/ کالمز / علی اصغر / کیا ہم زندہ قوم ہیں؟

کیا ہم زندہ قوم ہیں؟

یوٹیوب اوپن کی توسامنے بہت سی ویڈیوز تھیں ایک ویڈیو کا عنوان"میڈم (پورا نام نہیں لکھوں گا) کی سالگرہ" پڑھ کر تجسس ہوا اس پہ کلک کی تو دیکھا کہ بہت ہی قیمتی ہوٹل کا ہال تھا سینکڑوں لوگ موجود تھے اور اونچی آواز میں گانے چل رہے تھے، فیشن شو کی طرح مہمانوں کے درمیان ایک ریمپ بنا ہوا تھا تھوڑی دیر بعد بہت ہی خوبصورت اور قیمتی فراک گھسیٹتے ہوئے میڈم صاحبہ کیٹ واک کرتے مہمانوں کے دلوں پہ بجلیاں گراتے بڑے ناز و نخرے بھری چال کے ساتھ سلو موشن میں جلوہ افروز ہوئیں، ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور ساتھ ہی مہمانوں نے میڈم پہ پیسوں کی برسات کر دی پیسے چننے والے تھک گئے مگر پیسے پھینکے والوں کے پاس نوٹوں میں کمی نا آئی، میرا تجسس بڑھتا گیا کہ آخر یہ کون ہیں؟ آج سے پہلےانکو کبھی ٹی وی پہ یا فلم میں نہیں دیکھا، انکے اتنے زیادہ چاہنے والے ہیں کہ نوٹ نچھارو کرنے والے ختم ہی نہیں ہورہے، پھر میڈم نے کیک کاٹا اور اس کے بعد تحائف دینے والوں کی لائن لگی، ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی تحفہ دیا جارہا تھا، کسی نے سونے کا ہار پہنایا تو کسی نے بڑی بڑی سونے کی انگوٹھیاں اور ایک صاحب نے دونوں کلائیوں میں سونے کے چار چار کنگن پہنائے تحائف دینے کے بعد میڈم جی کے ساتھ سیلفیاں بھی بنواتے رہے اوراتنا فخر محسوس کر رہے تھے جیسے انہوں نے اسرائیل سے فلسطین آزاد کروا لیا ہو۔ تحائف کے سلسلے کے بعد پھر تمام مہمانانِ گرامی نے ملکر ہلکا ہلکا رقص کیا، ویڈیو ختم ہوئی سوچا ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھتا ہوں شائد اس شخصیت کے بارے کچھ جان سکوں۔ پہلے کمنٹ نے ہی میرے سوال کا جواب دے دیا، وہ میڈم کوئی عورت نہیں بلکہ ایک مشہور خواجہ سراء ہیں۔
اکثر خواجہ سراؤں کے عاشق لوگ چالیس سال سے اوپر کی عمر والے اور جاگیردار ہوتے ہیں، اور یقیناَ جو ان پہ پیسہ اڑایا جاتا ہے یہ انکی محنت کی کمائی نہیں ہوتی یا تو باپ دادا کی زمین جائیداد سے آئی رقم ہوتی ہے یا پھر حرام کی کمائی، جس معاشرے میں ہزاروں نہیں لاکھوں بیوہ اور یتیم بچیاں گھر بیٹھی بوڑھی ہورہی ہوں، بچے بھوک سے سڑک کنارے مردہ پڑے ہوں، بزرگ مزدوری کرنے پہ مجبور ہوں وہاں کے مرد خواجہ سراؤں سے عشق لڑائیں تو کیسے اس معاشرے میں سدھار آئے گا؟ خواجہ سراء بھی اللہ کی مخلوق ہیں ان سے حسن سلوک کرنا چاہیے اور اس تحریر میں انکا مذاق اڑانا مقصد نہیں ہے، لیکن باقاعدہ ان سے محبت کرنا اور پھر انکو اپنی بیوی کا درجہ دینا کہاں کی غیرت مندی ہے؟ ایسے لوگ جو اپنی بیویوں کو چھوڑ کر خواجہ سراؤں کے عشق میں مبتلا نظرآتے ہیں ان کی اپنی بیوی سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو انکی غیرت جاگ جاتی ہے۔ ہمارے ملک کے کئی ایسے علاقے بھی ہیں جہاں مرد بیوی کے ہوتے ہوئے لڑکوں کے ساتھ رومانس کرنا پسند فرماتے ہیں، اور اگر بیوی کسی غیر مرد کو دیکھ بھی لے تو عورت کا انجام موت ہی ہوتا ہے۔
جو قوم پبلک واش رومز میں دوسروں کی بہن بیٹیوں کے نمبر کے ساتھ کال گرل لکھ کر خوشی محسوس کرے۔ بس میں اپنے سے آگے بیٹھی خاتون کو سائیڈ سے ہاتھ ڈال کر چھونا، بس کی ہوسٹس کی چوری چھپے تصویریں بنانا، مارکیٹ میں آئی خواتین کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پہ ڈالنا، کسی جلسے جلوس یا رش والی جگہ پہ جان بوجھ کر ساتھ سے گزرنے والی خواتین کو ہلکا سا مس کرنا، محبت کے نام پہ محبوبہ کی خفیہ ویڈیوز اور تصاویر بنا لینا اور بعد میں مطلب پورا نا کرنے پہ بلیک کرنا، قرآن پڑھانے والے معلم کا چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنا، ڈاکٹرز ہوں یا وکیل، کوئی سرکاری افسر ہو یا پرائیوٹ کمپنی کا مینجر جس کو بھی موقع ملتا ہے اپنی ہوس پوری کرنے میں دیر نہیں لگاتے، اس قوم کے سجیلے جوان گناہ کرنے کے لیے عمر یا جنس نہیں دیکھتے، ہمارے ایک دوست کہا کرتے تھے اتھے شریف او ہی اے جنہوں موقع نہیں ملدا (یہاں شریف وہی ہے جسے غیر اخلاقی حرکت کرنے کا موقع نہیں ملتا)۔
بڑی ہنسی آتی ہے جب ٹی وی پہ بیٹھ کر مذہبی لوگ اور چند اینکر جوشیلے اور تکبر بھرے انداز سے کہتے ہیں ہم زندہ قوم ہیں، ہم نے تو دشمن کے پرخچے اڑائے، ہم نے تو اپنی بہادری کے جھنڈے گاڑے ہیں، ہم نے ہی دنیا کو سائنس کے راز سکھائے، آج دنیا چاند پہ ہمارے بزرگوں کی محنت سے پہنچی ہے، ارے بابا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنہوں نے یہ کارنامے سرانجام دئیے تھے وہ اور لوگ تھے ہم تو آج کل کھسروں کو کنگن پہنانے میں مصروف ہیں۔