/ اسلامک / علی اصغر / آخری سلام

آخری سلام

آج مورخہ 17 اگست 2017 ہے اور 19 اگست کو میری پاکستان کے لئے مدینہ منورہ سے لاہور کے لئے فلائٹ ہے یہ تحریر جنت البقیع کی دیوار کے ساتھ بیٹھ کر لکھ رہا ہوں ابھی نماز عصر ہو گی بقیع کھلے گا، شاید یہ میری آخری دفعہ مدینہ منورہ میں حاضری ہوگی پھر کبھی سرکار ص نے مجھ پہ ترس کیا تو دوبارہ اپنی زیارت کے لئے بلایں گے، سعودیہ میں سات سال رہنے کے دوران ہر قسم کے حالات کا سامنا کیا زیادہ تر مشکلات دیکھنے کو ملیں لیکن ہر دفعہ ایک ہی بات دل کو حوصلہ دیتی رہی کہ کوئی بات نہیں میرے آقا و مولا ص یہیں ہیں نا اس سے اور بڑی کیا بات ہو گی کہ انکی بار بار زیارت کا شرف حاصل ہوتا ہے ورنہ تو لوگوں کی زندگیاں گزرجاتی ہیں ترس ترس کے مر جاتے ہیں، یہی بات مجھے ہر مشکل سے ٹکرا جانے کا حوصلہ دیتی رہی، اب سعودیہ کے معاشی حالات تبدیل ہوگئے اب تو اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنا مشکل نظر آرہا ہے اس لئے اب اپنے ملک لوٹ جانا ہی بہتر لگا۔ جب بھی مدینہ منورہ آیا ایک خاص جگہ پر ضرور گیا وہ ایک کنواں ہے جسے بئیر الروحا کہا جاتا ہے یہ مدینہ منورہ سے اسی کلو میٹر جنوب والی طرف ہے عین پہاڑوں کے درمیان ویران جگہ ہے یہ وہی رستہ ہے جو نبی کریم ص نے جنگ بدر کے لئے جاتے وقت اختیار کیا اس کنویں کی خاص بات یہ ہے کہ میرے آقا ص نے یہاں قیام کیا صحابہ کرام رض کو اس کنویں سے پانی نکالنے کو کہا لیکن پانی بہت نیچے تھا بڑی مشکل سے نکال تو لیا گیا لیکن پانی انتہائی کڑوا تھا تو سرکار ص نے اپنا لعب دہن اس میں ڈالا پانی میٹھا ہو گیا اب یہ رہتی دنیا تک میٹھا ہے لوگ یہ پانی بڑی بڑی بوتلوں میں بھر کر گھر لے جاتے ہیں یہ پانی شوگر کے مریضوں کے لئے شفاء ہے۔ وہاں جانے کے لئے آج بھی میرا دل بہت بے چین ہے میں دوبارہ اسی کنویں پر گیا پہلے سے زیادہ سکون محسوس ہورہا ہے ایسے لگ رہا ہے شہدائے بدر کی روحیں یہاں آس پاس ہیں فضاء میں ایک عجب سی خوشبو ہے۔  
بڑی خواہش تھی کہ موت مدینہ منورہ آتی لیکن شاید میرا جسم اس قابل نہیں کہ جنت البقیع میں دفن ہوسکے۔ جب پہلی دفعہ مدینہ منورہ آیا تھا تب بقیع میں داخل ہوتے وقت جسم تھر تھر کانپ رہا تھا دل کر رہا تھا واپس بھاگ جاوں پر بی بی پاک سلام اللہ علیہا کی بے سایہ قبر نا دیکھوں مولا امام حسن بادشاہ ع کا سامنا میں کیسے کروں گا اتنا گناہ گار شخص جنت کے سردار کے سامنے کس منہ سے جائے گا پھر دل نے کہا اے پاگل شخص یہ اپنے قاتل کو بھی شربت پلانے والے باپ کی اولاد ہیں معاف کر دینا انکی شان ہے ضرور میری بخشش کی ضمانت دیں گے۔  
آج میرے الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے آنسو ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے ایسا لگ رہا ہے میرا جسم کانٹوں بھری جھاڑی پہ پھنسا ہوا ہے اور کوئی مجھے واپس کھینچ رہا ہے، روح سے جسم الگ ہوتا محسوس ہورہا ہے۔ مدینہ کو چھوڑنے کی کیفیت وہی شخص محسوس کر سکتا ہے جو اس کرب سے گزر چکا ہو۔ جو دوست میری یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ان سے گزارش ہے اگر مدینہ منورہ آیں تو میرے لئے خصوصی دعا کریں کہ جب مولا امام زمانہ عج ظہور فرمایں اور مدینہ منورہ تشریف لایں اس وقت میں یہاں ضرور موجود ہوں دیکھنا چاہتا ہوں ایک پوتا اپنی دادی سے کیسے لپٹ کر اپنے بابا حسین ع کا پرسہ دیتا ہے۔
 نوٹ: یہ تحریر آج سے ایک سال پہلے صرف رحمت اللعالمین ص سے جدا ہوتے وقت لکھی تھی۔