Thursday, 17 October 2019

کرب

انسان اکثر و بیشتر اپنی انا، مستی اور سرمستی کا شکار رہتا ہے۔ لڑکپن ان جذبات کی  ابتدا جب کہ جوانی انتہا ہے۔ اس دوران انسان بس خود ہی خود ہوتا ہے۔ اسے اپنے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ شاید یہ سب فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن جوں ہی جوانی اپنی ڈھلوان پر گامزن ہوتی ہے ساتھ ہی ساتھ جذبہ انا و مستی کو بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  بہر طور کچھ لوگ اس سے ماورا ہوتے ہیں۔ ان جیسے لوگ خال خال ہی ہوتے ہیں جن کے جذبہ سرمستی کو کبھی زوال نہیں ہوتا۔ لیکن بالعموم انسان بسا اوقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے انکی وجوہات کئی ہو سکتی ہیں۔

اگر ہم اپنے حال کی بات کریں تو ہمیں گزشتہ چند دنوں میں ایسی ہی کیفیت کا سامنا رہا  کہ جس کیفیت میں خود کو بہت کچھ سمجھنے والا بندہ کچھ بھی نہ تھا۔ بس حالات کے رحم و کرم پہ گزارہ کرتا رہا۔ ساتھ ہی ساتھ میں سوچتا رہا کہ انسان خود کو کتنا خودمختار سمجھتا ہے مگر اصل میں وہ کچھ بھی نہیں۔ سراسر محتاجِ کرم و فضل خداوند۔ ان مواقع پہ انسان لائق رحم حالت میں ہوتا ہے۔ شاید اس حالت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں انسان سرتاپا انسانیت کا پیکر نظر آتا ہے۔ انسان اور انسانیت کی اصل قدر ایسی کیفیت میں ہی عیاں ہوتی ہے۔ اور پھر ایسی حالت میں ہی وہ موقع آتا ہے جب ساری زندگی کا بھولا ہوا اللہ بھی یاد آجاتا ہے۔ انسان ایسی حالت میں کوشش کرتا ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ عبادت خداوندی اور ذکر خداوندی کرے۔ لیکن کیا یہ ابن الوقتی نہیں؟ اور مزے کی بات یہ کہ جیسے ہی انسان اس کیفیت سے نجات پاتا ہے پھر اسی سرکشی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے جس کا وہ راہی ہوتا ہے۔ خوش نصیب  ہیں وہ لوگ جو اس کیفیت کے بعد سدھر جائیں۔

کرب اس کیفیت کا نام ہے جس کے بارے کہا گیا ہے "جس تن لاگے، سو  تن جانے"۔ اگر انسان کی اپنی ذات کے متعلق یہ کیفیت ہو تو انسان پھر بھی صبر کر لیتا ہے، لیکن اگر اس کی وجہ ہر انسان کا محسن ہو، یعنی ماں، باپ تو پھر صورت حال یکسر بدل جاتی ہے۔ انسان خود کو کٹی پتنگ کے مانند محسوس کرتا ہے۔ اگر تو انسان ان کے لئے کچھ کر پائے تو پھر بھی کچھ  اطمنان ہوتا ہے مگر چین پھر بھی کسی پل نہیں ہوتا۔ اور اگر انسان خود کو لاچار محسوس کرے اور کچھ کر بھی نہ سکے تو یہ کیفیت، الامان الحفیظ۔ یہ میرے احساسات ہیں، شاید آپ محسوس کریں کہ یہ تحریر شدہ الفاظ آپ کے وقت کا ضیا ہوں ۔ مگر یقین کریں شاید یہ الفاظ پڑھ کے کسی ایک کو ماں باپ کی عزت و محبت کی توفیق مل جائے تو یہ اس عاصی کے لئے کافی ہوں گے۔ میں نے بڑے بڑے دعا کے منکر اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے دیکھے ہیں۔

اللہ کا یہ بے کراں فضل و کرم ہے کہ ہم اس حالت میں اپنے والد محترم کے پاس ہیں اور حتیٰ المقدور ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ میں ایسے دوستوں کو بھی جانتا ہوں کہ جو تلاشِ معاش کے لئے اپنے ملک سے باہر پردیس گئے اور انکی غیر موجودگی میں انکے والد اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ سوچیں اس انسان پر کیا بیتی ہوگی۔ کچھ تو وقت پر پہنچ پاتے ہیں اور کچھ تو وفات کے پانچ سے دس دن بعد بھی نہیں آ پاتے۔ انسان کتنا مجبور ہے۔ کس چیز کا غرور اور گھمنڈ ہے؟ انسان کے لئے یہ کافی ہے کہ جیسے ہی غرور اور گھمنڈ کا خناس اس کے دماغ میں گھسے قرآن مجید کے اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہئے ، انسان تیری ابتداء کیا ہے؟

خداوندِ عالم و آدم سے التجا ہے، مالکِ ارض و سماء ہر بیمار کو شفاءِ کلی عطاء فرما اور ہر صاحب کو سے نجات عطا فرما۔

 

سید تنزیل اشفاق

سید تنزیل اشفاق، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، سافٹ ویئر انجینیر ہیں۔ اردو، اسلامی، سماجی ادب پڑھنا اور اپنے محسوسات کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنا پسند کرتے ہیں۔