/ کالمز / علی اصغر / خدا سے ملاقات

خدا سے ملاقات

میں تیسری کلاس میں تھا، گھر سے سکول اور پھر سکول سے گھر آنے کے لئے والدہ نے تانگہ لگوا رکھا تھا، تانگے والے کو سب بابا رمضان کہا کرتے تھے، ایک دن وہ ہمیں گھر سے سکول چھوڑنے کے لئے نا آئے اسی طرح کئی دن گزر گئے لیکن بابا رمضان نا آئے، پتہ چلا کہ بابا رمضان سب کچھ چھوڑ کر خدا سے ملنے جنگل بیابانوں میں نکل گئے ہیں، وقت گزرتا گیا چند دن پہلےاچانک وہی بابا رمضان مجھ سے ملنے میرے گھر آئے اور جب اپنا تعارف کروایا تو میری خوشی کی انتہاء نا رہی، ان کو بٹھایا، خاطر تواضع کی، میں نے ہنس کر پوچھا بابا جی آپ خدا سے ملنے گئے تھے کیا ملاقات ہوئی پھر؟ کہتے ہیں کئی سال میں جنگل، صحراوں میں عبادات کرتا رہا، بھوکا پیاسا رہا غرضیکہ ہر طرح سے کوشش کی کہ خدا کا قرب حاصل ہو، بس ذرا سی روحانیت ملی لیکن کامل سکون نا مل سکا۔ 
اسی طرح میرے ایک جاننے والے بزرگ ہیں، اللہ کا دیا بہت کچھ ہے جب بھی کوئی ان سے ملتا ہے ان کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ میں مسلسل چھتیس سال سے حج پہ جا رہا ہوں اور رمضان المبارک میں عمرہ پہ بھی ہر سال جاتا ہوں، لیکن جب بابا جی سے پوچھا جائے کیا آپ کو قلبی سکون مل گیا ہےتو ان کا جواب نفی میں ہوتا ہے۔
ہم مسلمانوں میں لاکھوں حفاظ کرام، قاری عظام جن کا پسندیدہ کام تلاوت کلام پاک ہوتا ہے، اسی طرح علماء کرام جن کی زندگیاں دین محمدی ص کو پڑھنے اور اس کی تبلیغ پہ گزر چکی ہیں، ایسے بھی لاکھوں لوگ ہیں جو ہر سال رمضان المبارک مکہ و مدینہ میں گزارتے ہیں، وہاں سحری و افطاری کرتے ہیں اور آخری عشرے میں اعتکاف میں عبادات بجا لاتے ہیں، بہت سے ایسے لوگ ہمارے گلی محلوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جو ہرسال حج و زیارات پہ جاتے ہیں، ایسے خطباء، ذاکرین نعت خواں جو چوبیس گھنٹے اللہ رب العزت اور محمد و آل محمد ع کے ذکر سے لاکھوں لوگوں کے قلوب و ارواح کو معطر کرتے ہیں، اللہ کے ولیوں کے درباروں پہ جاکر لوگ روتے، گڑ گڑاتے ہیں،
اس کائینات میں ہر مسلمان مرد و عورت مختلف طریقوں سے عبادات کرتے ہیں، وظائف پڑھتے ہیں سب کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ کسی طرح سے رب راضی ہوجائے، اس کا قرب نصیب ہوجائے، ہمارے بے چین نفوس، نفس مطمئنہ میں بدل جائیں، ہم کامیاب ہوکر اپنے رب سے جاکر ملاقات کریں۔
اتنی عبادات کے بعد بھی اگر دل مطمئن نا ہو، بے قرار روح کو قرار میسر نا آرہا ہو تو گھر سے نکل کر جنگل بیابانوں میں جانے کی ضرورت نہیں، ہرسال حج پہ جاکر طواف کعبہ کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ حج تو ایک ہی واجب ہے، نا ہی درباروں مزاروں پہ گڑ گڑانے کی ضرورت ہے،
بس اپنے اردگرد دیکھیں کون ایسا ہے جسے آپ کی ضرورت ہے، کون ہے جسے کھانا میسر نہیں، ایسا بیمار کون ہے جسے دوا کی ضرورت ہے، ایسی بیوہ کہاں رہتی ہے جسے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے راشن چاہئے، ایسے یتیم کدھر ہیں جن کو کپڑوں کی اور تعلیم کی ضرورت ہے، ایسے بوڑھے کمزور کندھے کس کے ہیں جو بیٹیوں کے فرض ادا کرتے کرتے اب تھک چکے ہیں، اور ان کو اب کسی بوجھ اٹھانے والے کا انتظار ہے،
یقین جانئیے، بھوکے کو کھانا کھلا کر، پیاسے کو پانی پلا کر، بیمار کو دوا دلوا کر، بیوہ کو اس کے بچوں کی روٹی دے کر، یتیم کے تن پہ نئے کپڑے سجا کر، بوڑھے ضعیف باپ کے کندھوں پہ اس کی بیٹیوں کے فرائض کا بوجھ ہلکا کروا کر جب آپ واپس اپنے گھر کو لوٹنے لگیں گے تو ان ضرورت مند افراد کے اداس چہروں پہ جو خوشی ہوگی دراصل وہ چہرہ خدا کا چہرہ ہوگا، اور پھر دل سے پوچھئے گا کیا آج خدا سے ملاقات ہوئی کہ نہیں؟ بقول شاعر

جے رب نہاتیاں دھوتیاں ملدا، ملدا ڈڈواں مچھیاں ہو
جے رب ملدا مون منایاں، ملدا بھیڈاں سسیاں ہو
جے رب جتیاں ستیاں ملدا، ملدا ڈانڈاں خصیاں ہو
رب اوہناں نوں ملدا باہو، نیتاں جنہاں اچھیاں ہو