Sunday, 15 September 2019
/ اسلامک / علی اصغر / شامِ غریباں

شامِ غریباں

شامِ غریباں ایک ایسا لفظ ہے جسے سننے کے بعد ہر پتھر دل اور شمر مزاج انسان طنزاً مسکرا دیتا ہے اور ہر دردِ دل رکھنے والا باضمیر انسان غمگین ہوجاتا ہے. تقریباً پچانوے فیصد غیر شیعہ افراد کے شامِ غریباں کے متعلق وہی خیالات ہیں جو انکو ان کے شیطان صفت مولویوں نے بتا رکھے ہیں۔ 

چونکہ میرا تعلق بھی اہل سنت مکتبہ فکر سے تھا، میں بھی اپنے دوستوں میں بیٹھ کر شامِ غریباں پہ بہت مزاق بنایا کرتا تھا، ہمیں ہمارے دوست احباب شامِ غریباں کے متعلق لطیفے سنایا کرتے تھے، دینی تعلیم دینے والے اساتذہ بھی محرم آتے ہی شامِ غریباں کے متعلق ایسی ایسی واہیات باتیں سناتے کہ ہم شیعوں پہ لعن طعن کئیے بنا نا رہ پاتے۔

ایک دفعہ ہم دو دوستوں نے شیعوں کی شام غریباں میں جانے کا فیصلہ کیا کالا کپڑا گلے میں ڈال کر جب امام بارگاہ پہنچے تو ابھی مجلس شروع نہیں ہوئی تھی آہستہ آہستہ خواتین و مرد جمع ہو رہے تھے ہم دونوں دوست دل ہی دل میں عجیب و غریب ماحول کی منظر کشی کر رہے تھے اس وقت شام غریباں کی مجلس ہمارے شہر کے محلہ حسین آباد کے امام بارگاہ میں ہوا کرتی تھی. مجھے آج بھی یاد ہے جو لڑکے ہمارے اردگرد بیٹھے تھے انہوں نے زنجیر کا ماتم کیا ہوا تھا اور انکے قمیض انکے زخموں سے چپک رہے تھے اور زخموں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا میں سوچ رہا تھا یہ لوگ زخمی حالت میں کیسے یہاں بتیاں بند کرکے برائی کریں گے. اور یہاں تو کوئی خاتون نہیں سب خواتین الگ کمرے میں بیٹھی ہیں. اسی دوران ذاکر صاحب پہنچ گئے ان کے آتے ہی لوگوں نے آہستہ آہستہ رونا شروع کردیا انہوں نے مائیک کو پکڑتے ہی کہا انا للہ وانا الیہ راجعون اور لوگوں نے زور زور سے رونا شروع کردیا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی یہ رو کیوں رہے ہیں جبکہ یہ تو یہاں برائی کرنے آئے ہیں ذاکر صاحب نے کہا کہ بتیاں بند کر دو یہ شام غریبوں کی ہے اور غریبوں کے گھر روشنیاں نہیں جلتیں. بتیاں بجھا دی گئیں میں سمجھا اب یہ اپنا اصل مقصد پورا کریں گے لیکن ذاکر صاحب کسی زینب خاتون کا نام لیتے تھے تو لوگ اونچا رونے لگتے تھے کبھی حسین بن علی کا نام لیتے تو کبھی عباس بن علی کا جب سکینہ بنت الحسین کہتے تو لوگ زور زور سے ماتم شروع کردیتے یقین جانئے سوائے حسین ابن علی کے نام کے باقی ناموں سے میں واقف نا تھا میں عجیب شش و پنج میں مبتلا ہوتا چلا گیا کہ ہمارے استاد صاحب تو کچھ اور بتا رہے تھے لیکن یہ لوگ تو بس روئے جا رہے ہیں ماتم کئے جا رہے ہیں ہائے حسین ہائے حسین کر رہے ہیں اللہ معاف کرے یہ کیسے زانی لوگ ہیں جو برائی کرنے کی نیت سے آئے ہیں اور نام حسین ابن علی کا لے رہے ہیں مجھے پوری مجلس میں ایک ہی فقرے کی سمجھ آئی کہ زینب بنت علی نے بھائیوں کے قتل کے بعد کیسے بچ جانے والوں کی تنہا حفاظت کی بس اسی جملے نے میرا کلیجہ چیر دیا میں بے اختیار رونے لگ پڑا خیر مجلس ختم ہوئی بتیاں جلا دی گئیں کچھ لوگ نوحہ پڑھ رہے تھے کچھ ماتم کررہے تھے امام بارگاہ سے نکلتے ایک ہی بات سوچ رہا تھا اے اللہ مجھے معاف کرنا میں نے شیعوں کے مرد و خواتین پہ بہت بیہودہ الزامات لگائے، اور ان ملاوں کو بھی ہدایت دے جو قرآن پاک کو سامنے رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں اور نوجوان نسل کے دل میں نفرت کے بیج بوتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا اے اللہ تیری یہ کیسی مخلوق ہے جو یکم محرم سے تیرے نبیؐ کی اولاد کو رونا شروع کرتی ہے ساری ساری رات گلیوں میں ماتم کرتے پھرتے ہیں بازاروں میں خود کو چھریوں سے زخمی کرتے ہیں اور ان میں انکا کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں اور پھر رات کو زخمی سروں، پھٹے ہوئے سینوں اورزخموں سے چھلنی پشتوں کے ساتھ پھر تیرے حسین کو رونے آجاتے ہیں، حالانکہ انکی اس شام غریباں پہ جو جو طنز کسے جاتے ہیں کوئی مجھ سا ہوتا تو کبھی شام غریباں کی مجلس میں نا آتا لیکن ہزاروں طنز و تنقید کے تیروں کے باوجود یہ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماوں کو لے کر آجاتے ہیں فقط تیرے نبی کی آل کے غم میں رونے. اے اللہ یہ کیسی قوم ہے؟ یہ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں کس مٹی سے بنے ہیں؟ کفر و شرک کے فتوؤں کے باوجود اپنی بات پہ قائم رہتے ہیں قتل و ذبح ہونے کے باوجود انہوں نے آج تک یزید کو حق پہ نہیں مانا۔ 

