/ کالمز / علی اصغر / ادھوری روحیں

ادھوری روحیں

ایک خواجہ سراء نے مجھے فیس بک پہ انباکس میں میسج بھیجا، تصویر دیکھ کر پہلے تو جواب نا دینے کا ارادہ کیا لیکن چند لمحوں بعد اس نے میسج کیا کہ آپ فلاں گروپ میں تحریریں لکھتے ہیں میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں، آپ نے چند یتیم بچوں کو عید کے کپڑے دئیے ہیں اور غریبوں کو راشن بھیجا ہے میں بھی حق دار ہومجھے آپ کی امداد چاہیے، میں نے میسج کا جواب دیا اس سے چیٹ ہوتی رہی اس نے بتایا کہ رمضان المبارک کی وجہ سے چونکہ آج کل شادیاں نہیں ہورہیں تو ہمارا ناچنے گانے کا کام بند ہے اور ہم بھیک مانگنے پہ مجبور ہوچکے ہیں، محلہ میں کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتو مبارک لینے جاتے ہیں تو کچھ دن کی روزی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے، ہم کرایہ کے مکان پہ رہ رہے ہیں ہمارے ساتھ ہمارا بوڑھا گرو بھی رہتا ہے اسکے علاج کا خرچہ بھی میرے ذمے ہوتا ہے زیادہ تر خواجہ سراء ایڈز کی بیماری میں مبتلاء ہوتے ہیں دوائیاں مہنگی آتی ہیں، اس کی باتوں سے مجھے احساس ہوا کہ وہ واقعی ضرورت مند ہے اس سے شناختی کارڈ نمبر مانگا تاکہ کچھ مدد کی جاسکے، تو اس نے کہا پچھلی حکومت میں ہمارے شناختی کارڈ بنتے رہے ہیں اور ولدیت والے خانے میں گرو کا نام لکھا جاتا رہا مگر اب پھر شناختی کارڈ بننے بند ہوگئے ہیں میں پہلے بنوا نا سکا اس لئے میرا شناختی کارڈ نہیں ہے۔ خیر کسی طرح سے اس کی معمولی سی امداد کی اس نے ڈھیروں دعائیں دیں، میں نے اس سے موبائل نمبر مانگا تاکہ فون پہ بات کرکے ان لوگوں کی زندگی کے متعلق جانا جائے اور جہاں تک ممکن ہوا انکے مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ فون پہ بات چیت کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ جنسی نقص لے کر پیدا ہوا تھا، جیسے جیسےبڑا ہوتا گیا مجھے بڑی بہن کی لپ سٹک لگانے کا اور اس کے کپڑے پہننے کا شوق ہونے لگا گھر والے جب موجود ناہوتے تو زنانہ کپڑے پہن کر میک اپ کرکے شیشے کے سامنے کھڑا ہوکر خود کو دیکھتا اور خوش ہوتا، میری یہ عادت جب والد صاحب کو پتہ چلی توبہت مارا اور پھر ایک دن ہمیشہ کے لئے گھر سے نکال دیا آج سترا سال سے گھر چھوڑ کر در در کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہوں، ماں سے فون پہ رابطہ رہتا ہے وہ بھی معاشرے کی باتوں کے ڈر سے مجھ سے سامنے آکر ملنے سے کتراتی ہے وہ مجھے دور کھڑے ہونے کا کہتی ہے چند لمحے مجھے دیکھ کر چلی جاتی ہے، اس نے بتایا وہ سات جماعتیں پاس ہے سکول میں بھی اساتذہ سمیت ہر شخص میرا مزاق اڑاتا تھا اور مجھے مفت کا مال سمجھ کر ہرکوئی جنسی ہراساں کرتا تھا جس سے تنگ آکر میں نے پڑھائی چھوڑ دی، گھر سے نکال دئیے جانے کے بعد مختلف ہوٹلز، بازار میں دکانوں پہ اور ورکشاپ پہ کام کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہر جگہ میری ذات کا تماشا بنایا جاتا رہا اور جس کا دل چاہتامجھے استعمال کرکے پھینک دیتا آخر جب نوبت بھوکا مرنے پہ آئی تو ایک خواجہ سراء کے ساتھ ان کے ڈیرے پہ چلا گیا اور آج تک یہاں ہوں، شروع میں جسم فروشی کروائی جاتی رہی اور ایسا کرنابھی میری مجبوری تھا ورنہ کون چاہتا ہے کہ انسان خدا کے سامنے گنہگاربن کر پیش ہو، مگر چند دن بعد میں نے یہ برائی چھوڑ دی میں نےبیوٹی پارلر