اتوار, 08 دسمبر 2019
/ کالمز / طاہر احمد فاروقی / جواب دہی بحالی عمل کی ضرورت؟

جواب دہی بحالی عمل کی ضرورت؟

دنیا کے تمام ممالک اقوام، سماج، نظاموں کا وقار عزت، پہچان، ترقی، خوشحالی کے اجتماعی انفرادی راز انصاف و خود احتسابی کا ثمر ہے۔ سب اداروں سے لے کر افراد تک ایک دوسرے کے امور میں مداخلت نہ کریں اور اپنے اُمور دیانت داری محنت کے ساتھ اپنی حدود کے اندر سرانجام دینے جبکہ غلط کام پر انکار کرنے کا حوصلہ لازمی ستون ہے جس کا تعلق احساس ذمہ داری سے ہے جس کے مغائر طرز عمل خصوصاً اختیار کا ناجائز استعمال اپنی سیٹ پوزیشن کی آڑ میں ناجائز مفادات کا حصول یا ناجائز مفادات کا آلہ کار بن جانا خزانے کو نقصان پہنچا کر قوم کو دیمک کی طرح چاٹنے کے ناسور کا طاقتور ہو جانا ناکامیوں کا سیلاب بنا ہوا ہے، جو بڑھتا چلا آ رہا ہے اور رُکنے کو نہیں آتا ہے۔ جس کے راستے میں دیوار بننے والے کے عزم جدوجہد کرنے والے کو ناسور کے پرزے یاجوج ماجوج سانپوں کی طرح ڈنگ مار کر ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس کا زہر اس قدر پھیل چکا ہے کہ بڑے مگر مچھوں اژدھاؤں کے خلاف کارروائی شروع ہوتی ہے تو چھوٹے چھوٹے عناصر اپنی چوریوں کے پکڑے جانے کے خوف سے مینڈکوں کی طرح اکٹھے ہو کر شور مچا دیتے ہیں، حالانکہ جتنے ہاتھ پاؤں مار کر ذلت رسوائی کے ساتھ یہ دس بیس ہزار لاکھ لے کر اپنا گھر بار چلاتے ہیں یہ مگر مچھ اژدھا انجام سے دوچار ہو جائیں تو جائز و آسان راستوں پر چل کر باعزت معاش کے ساتھ سراُٹھا کر زندگی گزار سکتے ہیں۔

وطن عزیز پاکستان میں اس حوالے سے تاحال مثبت اثرات کا سلسلہ جاری ہے جس کا تسلسل چلتا رہا تو بہتری کی بنیادیں مضبوط ہو کر حقیقی تبدیلی کا راستہ ہموار کر دیں گی۔ سپریم کورٹ پاکستان کا آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر نوٹس و فیصلہ بڑی پیش رفت ہے کہ درحقیقت نظام کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ ہر ادارہ اور پوزیشن ہولڈر اپنا اپنا کام کرے اور غلط کام پر اپنا فریضہ نبھاتے ہوئے امور کی سرانجام دہی کو سیدھے راستے پر رکھے یہ فریضہ جسے غلط کام سے روکا جا رہا ہے اس کے حق میں سب سے بڑی نیکی ہے تو ملک و ملت، سماج کیلئے بہترین خدمت خلق اور عبادت الٰہی ہے۔ پورے ملک اور آخری کونے آزادکشمیر کے اندر اصل مسئلہ و مرض یہی ہے کہ جواب دہی کا عمل قصہ پارینہ بن چکا تھا۔ تمام احتسابی ادارے ناکام بوجہ مداخلت ہوگئے خود محکموں کے اندر اہلیت کارکردگی کے بجائے تابعداری اور ناجائز کاموں میں آسانی کے لیے آلہ کار بننے والوں کو بالادستی دے کر جنجال پورہ بنا دیا گیا جس کا نتیجہ ہے کہ آئین قانون سے لے کر تمام سمتوں میں بہتری کے عزائم اقدامات کے اظہار کو باعمل صورت نہیں مل پائی ہے کیوں کہ جس طرح دھاگہ اُلجھتے الجھتے ایسی گنجل شکل اختیار کر جاتا ہے جسے سلجھانے کا تصور نہیں کیا جا سکتا ایسے ہی سارے نظام میں جواب دہی کا تصور ختم ہو جانے سے تباہ برباد ہوتا جا رہا ہے جس کا الزام کسی ایک ادارے یا فرد کو دینا ظلم ہوگا۔

اس کے ذمہ دار وہ سب ہیں جو نظام کو سیدھا کرنے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں جس کا خوفناک چہرہ اسمبلی ہے جہاں معمولی نلکہ ٹوٹی سکیم اور تقرری تبادلہ سے ممبران باہر نہیں آتے ہیں یہاں بھی عدلیہ نے جرات مندانہ مثالیں قائم کرنا شروع کی ہیں عدلیہ کو احتساب جوابدہی کے عمل کو موثر بنانے کیلئے بے باک دلیرانہ کردار ادا کرنا ہو گا کم از کم اختیار کے ناجائز نکلنے استعمال اور کرپشن کے کھلے کیس میں ملوث عناصر کو ضمانت کی رعایت دینے میں سختی کرنا ہو گی تو حکومت کو بھی احتسابی اداروں میں ایسے کرداروں کو سامنا کرنا ہو گا جن کو کسی کا خوف اور لالچ نہ ہو اور سارے نظام اس کے منسلک احوال کمزوریوں خامیوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں جن کا ماضی ٹٹولنے پر عہدوں پر رہ کر بھی عملی کارکردگی انکی پہچان ہے جب کہ سفید پوشی اور عام آدمی جیسا طرز زندگی دیانت فرض شناسی کی مثال ہے۔

اگر چیئرمین معائنہ کمیشن زاہد امین کا نام لیا جائے تو انکی تعیناتی ترقیاتی فلاحی منصوبہ جات کی تکمیل اور ان میں کرپشن خرابیوں کے تدارک سمیت محکموں کی حق دار کو حق دینے میں رکاوٹوں کے تدارک میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے آج کے دور میں خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر فاروق کے متعلق یہ مثال حل کہ آپ کا لمبا قد ہے ایک چادر سے لباس نہیں بن سکتا، کھلے میدان میں سوال ہو گیا اور جواب میں ان کے بنیا نے بتایا کہ میرے حصے کی چادر دیکر یہ لباس بنا ہے ذرائع آمدن اور طرز زندگی اسباب کو موازنہ سب سے بہترین آئنہ ہے جسے سامنے رکھ کر اصلاح کی کوشش ہونی چاہیے۔ حکومت پاکستان، حکومت آزادکشمیر منتخب ایوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا موثر کردار ادا کریں تاکہ ہر ادارے اور پوزیشن والا جو اس کا کام وہ کرے یہاں کی اسمبلی ٹوٹی نلکوں سے نکل کر علم روشنی بصیرت والوں کے انتخاب سے کشمیر کی آواز بن جائے۔