/ کالمز / علی اصغر / مدینہ منورہ میں افطاری

مدینہ منورہ میں افطاری

جیسے ہی رمضان شریف آتا ہے تو مدینہ منورہ میں جیسے بہار آ جاتی ہے ہر انسان کے چہرہ پہ ایک عجیب سا اطمینان نظر آتا ہے ایسا لگتا ہے ان سب لوگوں کو دنیا کا کوئی غم و فکر نہیں ہے سب یہاں اتنا سکون محسوس کر رہے ہوتے ہیں جیسے ماں کی گود میں آ گئے ہوں۔ میں ہر سال دس رمضان سے لیکر عید تک کا وقت مدینہ منورہ میں گزارتا ہوں، مسجد نبوی ص میں تو ایک خاص رونق ہوتی ہی ہے لیکن اگر آپ مدینہ منورہ کے قدیمی شیعہ آبادی والے علاقے العوالی میں جایں تو کالے رنگ کے عربی گھروں کےباہر کھڑے ہوتےہیں اور راہ گیروں کو زبردستی اپنے گھر افطاری کرنے کی التجا کررہے ہوتے ہیں۔ اور گھروں میں بلند آواز سے درود و سلام کی آوازیں آ رہی ہوتی ہیں۔ اسی محلہ میں سعودیوں کا امام بارگاہ ہے جو مزرعہ محمد علی العمری کے نام سے مشہور ہے، وہاں تو افطاری کے وقت ایسی روحانیت ہوتی ہے جیسے ہم سب روزہ داروں کے درمیان معصومین ؑ میں سے کوئی تشریف فرما ہے اور وہاں کے متولی علامہ باقر العمری صاحب افطاری سے پہلے کھڑے ہو کر اپنی ملکوتی آواز میں جناب سیدہ ص کی شان میں عربی میں بہت پیارے اشعار پڑھتے ہیں۔ اس امام بارگاہ کا ماحول اتنا پر سکون اور روحانیت بھرا ہوتا ہے کہ انسان کا دل وہاں سے نکلنے کو نہیں کرتا۔
مدینہ منورہ دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ہر مہمان کو شہر کے سردار کے نام سے پکارا جاتا ہے، انصار نے حضورص کی تواضح کی اور ان کی نسلیں حضورص کے مہمانوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ رمضان میں پورا مدینہ اشیاء خورونوش لے کر مسجد نبوی ص میں حاضر ہو جاتا ہے، دستر خوان بچھا دیے جاتے ہیں، میزبانوں کے بچے مسجد نبوی ص کے دالانوں، ستونوں اور دروازوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، حضورص کا جو بھی مہمان نظر آتا ہے .وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر افطار کی دعوت دیتے ہیں۔ مہمان دعوت قبول کر لے تو میزبان کے چہرے پر روشنی پھیل جاتی ہے، نامنظور کر دے تو میزبان کی پلکیں گیلی ہو جاتی ہیں، میں آج مسجد نبوی ص میں داخل ہوا تو ایک سات آٹھ برس کا بچہ میری ٹانگ سے لپٹ گیا اور بڑی محبت سے کہنے لگا "یا عم (اے چچا)ا آپ میرے ساتھ بیٹھیں گے، میں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور سوچا " یہ لوگ واقعی مستحق تھے کہ رسول اللہ ص اپنے اللہ کے گھر سے اٹھ کر ان کے گھر آ ٹھہرتے اور پھر واپس نہ جاتے۔
وہاں روضہ اطہر کے قریب ایک دروازہ ہے۔ باب جبرائیل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی بیٹی جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہ کے گھر رمضان میں تشریف لاتے تو، افطار کا وقت ہوتا، دستر خوان بچھتا، گھر میں موجود چند کھجوریں اور دودھ کا ایک آدھ پیالہ اس دستر خوان پررکھ دیا جاتا، حضرت بلالؓ اذان کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ ص کسی غلام کو فرماتے باہر دیکھو کوئی مسافر تو نہیں غلام باہر دیکھ کر واپس آکر عرض کرتا یا رسول اللہ ص وہاں ایک مسافر بیٹھا ہے۔ آپ ص کھجوریں اور دودھ کا وہ پیالہ باہر بھجوا دیتے، میں جونہی باب جبرائیل کے قریب پہنچا، میرے پیروں کے ناخنوں سے رانوں کی ہڈیوں تک ہر چیز پتھر ہو گئی، میں وہی بیٹھ گیا، باب جبرائیل کے اندر ذرا سا ہٹ کر حجرے میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔ میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا، آج بھی رمضان ہے۔ ابھی چند لمحوں بعد اذان ہو گی، ہو سکتا ہے آج بھی میرے سردار ص اپنے کسی غلام سے پوچھیں ذرا دیکھو باہر کوئی مسافرتو نہیں اور اور غلام مجھے دیکھ کر جا کر عرض کرے یا رسول اللہ ص باہر ایک مسافر بیٹھا ہے، شکل سے مسکین نظر آتا ہے، نادم ہے، شرمسار ہے، تھکا ہارا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ نہیں، بھکاری ہے لیکن مانگنے کی جرأت نہیں، لوگ یہاں کشکول لے کر آتے ہیں، یہ خود کشکول بن کر آ گیا، اس پر رحم فرمائیں یا رسول اللہ ص، بیچارہ سوالی ہے، بے چارہ بھکاری ہے" اور پھر میرا پورا وجود آنکھیں بن گیا اور سارے اعضاء آنسو۔