/ کالمز / علی اصغر / اپنا باس خود بنیں

اپنا باس خود بنیں

آج کل پاکستان میں نوجوانوں کو ملازمتیں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتی جارہی ہیں اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ سرمایہ درکار ہے جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ چند ایسے کاروبار ہیں جو بیس ہزار سے لیکر پچاس ہزار تک کی رقم سے باآسانی شروع کئیے جاسکتے ہیں لیکن کاروبار چلانے کے لئے سرمائے کے ساتھ ساتھ ہمت، محنت اور خود اعتمادی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ 

چند کاروبار ایسے لکھ رہا ہوں جن کو شروع کرکے نوجوان نسل اپنا گھر باآسانی چلا سکتے ہیں۔ 

کپڑے کا سٹال: فیصل آباد، لاہور سے سستا کپڑا جو چار سو تا سات سو فی سوٹ تک مل جاتا ہے، خرید کر سستے بازاروں میں سٹال لگا کر باآسانی فروخت کیا جاسکتا ہے، اگر فی سوٹ پانچ سو روپے کا بھی آئے تو ُ100 سوٹ پچاس ہزار کے آجایں گے اگر فی سوٹ دو سو بھی بچت دے تو بیس ہزار کا منافع ہے اور یہ صرف اندازہ ہے منافع زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ 

ٹیوشن سینٹر: اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو اپنے گھر کے کسی ایک کمرے پہ چند ہزار لگا کر ڈیکور کریں، اشتہار چھپوا کر محلہ میں تقسیم کریں ایک وائٹ بورڈ اور اچھا سا قالین ڈال لیں اگر بجٹ اجازت دیتا ہے تو بچوں کے لئے کرسیاں خرید لیں اگر فی بچہ ایک ہزار بھی فیس دیتا ہے تو تیس بچوں کی تیس ہزار فیس بنے گی شام میں چار گھنٹے پڑھانے سے اچھی بھلی کمائی کر سکتے ہیں۔ 

فوٹو گرافری: اگر آپکو فوٹو گرافری کا شوق ہے تو آپ اسکو اپنا روزگار بنا سکتے ہیں اس کے لئے آپکو چالیس سے پچاس ہزار روپے درکار ہیں کیونکہ اچھا کیمرا ایک لاکھ روپے تک آتا ہے جبکہ سیکنڈ ہینڈ ڈی ایس ایل آر پچاس ہزار تک مل جاتا ہےکیمرہ خریدنے کے بعد، آپ ایک پروفیشنل فوٹوگرافر کے طور پر ایسے لوگوں سے رابطہ کریں جن کے ہاں عنقریب کوئی شادی وغیرہ کا فنکشن ہونا ہو۔ اور ان سے ان کے فنکشن کی فوٹو گرافی کوریج کے لئے بات طے کر لیں۔ آغاز میں اپنے دوست احباب کے فنکشنز کو مفت سروسز بھی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ آپ اپنے پورٹ فولیو بنا سکیں اور نئے گاہکوں کو دکھانے کے قابل ہوں۔

کچی کڑھائی: یہ کاروبار خواتین کے لئے خاص طور پہ مفید ہے کیونکہ یہ نہایت ہی آسان ہے جو ایک ماہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں خواتین کی چادریں کڑھائی کی جاتی ہیں ایک چادر چالیس منٹ میں تیار ہوتی ہے لاہور اعظم مارکیٹ سے آپکو بہت آسانی سے چھ سو چادروں کا آرڈر مل سکتا ہے اور فی چادر کی کڑھائی کی مزدوری دو سو روپیہ ہے اگر آپ کام میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں تو پانچ چھ سو چادر ایک ہفتہ میں نکالی جاسکتی ہے اس میں آر مشین استعمال ہوتی ہے جو کہ تیس ہزار کی آتی ہے خواتین گھر بیٹھے ایک سرکاری ملازم سے زیادہ کمائی کرسکتی ہیں۔ 

ایزی لوڈ شاپ: یہ کاروبار بھی بہت کم سرمائے میں شروع ہوسکتا ہے کیونکہ آپ کسی بھی جنرل سٹور کے سامنے ایک چھوٹا سا کاونٹر رکھ کر تمام موبائل نیٹ ورک کے ایزی لوڈ، کارڈ، ایزی پیسہ، نئی اور پرانی سم کے نکالنے والی ڈیوائس رکھ کر کمائی کرسکتے ہیں۔ اگر آپ دکان کا کرایہ برداشت کرسکتے ہیں تو کاونٹر ذرا بڑا بنوا کر موبائل اسسریز بھی رکھ سکتے ہیں۔ 