کا کام سیکھا لیکن وہ بھی ہزاروں صعوبتیں جھیل کر، اپنا بیوٹی پارلر بنایا تو کسی بھی شخص نے اپنی بہن بیٹی کو میرے پارلر پہ نا بھیجا کیونکہ ان کو شرم محسوس ہوتی تھی کہ ہم ایک کھسرے سے میک اپ کیسے کروائیں٫ مرد اگر فیشل کروانے آتے تو میرے ساتھ دست درازی شروع کردیتے اور مجھ سے میرا ریٹ پوچھتے آخر کام نا چلنے اور مرد حضرات کی ان حرکات سے تنگ آکر بیوٹی پارلر بند کردیا اور شادیوں پہ ناچنا شروع کردیا، مگر آج کل شادیوں پہ خواجہ سراوں کی جگہ خوبصورت ڈانسر لڑکیوں نے لے لی ہے، ہماری اس اسلامی مملکت میں کہیں بھی جگہ نہیں ہے، میرے سوال پہ اس نے بتایا کہ وہ باقاعدہ روزے رکھتا ہے سب خواجہ سراء نماز بھی پڑھتے ہیں اور فیس بک پہ کئی اسلامی گروپس جوائن کر رکھے ہیں تاکہ دین کو گھر بیٹھے سیکھ سکے۔
میری یہ تحریر شائد آپ سب کو عجیب لگے اور کئی افراد اسے پڑھتے ہوئے ان مردوں کی طرح مسکرا بھی رہے ہوں جو گلی میں گزرتے خواجہ سراء کو چھیڑ کر فاتحانہ انداز می مسکراتے ہیں، میرا آپ سب سے سوال ہے کیا پیدائشی جنسی نقص لے کر پیدا ہونے والے بچے میں اس کا اپنا قصور ہے؟ اگر اس کی عادات زنانہ انداز کی ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے ہم ان کا جینا حرام کردیں؟ کیا ان کا اس زمین پہ آزادی سے زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں؟ اسے جنسی حراساں کرنا کیا مردانگی ہے؟ اگر وہ باعزت روزگار اپنا کر اپنی زندگی چین سے گزارنا چاہتے ہیں تو ہم کیوں بضد ہیں کہ یہ صرف ناچیں اور ہماری جنسی تسکین کا باعث بنیں؟ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہم کیوں بھول جاتے ہیں اس کا اور ہمارا خالق ایک ہی ہے؟ وہ چاہے تو ہمیں یا ہماری اولاد میں سے کسی کو ان جیسا بنا ڈالے، چند سال پہلے ہمارے اسلامی ممالک کےمرکز سعودی عرب نے خواجہ سراوں پہ عمرہ و حج پہ پابندی عائد کردی تھی کیا یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ص کے گھر کی زیارت کرنے کے حقدار نہیں؟ ان کو اپنے گناہ بخشوانے کا کوئی حق نہیں؟
ریاست خواجہ سراوں کے متعلق اپنی ذمہ داری کیوں بھول چکی ہے؟ جب ووٹ لینے تھے تب ان کے شناختی کارڈ بننے کی اجازت دے دی جب ووٹ لےلئے تو باقیوں کے شناختی کارڈ بننے پھر بند کروا دییے، جیسے گونگے بہرے بچوں کے لئے الگ تعلیمی نظام ہے ویسا ہی خواجہ سراوں کے لئے بھی دینی و دنیاوی تعلیم کے الگ مراکز ہونے چاہیں، ان کو ہنر مند بنانے کے لئے الگ ٹیکنیکل سینٹرز ہونے چاہیں۔
بڑی بڑی ائیر کنڈیشنڈ مساجد کے مہنگے ترین ساونڈ سسٹم پہ جنت جہنم کی ٹکٹیں بانٹنے والے علماء عوام میں یہ شعور کیوں نہیں پیدا کرتے کہ جیسے ایک نارمل انسان کا دل دکھانا گناہ کبیرہ یے ویسے ہی خواجہ سراء کی عزت نفس مجروح کرنابھی گناہ عظیم ہے کیونکہ یہ بھی اسکی کی مخلوق ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اردگرد ایسے افراد کا خاص خیال رکھیں، جہاں تک ممکن ہو ان کے ساتھ تعاون کیا جائے اور ان کو عزت دی جائے اگر یہ اپنی محنت سے عزت والی روزی کمانا چاہتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ناکہ انکی زندگی اجیرن کردیں، اگر ہم آج سے اپنی معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داری نبھانا شروع کردیں تو ہماری آنے والی نسلیں ہم جیسی بے حس ناہوں گی اور یہ ادھوری روحیں سکھ پاسکیں گی۔