آج بھی جب میں اپنی بیٹی اور بیوی کو شام غریباں کی مجلس میں لے جاتا ہوں تو واپسی پہ غیر شیعہ افراد کو طنزاً اشارے کرتے دیکھتا ہوں وہ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شیعہ شام غریباں منا کر آرہے ہیں، کیونکہ انکو انکے شمر صفت مولویوں نے بتایا یہی کچھ ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے ہر سال اپنے ایک غیر شیعہ دوست کو شام غریباں کی مجلس پہ لے جایں اور انکو دکھایں کہ یہاں کوئی برائی نہیں ہورہی بلکہ ہم اجررسالت ادا کرنے آتے ہیں۔ 

بھلا پوری دنیا میں ہے کوئی ایسی قوم جو اتنے گندے اور بہودہ الزامات کے باوجود اپنے عشق سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹی ہو؟ ان پہ اور انکی خواتین پہ الزام لگاتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی وہ گلیوں بازاروں میں بیٹیوں، بہنوں کو ساتھ ملا کر حسینؑ کی مجلس و ماتم میں شریک ہوتے ہوں۔ 

میرے اہل سنت بھائیوں!!!! اس دفعہ شامِ غریباں کا نام لے کر مذاق اڑانے سے پہلے ایک دفعہ خود کسی امام بارگاہ میں چلے جانا اور اپنی آنکھوں سے دیکھنا کہ یہ شیعہ قوم جسے آپ کافر کہتے ہو یہ وہاں عزتیں لوٹ رہے ہیں یا نبی پاکؐ کی بیٹیوں کے ُلٹ جانے پہ ماتم کر رہے ہیں۔