Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / علی اصغر / شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

آج سترہ ربیع الاول ہے اور نماز عصر کا وقت قریب ہے سرکار محمد بادشاہؐ کی بارگاہ میں گلدستہ عقیدت پیش کرنے کے لئے مسجد نبوی میں حاضر ہوا ہوں۔ نبی کریم ؐ کی والدہ ماجدہ کی قبر پہ جب پہلی دفعہ حاضری ہوئی تو میری سوچ چودہ سو سال پیچھے چلی گئی ایسا محسوس ہونے لگا نبی کریمؐ کی ولادت کے وقت جب مکہ کے مفلس و نادار لوگ جناب عبداللہؑ کے گھر مبارک دینے آئے ہوں گے شاید میری بھی روح موجود تھی وہاں سرکار ابو طالب ع نے مجھے بھی اپنے بھتیجے کے سر کا صدقہ عطاء کیا ہوگا،  پھر سوچتا ہوں جب سیدہ آمنہؑ اپنےبیٹے کو گود لیتی ہوں گی تو اداس ضرور ہوتی ہوں گی کہ کاش عبداللہؑ ہوتے تو اپنے لخت جگر کو دیکھ کر خوش ہوتے اسکو گود لیتے،  عبداللہ بیٹے کے رخسار چومتے،  انگلی پکڑ کر سیر کو لے جاتے،  اپنےبیٹے کے لئے کھلونے تیار کرواتے، ضرور یہ سن کر رب کائینات کی رحمت کو جوش آیا ہوگا اور کہا ہوگا اے آمنہؑ اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے کیوں اتنا پریشان ہوتی ہو اگر اس کا والد نہیں تو ہم اسکو جھولی عطاء کریں گے، آمنہؑ کیا ہوا اگر اسکے رخسار چومنے والا کوئی نہیں ہم اسکے رخساروں کا ذکر قرآن میں رکھ دیں گے،  تیرے یتیم کے کھلونے نہیں تو ہم چاند کو اسکا کھلونا بنا دیں گے یہ اپنی انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے کردے گا اور چاند اسکے قدم چومے گا،  کائینات کے پیڑ، پودے، چرند، پرند اسکو سلامی دیں گے،  اسکا اگر سیر کرنے کا دل ہوا تو عرش بریں کو اسکی سیر گاہ بنا دیں گے،  آمنہؐ فکر نا کر یہ بیٹا تیرا ہے محبوب میرا ہے،  یہ لخت جگر تیرا ہے تو صاحب کوثر میرا ہے،  نور نظر تیرا ہے تو خیر البشر میرا ہے،  تو اس پہ جان نچھاور کرے گی تو میں اس پہ قرآن نازل کروں گا،  آمنہ تو اسے اپنا نصیب کہے گی تو میں اسکو اپنا حبیبؐ کہوں گا،  تو اسکو حسین کہے گی میں اسکو والضحیٰ کہوں گا،  تو اسکو زلفوں والا کہے گی میں اسے والیل اذا سجیٰ کہوں گا،  اگر تو اسکو سونگھے گی تو میں اسکے پسینے میں خوشبو رکھ دوں گا،  یہ اسکی نبوت کی خوشبو ہوگی اور یہ خوشبو ایسی پھیلے گی کہ اسکے چرچے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہوگی،  میرا یہ محبوبؐ جہاں سے گزرے گا راستے خود بتایں گے کہ محمدؐ عربی یہاں سے گزرے ہیں،  یہ مکہ میں پیدا ہوا تو مکہ مکرمہ بن گیا،  یہ مدینہ ہجرت کرکے جائے گا تو مدینہ منورہ بن جائے گا، یہ سارے الفاظ میں نے قبرِ سیدہ آمنہ سلام اللہ علیھا پہ محسوس کئیے اور لکھے مسجد نبویؐ میں بیٹھ کر یقیناً سیدہ آمنہؐ کی اداسی کے جواب میں اللہ کریم نے ایسے ہی الفاظ سے انکی ڈھارس بندھائی ہوگی۔ 

 محمدؐ مصطفیٰؐ کائینات بھر کے گناہگاروں کی بخشش کا ذریعہ ہیں،  یہ ہم جیسے بدکاروں کے لئے شافع محشر ہیں۔ اذان عصر ہو رہی ہے نماز کے بعد جنت البقیع کھلے گا سیدہ کائینات سلام اللہ علیھا کو انکے پاک باباؐ اور پوتے امام جعفر صادقؑ کی ولادت کی مبارک باد دینے جاوں گا۔ 

ہم گناہگاروں کے پاس نامہ اعمال میں یہ سچی اور بے لوث محبت کے سوا اور کچھ نہیں دعا ہے شافع محشرؐ بروز قیامت ہم خطاکاروں کو اپنے دامن رحمت سے ڈھانپ لیں گے۔  تمام محبان محمدؐ و آل محمدؑ کو ولادتِ صادقینؑ بہت مبارک ہو۔ 

نوٹ: یہ تحریر دو سال قبل سترہ ربیع الاول کو ریاض الجنہ مسجد نبوی شریف میں بیٹھ کر لکھی تھی۔