Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / علی اصغر / ڈھلتی پرچھائی

ڈھلتی پرچھائی

کہتے ہیں روپیہ، پیسہ ڈھلتی پرچھائی ہوتا ہے، آج میرے پاس دولت کے انبار تو کل شاید میرے پاس کھانے کو ایک لقمہ بھی نا ہو، اور آج جو سڑک کنارے زمین پہ سو رہا ہو کیا پتہ کل وہ محلات میں مخمل کے بستر پہ آرام کررہا ہو، زندگی کے کبھی ایک جیسے حالات نہیں رہتے، کبھی اچھے تو کبھی بہت زیادہ برے، ہر انسان زندگی میں کئی رنگ دیکھتا ہے اور ان رنگوں کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ان لوگوں کے چہرے بھی بدلتے دیکھتے ہیں جنکو ہم اپنی زندگی میں سب سے اہم اور اپنا سمجھتے ہیں۔

میں نے بھی جوانی میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کیا پھر ملک سے باہر جانے کے بعد بہت ہی زیادہ اچھا وقت دیکھا ایک وقت تھا جب سائیکل خریدنے کی حیثیت نا تھی اور پھر یہ پرچھائی میری طرف ڈھلی تو مہنگی ترین گاڑیاں رکھیں، پہلے پسند کا کھانا نہیں کھا سکتا تھا پھر ایسا وقت بھی دیکھا جب صرف کافی پینے سعودیہ سے بحرین جایا کرتا تھا، ایف اے تعلیم ہونے کی وجہ سے معقول نوکری نہیں ملتی تھی لیکن جب حالات میرے حق میں ہوئے تو کئی ایم، بی اے لڑکے اپنے پاس نوکر رکھے، لیکن پھر وہی بات ہوئی کہ روپیہ پیسہ ڈھلتی پرچھائی ہے، جب یہ سایہ مجھ پر سے ڈھلا تو وہ وقت بھی آیا کہ بیان کرنا بے حد مشکل ہے، 

ایک دن گزرے لمحات کو یاد کرکے بہت غمگین تھا اور اللہ سے دعا کررہا تھا کہ مالک ہمت عطاء فرما اپنے بچوں کی روزی روٹی کا بندوبست کر سکوں یوں کب تک ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا پریشان رہوں گا کہ اذان کا وقت ہوا نماز پڑھنے گیا تو کسی نے بتایا فلاں گھر میں مجلس ہے، نماز سے فارغ ہوکر مجلس پہ چلا گیا، علامہ صاحب نے دوران خطاب ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دن مولا علی ع یہودی کے باغ میں مزدوری کر رہے تھے ایک سائل آیا اس نے کھانے کی درخواست کی، مولا متقیان ع نے کہا اس درخت کے ساتھ روٹی بندھی ہوئی ہے اتار کر کھا لو، جب اس شخص نے کھانا اتارا تو دیکھا کہ سوکھی روٹی تھی بزرگ ہونے کی وجہ سے وہ چبا نہیں پا رہا تھا، روٹی واپس کرکے بولا کہ میں اتنی سخت روٹی نہیں کھا سکتا، مولا ع نے فرمایا اگر تازہ اور کھانا چاہتے ہوتو مسجد نبوی ص کے پاس جا کر حسن بن علی ع کے دستر خوان کا پوچھ لو،  وہ شخص سرکار امام حسن ع کے دستر خوان پہ پہنچ گیا اور امام حسن ع نے اسکو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا۔

میں نے اس واقعہ کو سننے کے بعد دو سبق حاصل کیئے جس کے بعد مجھے حوصلہ ملا اور میں دوبارہ محنت کی طرف راغب ہوا، پہلا سبق یہ ملا کہ جب میرے آقا علی ع امیر کائنات ہو کر محنت مزدوری کرتے رہے تو مجھے کس بات کی شرم، دوسرا سبق یہ ملا کہ جب انسان کو خدا دولت رزق دے تو بجائے اسکو جمع کرنے کے انسان کو دوسروں پہ خرچ کرنا چاہیے یہی سنت ہے میرے آقا حسن بن علی ع کی، اس واقعہ کو میں نے ذہن نشین کیا اور پھر سے موٹر سائیکل پہ گاؤں گاؤں جا کر کپڑا فروخت کیا، آل نبی ع کا نام ہی اتنا بابرکت ہے کہ انکے صدقے بھوکے کو کھانا، دکھی کو سکھ، بے قرار کو قرار اور حوصلہ ہارے شخص کو ہمت مل جاتی ہے۔

اس تحریر کا مقصد اپنے حالات زندگی آپ سب کو سنانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں زندگی کے ہر لمحہ میں محمد و آل محمد ع کی سیرت سے سبق حاصل کرنا چاہیے، یہ روپیہ پیسہ آنے جانے والی چیزیں ہیں اگر آجائے تو متکبر نا ہوں اگر چلا جائے تو غمگین نہیں ہونا چاہیے، اگر وقت برا آجائے تو چھوٹے سے چھوٹا کام کر لینا چاہیے اس بات کی پرواہ نا کی جائے کہ دوست، رشتہ دار، محلہ دار کیا کہیں گے، کیونکہ امیر المومنین ہو کر اگر مزدوری کر سکتے ہیں تو ہم بھی تو انکے ہی پیروکار ہیں بلکہ محنت مزدوری کرکے فخر کرنا چاہیے کہ ہم اپنے آقا و مولا ع کی سنت پہ عمل کررہے ہیں ۔

دنیا کی اصل دولت تو محبتِ خدا اور محمد و آل محمد ع ہے یہ ایسی دولت ہے جس کے نا چوری کا خطرہ نا ہی اس محبت میں کسی کی بےوفائی کا ڈر نا اس محبت میں کوئی خسارہ ہے بلکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

 اس کے علاوہ ہر رشتہ، دھن دولت ڈھلتی پرچھائی ہے۔