِشن ہیں بوٹی کھانا، لیڈنے لینا اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہو۔ ہمارے پیر صاحب بڑے غم گسار ہستی ہیں۔ ان سے کسی کا غم نہیں دیکھا جاتا۔ اگر کسی کو غم میں مبتلا دیکھ لیں تو غم غلط کرنے کے لئے نہ صرف کھاتے بلکہ کھاتے ہی چلے جاتے ہیں۔ پیر صاحب کا کہنا ہے کہ غم تب تک دور نہیں ہو سکتا جب تک پیٹ نک و نک نہ ہو۔ پیر صاحب فرماتے ہیں چھوٹے گوشت کی دو کلو کڑاہی سے جیسا غم غلط ہوتا ہے ویسا کسی اور سے نہیں ہوتا۔ بقول پیر صاحب اگر چھوٹے گوشت کی چھوٹی بوٹی ہو تو پھر تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ بڑا گوشت غم میں اضافہ کرتا ہے اسی لئے وہ اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بڑوں کا احترام ہم پہ لازم ہے اس لئے ساری زندگی بڑے گوشت کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔ ہاں اگر بات مرغی کی ہو تو نہ وہ غم میں اضافہ کرتا ہے نہ کمی۔

ہمارے پیر صاحب بلا کے محنتی ہیں۔ اتنے محنتی ہیں ہیں کہ جب کھاتے کھاتے تھک جاتے ہیں تو بوٹی سے مخاطب ہو کہ کہتے ہیں، ابھی تو میں تھک گیا ہوں، زرا سانس لے لینے دو، ابھی خبر لیتا ہوں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پیر صاحب ایک عزیز کے ہاں تعزیت کرنے گئے ہوئے تھے۔ انھوں نے پیر صاحب کے شایانِ شان کھانے کا اہتمام کیا۔ پیر صاحب کے ہمراہ دیگر پیر آئے ہوئے تھے۔ جب کھانے کا وقت ہوا تو سب نے کھانا شروع کیا۔ کھانا وسیع پیمانے پر پکایا گیا تھا۔ کئی پیران عُزام نے کھانا اتنا تناول کر لیا کے فوت ہو گئے۔ پیر صاحب دیگر پیران عُظام کی طرف دیکھ کر رک گئے اور کچھ سوچنے لگے۔ کسی منچلے نے فقرہ چُست کیا پیر صاحب کھاتے نہیں ؟ پیر صاحب فرمانے لگے مرنے سے ڈر نہیں لگتا، میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ میرے بعد ان بوٹیوں کا کیا ہوگا۔ سب بولو سبحان اللہ۔ ۔ ۔

ویسے باتیں جتنی بھی کر لی جائیں پیر صاحب اس سے کہیں آگے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ پیر صاحب پیروں کے پیر اور یاروں کے یار ہیں۔ دل کے صاف اور سچے بندے ہیں۔ ایسا سچا اور گولی باز بندہ شاید ہی کہیں ہو۔ ان سب اوصاف حمیدہ کے باوجود ہمیں ان کی دوستی قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے۔ ۔ ۔

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