Tuesday, 12 November 2019
/ کالمز / عابد ہاشمی / ڈالر کی اونچی اڑان!

ڈالر کی اونچی اڑان!

امریکی ڈالر 128.50 سے بڑھ کر 136.50 روپے کا ہو گیا ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کے ساتھ بلند ترین سطح 137 روپے تک جا پہنچا جب کہ سونے کی قیمت 05 سال کی بلند سطح 62 ہزار تولہ ہو چکی وطن عزیز میں سونا 1700 روپے تولہ مہنگا ہونے سے 62 ہزار روپے تولہ ہوگیا۔ ڈالر کے سامنے روپے کی قدر کم ہونے کا اثر اوپن مارکیٹ پر بھی پڑا جس کی وجہ سے ایک ہی دن میں ڈالر 9 روپے 75 پیسے اضافہ ریکارڈ ہوا۔ وطن عزیز کے بیرون قرضوں میں 900 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ وطن عزیز ایک طویل عرصہ سے معاشی بحران کا شکار ہے۔ معیشت کے اترا چڑھاو سے مہنگائی کے طوفان نے عوام کا جینا اجیرن کر دیا۔ وطن عزیز قدرتی وسائل کے اعتبار سے اہم ملک ہے پاکستان کی اس وقت مجموعی پیدوار 4 ارب 20 کروڑ کیوبک فٹ اور تیل کی پیدوار 70 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ وطنِ عزیز معاشی اعتبار سے بھی پر چیزنگ پاور کے لحاظ سے دُنیا کی چوبیس اور جی ڈی پی کے لحاظ سے اکتالیسویں بڑی اکانومی ہے۔ یعنی پاکستان کی معاشی پوزیشن دُنیا کے ڈیڑھ سو ممالک سے بہتر بھی ہے۔ 2016 کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 148 ویں نمبر پر تھا۔ آئی ایم ایف کی پاکستان کی معاشی پوزیشن کے حوالہ سے بزنس رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دُنیا کے 190 میں سے 144 ویں ملک کی حیثیت حاصل کرلی۔ پاکستان کے شہریوں کی سالانہ آمدن اوسطاًسولہ سوانتیس ڈالر ہے۔ جو کہ بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ عالمی معاشی اداروں کے مطابق 2030 تک پاکستان دُنیا کی بیسویں جبکہ 2050 تک اٹلی، کینیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دُنیا کی سولہویں بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ قدرتی وسائل کا درست استعمال اور برقت خارجہ پالیسی، ٹیکس کا موثر نظام بنایا جائے کُل 8 لاکھ افراد ٹیکس دیں گے تو ملک کیوں نہ دیوالیہ ہو گا۔ ہمیں بھی ملک سے محبت ہونی چاہیے جیسے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانی معیشت کی بہتری میں کردار ادا کر رہے جس کی مثال رواں مالی سال 2017-18 کے پہلے دس ماہ میں 16 ارب 25 کروڑ سے زائد امریکی ڈالر وطن بھجوائے، جو کہ 3.92 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 15 ارب 64 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، اپریل 18 میں ترسیلات زر کی مالیت 1650.59 ملین ڈالر تھی جو مارچ 18 کے مقابلے میں 6.89 فیصد کم ہے اور اپریل 2017 کی نسبت 7.25 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن عدم توجہی اور کمزور پالیسوں کے باعث آج وطنِ عزیز قرضوں تلے دب گیا قوم مقروض ہو چکی غیر ملکی قرضوں کا حجم 99 ارب ڈالر ہونے کے علاوہ تقریباً 27 ارب ڈالر مقامی قرضے ہیں۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے :آئی ایم ایف 06 ارب، 60 کروڑ ڈالر عالمی اور دوسرے کثیر الملکی بنک، 13 ارب 38 کروڑ ڈالر دوسرے ممالک سے، 05 ارب 04 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کمرشل بنک،06 ارب 70 کروڑ ڈالر ڈیٹ سروسنگ، 07 ارب 73 کروڑ 90 لاکھ ارب ڈالر یو ایس ایڈ،33 ارب 40 کروڑ اسلامی ترقیابی بنک، 1 ارب 86 کروڑ 70 لاکھ ڈالر چین، 20 ارب 60 کروڑ ڈالر،2 ارب 42 کروڑڈالر پیرس کلب،62 کروڑ50 لاکھ یورو جاپان، 20 ارب 60 کروڑ ڈالر نئے قرضے شامل ہیں۔ پاکستان میں روں مالی سال خسارہ 4.8 رہنے کی توقع ہے۔ وطن عزیز میں شرح سود 06 فیصد سے مئی 2018 سے بڑھا کر 6.5 کر دیا گیا۔ موجودہ افراطِ زر 3.5 سے 4.5 فیصد جو 2017-18 میں 4.5 سے 5.5 فیصد تک رہا۔ جب کہ 2018-19 میں مہنگائی کا ہدف 6 فیصد رکھا گیا۔ گزشتہ 8 ماہ میں روپے کی قدر 9.3 فیصد سے کم ہو کر ڈالر کے مقابلے میں 116 روپے کی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ سٹیٹ بنک کے مطابق پاکستان کی معاشی گروتھ 5.8 جوگزشتہ 13 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ وطن کی موجودہ صورتحال میں زر مبادلہ کے ذخائزمیں 5.8 ارب ڈالر کی کمی ہوئی جس کے باعث 18 مئی 2018 کو سٹیٹ بنک کے ذخائر گزشتہ امسال کے 16.4 ارب ڈالر سے کم ہو کر 10.3 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے جو کہ صرف 03 ماہ کی امپورٹ کے لیے دستیاب تھے جن کی وجہ سے روپے پر شدید دباؤ رہا۔ اور پھر رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ایکسٹرنل اکاونٹ خسارہ 14 ارب ڈالر تک پہنچا۔ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 گنا زیادہ ہے۔ رواں مالی سال ہمیں غالباً 30 ارب ڈالر کے تجارتی خسارہ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دباؤ کا سامناہے۔ وطن کے وہ ادارے جو منافع بخش ہوتے ہیں وہی اب ٹائی ٹینک بن چکے سٹیل مل سالانہ خسارہ 200 ارب ڈالر، ریلوے 30 ارب، پی آئی  اے 40 ارب خسارہ پر چل رہے ہیں۔ سٹیل مل اور دیگر سرکاری اداروں کے مجموعی قرضے کی مالیت ارب روپے سے متجاوز ہوچکی ہیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2016-17 کے دوران سرکاری اداروں کے قرضے میں 244.5 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان اداروں کے مجموعی قرضے 1106.6 ارب تک پہنچ گے۔ ان میں سے 822.8 ارب کے مقامی، 283.8 ارب کے غیر ملکی قرضے شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2016-17 کے اختتام پر واپڈا پر عائد قرضوں کی مالیت 81.4 ارب روپے، او جی ڈی ایل کے قرضے 3.1 ارب روپے، پی آئی اے 122.4 ارب روپے، پاکستان اسٹیل کارپوریشن کے قرضوں کی مالیت 43.2 ارب روپے، دیگر متفرق سرکاری اداروں کے قرضے 572.6 روپے تک پہنچے، جن میں سے 127.3 ارب روپے حکومتی ضمانت جبکہ 156.5 ارب بغیر حکومتی ضمانت لیے گے۔ 

