/ کالمز / علی اصغر / تنقید

تنقید

ایک کلاس ٹیچر اپنی کلاس کے بچوں کو بلیک بورڈ پہ پانچ کا ٹیبل لکھ کر سکھا رہاتھا۔ جب ٹیچر نے لکھا
7*5=36
یعنی پینتیس کی بجائے چھتیس لکھ دیا مُڑ کر دیکھا تو سارے بچے ہنس رہے تھے وجہ پوچھی تو سب نے کہا کہ ٹیچر آپ نے غلط لکھ دیا ہے تو استاد نے جواب دیا کہ یہ میں نے جان بوجھ کر لکھا کیونکہ میں جاننا چاہتا تھاکہ آپ لوگوں کا دھیان میری طرف ہے یا نہیں۔  
استاد کے اس عمل سے ہم ایک اور بھی سبق لے سکتے ہیں کہ انسان اگر ہمیشہ اچھا عمل کرتا رہے تو لوگ کبھی نوٹس نہیں لیتے لیکن جیسے ہی ایک غلطی ہوئی تو لوگوں کی تنقید فوراَ شروع ہوجاتی ہے۔ یہ ہم میں سے اکثریت کی فطرت ہے کسی کے ننانوے اچھےکاموں پہ تعریف کرنا پسند نہیں کرتے لیکن اسکی ایک غلطی کو ہم موضوع بنا کر تنقید اور طنز کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔  
اگر ہم چاہتے ہیں کہ منفی سوچ والے لوگوں کی سوچ مثبت ہوجائے تو سب سے پہلے اس کا آغاز اپنی ذات سے کرنا چاہیے سب سے پہلے ہمیں اپنی عادت بنانا ہوگی کہ کسی کے چھوٹے سے اچھے عمل پہ اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اگر اس کی کوئی خامی ہمیں نظر آبھی جاتی ہے تو بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔  
اگر ہم پہ کوئی تنقید کرتا ہے تو اس کی سوچ پہ ناراض ہونے کی بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی اس کی تنقید جائز ہے؟ کیا واقعی ہم غلطی پہ ہیں؟ اگر ہم سے غلطی ہوئی ہے تو اسے قبول کر کے اس کی تصحیح کی کوشش کرنی چاہے اور اگر تنقید کرنے والے نے صرف آپ کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے یہ عمل کیا ہے تو اس سے بدلہ لینے یا اس پہ غصہ ہونے کی بجائے اسے نظر انداز کر دینا چاہیے اگر آپ اس کا برا ردعمل دکھائیں گے تو آئندہ آپ کو پہلے سے زیادہ تنقید کر نشانہ بنایا جائے گا۔  
زندگی میں ہم کبھی بھی سو فیصد درست نہیں ہو سکتے شائد ہم نوے فیصد غلطی پہ ہوتے ہیں لیکن اپنی غلطی پہ پشیمان ہونے کی بجائے اپنی اصلاح کرنی چاہے کیونکہ بعض اوقات ماضی میں کی گئی غلطیاں مستقبل میں فائدہ دیتی ہیں۔