فوڈ سٹال: پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول کاروبار کھانے کا ہے۔ اور کھانے کے کچھ کاروبار کرنے کے لئے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آپ نے بہت سے ایسے ریڑھی والوں کو بھی دیکھا ہوگا۔ جو کہ صرف چاٹ یا سموسے یا دہی بھلے یا جوس بیچتے ہیں اور بڑے ہائی فائی ریسٹورانٹس سے زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ آپ صرف دس ہزار روپے کے ساتھ بھی کھانے کا سٹال لگا سکتے ہیں۔ لیکن میرا مشورہ ہے۔ کہ آپ شیشے اور سٹین لیس سٹیل کے استعمال سے ایک خوبصورت سا سٹال تیار کروائیں جو کہ بیس ہزار روپے تک تیار ہو جائے گا۔ باقی تیس ہزار روپے سے آپ برتن، سٹاک اور دیگر سامان خرید سکتے ہیں۔ آپ بار بی کیو، بریانی، فروٹ چاٹ، آئس کریم، چکن سوپ یا سموسوں کا سٹال بنا سکتے ہیں۔  آپ اس کام سے فی دن 2000 روپے سے زائد منافع حاصل کرسکتے ہیں۔ دکان کے مقابلے میں کھانے کا سٹال کا کرایہ کافی کم ہوتا ہے۔ کسی مقبول اور بڑی مارکیٹ میں آپ کو کھانے کے سٹال کے لئے جگہ صرف 5000 سے 10000 روپے فی مہینہ میں لے سکتے ہیں اور کم اوسط مارکیٹ میں آپ کو2000 روپے ماہوار کرایہ میں بھی سٹال لگانے کی جگہ مل جائے گی۔ کھانے کی اشیاء آپ خود بھی بنا سکتے ہیں اور گھر سے تیار کروا کر بھی لا سکتے ہیں۔ 

گرافک ڈیزائننگ: گرافک ڈیزائن ایک پرانا لیکن ہمیشہ چلنے والا کاروبار ہے۔ ویب ڈیویلپمنٹ کی طرح آپ کو گرافک ڈیزائننگ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے آپ چند ہزار روپے خرچ کر کے کسی بھی کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ سے سیکھ سکتے ہیں۔ اس کام میں مہارت حاصل کرنے کے بعد آپ آن لائن فری لانسر کے طور پر شروع کر سکتے ہیں یا آپ پرنٹنگ کے میدان میں جا سکتے ہیں۔ تشہیر اور کاروباری برنٹنگ کے ساتھ ساتھ آپ بینر، بروشر، اشتہار، شادی کارڈز وغیرہ کی ڈیزائننگ شروع کرسکتے ہیں۔ کرایہ کی ایک سادہ دکان 10,000 سے زیادہ کی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بیٹھنے کے چند کرسیاں، ایک میز، ایک کمپیوٹربمع پرنٹر اور ایک انٹرنیت کنکشن چاہیے۔ اور ان سب چیزوں پر 50 ہزار روپے سے زائد خرچ نہیں ہو گا۔ 

سبزی فروٹ شاپ: یہ کاروبار بھی بہت کم سرمائے سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ ڈائریکٹ سبزی منڈی سے فروٹ اور سبزیاں خریدیں تو منافع زیادہ آنے کے چانس ہوتے ہیں۔ آپ دکان کے لئے سبزیوں کو 10,000 روپے یا اس سے کم میں بھی خرید سکتے ہیں۔ اور سبزی کے کام میں بعض اوقات 100٪ تک بھی منافع ہوتا ہے۔ صرف آپ کو یہ خیال رکھنا ہے کہ مال خراب نہ ہو اس لیے آپ اتنا ہی مال خریدیں جتنا آپ کا روزانہ بک جائے۔ 

میں آج ہی ایک پھل فروش سے ملا ہوں۔ جو کہ ریڑھی پر ایک وقت میں صرف ایک یا دو پھل فروخت کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے۔ کہ وہ روزانہ 5 سے 6 ہزار کا مال منڈی سے خریدتا ہے۔ اور اس کا روزانہ کا منافع تقریبا ایک ہزار روپیہ ہے۔ 

انڈوں کی ڈسٹریبیوشن: سردیوں میں چونکہ انڈوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے تو آپ چالیس پچاس ہزار کے انڈے خرید کر آگے کریانہ اور اپر سٹور پہ جا کر فروخت کرسکتے ہیں۔ 

چائینہ مال سیل شاپ: یہ کاروبار بہت آسان ہے بس پچاس ہزار کا لاہور فیصل آباد سے روزمرہ کی ضروریات کا پلاسٹک کا سامان لے آئیں اور ایک چھوٹی سی دکان پہ رکھ کر پینا فلیکس لگا دیں ہرمال بیس روپے تو نا کرتے کرتے بھی فی گاہک تین چار سو کی شاپنگ کرہی لیتا ہے۔ 

یاد رکھیں کسی قسم کی کاروبار کرنے میں کوئی شرم نہیں ہے، بلکہ شرم لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے میں ہے۔