اتوار, 08 دسمبر 2019
/ اسلامک / علی اصغر / مومنِ قُریش (3)

مومنِ قُریش (3)

جدہ سے تقریباً چالیس کلومیٹر قدیمی مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک چھوٹا سا گاوں ہے جس کا نام مدرکہ ہے، یہ گاوں دو پہاڑیوں کے درمیان میں ہے۔ جب میں ایک کمپنی میں سیلز مین تھا تو کام کے سلسلہ میں اس گاوں میں جانا ہوا، طبیعت ناساز تھی سوچا سرکاری ڈسپنسری سے دوا لے لوں، ڈسپنسری میں پاکستانی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے بعد ڈاکٹر نے فلپائینی نرس کو انجیکشن لگانے کو کہا، وہ فلپائینی نرس تقریباً پچاس سال کی تھیں، انگلش کے ساتھ ساتھ عربی بھی روانگی سے بول لیتی تھیں، میں نے پوچھا آپ کی عمر کافی ہوچکی ہے واپس کیوں نہیں چلی جاتیں انہوں نے کہا مجھے یہ گاوں والے نہیں جانے دیتے یہ سب لوگ مجھے اپنی ماں کہتے ہیں اس گاوں میں مجھے اٹھائیس سال ہونے کو ہیں کئی بچے میرے سامنے پیدا ہوکر جوان ہوئے، کئی لڑکیوں کی شادیوں میں شریک ہوئی، اب گاوں کے سردار سے لے کر عام شخص تک مجھے ماں کہتا ہے اتنی محبت کرتے ہیں کہ واپس اپنے ملک جانے کو دل نہیں کرتا، میں نے ان کے بچوں کو پالا ہے محبت و شفقت دی ہے اس لئے یہ سب میرا اتنا احترام کرتے ہیں۔

کچھ دن پہلے فیس بک پہ بھی ویڈیو دیکھی، ایک سعودی فیملی نے پورا گھر سجا رکھا تھا، ہر طرف رنگ برنگی روشنیاں اور پورا گھر پھولوں سے سجا ہوا تھا، کافی لوگ جمع تھے جب اس پروگرام کی وجہ معلوم ہوئی تو حیران رہ گیا وہ کوئی شادی بیاہ کا فنکشن نہیں بلکہ پچیس سال سے ایک ہندو ملازمہ کو اپنے ملک واپس بھیجنے کی الوداعی تقریب تھی۔ جب وہ ملازمہ رخصت ہونے لگی تو گھر کا ہرفرد رو رہا تھا پلٹ پلٹ کر اسے گلے لگاتے تھے۔

حضرت عبدالمطلب کے لئے مکہ مکرمہ کے سایہ میں قالین بچھایا جاتا تھا آپ جب حرم میں تشریف لاتے تو آپ کی جاہ و جلالت سے مرعوب ہوکر لوگ راستہ چھوڑ دیتے آپ قالین پہ تشریف رکھتے تو آپ کے فرزندان میں سے کوئی قالین پہ نا بیٹھتا اردگرد بیٹھ کر آپ کا وعظ و نصیحت سنتے، رسول اللہ ص جب کمسن بچے تھے وہ آکر اس قالین پہ اپنے دادا کے پاس بیٹھ جاتے، ان کے چچا آپؐ کو اٹھا کر دور لے جاتے تو یہ دیکھتے ہوئے حضرت عبدالمطلب فرماتے "میرے بیٹے کو چھوڑ دو، خدا کی قسم یہ ایک خاص شان کا مالک ہے پھر وہ آپؐ کو اپنے پاس بٹھاتے اور آپؐ کی پشت پہ شفقت سے ہاتھ پھیرتے"

جنابِ عبدالمطلب کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے اولاد کو پاس بلا کر پوچھا کون محمدؐ کی کفالت کرے گا؟ تو سب نے جواب دیا کہ محمدؐ سب سے زیادہ ذہین ہیں آپؐ سے ہی پوچھ لیا جائے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا پسند فرمائیں گے، عبدالمطلب نے سوال کیا اے بیٹا محمدؐ تمہارے دادا کا وقت قریب ہے آپؐ میرے بعد اپنی پھپھیوں یا چچاوں میں سے کس کے ساتھ رہنا پسند فرمائیں گے؟ نبی کریمؐ نے سب کی طرف دیکھا اور پھر تیزی سے آکر جناب ابوطالبؑ کے پاس کھڑے ہوگئے، حضرت عبدالمطلب نے کہا اے ابو طالبؑ میں تمہاری دیانت داری اور امانت داری کو بخوبی جانتا ہوں تم محمدؐ کے ساتھ اسی طرح برتاو کرنا جیسا میں نے کیا۔

حضرت فاطمہ بنت اسدؑ فرماتی تھیں کہ جب عبدالمطلب کی وفات ہوئی تو ابوطالبؑ نے حضرت محمدؐ کو اپنے ذمے لے لیا میں بھی ان کی خدمت کرنے لگی اور وہؐ مجھے ماں کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

ایک عام عورت جو مسلمان بھی نہیں نا ہی ہم زبان ہے لیکن اس سے پورا گاوں اس لئے محبت کرتا ہے کیونکہ اس نرس نے ان کے بچوں کو پالا ہے، ایک ہندو ملازمہ کی الوداعی تقریب پہ سب اس لئے رو رہے کیونکہ اس نے ان کی خدمت کی اور وہ ان سے محبت کرتی تھی۔ کیا ہوگیا مسلمانوں کو ایک عام انسان کی خدمات کی اتنی قدر کرتے ہیں اور جس رسولؑ نے ان کو وحشی درندہ سے مسلمان بنایا ہے اس رسولؐ کی تربیت کرنے والے ابوطالبؑ کو کافر اورنعوذ باللہ جہنمی کہتے ہیں۔ جن کےباپ دادا پاکستان بننے کے بعد سکھ اور ہندو سے مسلمان بنے آج وہ بھی منبروں پہ آکر حضرت ابوطالبؑ کے ایمان پہ بحث کررہے ہیں۔

پنجابی میں ایک کہاوت مشہور ہے "جس دا کھاو اس دے گیت گاو" لاوڈ سپیکروں پہ نوٹوں کی برسات میں میٹھی میٹھی آوازوں میں نعت پڑھنے والے جب یہ کہتے ہیں "میں تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یا رسول اللہ ص" یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جن کی نعلین کے صدقے میں کائینات کو رزق مل رہا ہے وہ پاک ہستیؐ کس کے دستر خوان سے کھاتے تھے؟

ہم تو جناب ابوطالبؑ کی نعلین پاک کے تلوے سے لگے مٹی کے ذروں کی شان بیان نہیں کرسکتے پتہ نہیں یہ اولادِ ابوجہل ابوطالبؑ کے ایمان پہ کیسے بات کرلیتے ہیں۔