ملکی ایکسپورٹس غیر مقابلاتی ہونے کے باعث متاثر ہیں جبکہ امپورٹس میں ریکارڈ اضافہ 52 ارب ڈالر تک پہنچ چکی اس وجہ سے ہمیں 30 ارب ڈالر سالانہ سے زائد تجاری خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس خسارہ کی کمی کو پورے کرنے کے لیے 2017-18 میں کمرشل بنکوں سے ایک ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے جن میں مختلف بنیکوں سے 205 ملین ڈالر کے قلیل المعیاد قرض شامل ہیں۔ 2013-14 میں کمرشل بنیکوں سے 1.4 ارب ڈالر، 2015-16 میں 4.3 ارب ڈالر کے قرض لیے گئے۔ ایشین ڈوپلیمنٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مالی خسارے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قرضوں کی حد کے قانون سے بھی ہمارے قرضے تجاوز کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں گلوبل کیپٹل مارکیٹ میں 2 بلین ڈالر کے یورو بانڈ، 2.5 بلین ڈالر کے سکوک بانڈ بھی جاری کیے گئے جن کی ادائیگی 2019، 2025، 2036 میں کرنی ہوں گی۔ ان میں ایک ارب ڈالر کا منافع اپریل 2019 میں ایک ارب ڈالر کا 6۔ 75 شرح منافع، 30 ستمبر 2025 میں 8.25، اور 500 ملین ڈالر کا 7.875 فی شرح منافع 31 دسمبر 2036 میں واجب ادا ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے قرضوں ان کے جی ڈی پی کے 61 فیصد سے زیادہ ہیں۔ پاکستان اب تک عالمی مالیاتی ادارے ای ایم ایف سے اب تک 41 بارقرض لے چکا ہے۔ قرضوں کی شرح کم کرنے کے لیے ہمیں درآمدت کم کرنے ہو گا جو کہ اس وقت تیل 24 فیصد، مشینری بشمول کمپیوٹر 12 فیصد، بجلی کے آلات 8.3 فیصد، گاڑیاں 4.6 فیصد، لوہا، سٹیل 6 فیصد، نامیاتی کیمیکل 4.1 فیصد، کھانے کا تیل 4.1 فیصد، پلاسٹک اشیاء 4 فیصد درآمدت ہیں جو بیرون ممالک سے خریدی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی ملک ہونے کے باوجود خوردو نوش پر اربوں ڈالر صرف ہوتے ہیں۔ 

اعداد وشمار کے مطابق وطن عزیز بیرون ممالک سے 60.86 ارب ڈالر کی خریداری، جب کہ صرف 23.2 ارب ڈالر کا سامان برآمد کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں 37.66 ارب ڈالر کا خسارہ ہوتا ہے۔ اور پھر سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ کے بعد دوسری اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی ریاست کا سارا انحصار سود پر ہے جو اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ ہے۔ ہمیں اگر وطن کو اس دلدل سے نکالنا ہے تو یقیناًاسلامی شعار اپنانا ہوں گے سود پر کبھی بہار اور تجارت پر کبھی خزاں نہ آئے گی۔ ہم اگر زراعت، خسارے پر چلنے والے اداے، برآمدات، اپنے دستیاب قدرتی وسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مسلسل قرض لیتے رہے تو ایک دن قرضوں کاپہاڑ ملک و قوم کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ گرے لسٹ سے بلیک لسٹ تک بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ اسلامی ذریعہ معاش کے ساتھ بروقت اور ٹھوس پالیساں بنائی جائیں کیونکہ قدرتی وسائل کے حامل ملک کو بروقت اقتصادی و ترقیابی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔ 

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