اتوار, 08 دسمبر 2019
/ اسلامک / علی اصغر / ابوزرِ ثانی

ابوزرِ ثانی

مسجد نبوی ص کے باب البقیع کی مخالف سمت دس منٹ کے فاصلے پہ علی ابن ابی طالب ع روڈ پر جاکر الزہرہ س ہسپتال کے سامنے بائیں ہاتھ چھوٹی سی گلی ہے جس میں داخل ہوتے ہی شائد دو سو میٹر کے فاصلے پہ پتھروں اور گارے سے بنی طویل دیوار نظر آتی ہے جس کو باغیچہ (مزرعہ) محمد علی العمری کے نام سے جانا جاتا ہے آپ اگر کسی ٹیکسی ڈرائیور سے وہاں جانے کےلئے بولیں تو دس ریال کے عوض وہ آپکو وہاں باآسانی پہنچا دے گا بعض اوقات وہ شیعوں کا باڑہ، شیعوں کی عبادت گاہ، شیعوں کے پیٹنے والی جگہ کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ یہ باغیچہ کھجوروں کا بہت بڑا باغ ہے جس میں جگہ جگہ پانی کی چھوٹی چھوٹی مصنوعی ندیاں بہتی نظر آئیں گی، کھجوروں کے جھنڈ میں ہر تھوڑے فاصلہ پہ زائرئن کے بیٹھنے کے لئے چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ اس باغیچہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے آپکو جو چیز محسوس ہوگی وہ ایک عجیب سا سکون ہوگا ایسا محسوس ہوگا آئمہ طاہرین ع ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ یہاں آپکو آل محمد ع سے منسوب کئی تبرکات کی زیارت بھی ہوتی ہے۔ جن میں نبی کریم ص کے قدم مبارک والا ایک پتھر، سیدہ فاطمہ س کی چکی، امام سجاد ع کے گھر کا دروازہ قابل ذکر ہیں۔ ہر جمعہ کو اس باغیچہ میں بعد نماز جمعہ دستر خوان امام حسن ع بچھایا جاتا ہے جسے کھا کر صاحبان عشق محسوس کرتے ہیں کہ آج انکے لئے من سلوی اتارا گیا ہے ایک عجیب لذت ہے اس کھانے کی جو آپکو ساری زندگی یاد رہے گی۔ 

اس بارگاہ کی بنیاد رکھنے کے لئے اس باغیچہ کے مالک شیخ محمد علی العمری صاحب کو بہت سی مالی اور جسمانی تکلیفوں سے گزرنا پڑا ہے۔ مسجد نبوی ص کے اردگرد آپکو جو بلند و بالا مہنگے ترین ہوٹل نظر آتے ہیں یہ زمین محمد علی العمری صاحب کی ملکیت تھی بادشاہ کو ایک امام بارگاہ بنانے کے بدلے ہدیہ کردی اور جب بادشاہ نے قبضہ کرلیا تو اس بارگاہ پہ بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی آپ میں سے بہت کم لوگ محمد علی العمری کو اور اس بارگاہ کے متعلق جانتے ہوں گے اکثر مومنین حج و عمرہ پہ جاتے ہیں تو اس مرکز عشق کی زیارت کئیے بغیر واپس آجاتے ہیں۔ شیخ محمد علی عمری مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا سلسلہ نسب امام زمانہ عج کے نائب خاص عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد بن عثمان عمری تک منتہی ہوتا ہے اور آخر میں ان کا سلسلہ نسب قبیلہ خزرج جو مدینہ کے دو اہم ترین قبیلہ میں سے ایک تھا، تک منتسب ہے۔ شیخ عمری کے اجداد علمی و دینی امور کی فعالیتوں کے ساتھ ساتھ زراعت سے مربوط کام بھی انجام دیا کرتے تھے۔ اسی سبب سے ان کے خاندان والوں کو نخاولہ یا النخیلین یعنی کھجور والے بھی کہا جاتا ہے۔ 15 یا 16 سال کی عمر میں انہوں نے نجف اشرف کا سفر کیا اور وہاں حوزہ علمیہ میں تحصیل علم میں مشغول ہو گئے اور حوزہ کے مقدمات و سطوح کے مراحل کو مکمل کرنے کے بعد درس خارج میں وارد ہوئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ حوزہ علمیہ قم اور مشہد میں بھی گذارا اور وہاں کے علماء سے استفادہ کیا۔ وہ آیت اللہ سید محسن الحکیم کی مرجعیت کے شروع میں ان کے حکم پر مدینہ منورہ واپس آ گئے اور مدینہ کے شیعوں کی رہبری کی ذمہ داری قبول کیا۔ وہ اس زمانہ میں بہت سے مراجع تقلید کے نمائندے تھے۔  شیخ عمری نے بہت سی خدمات انجام دیں ہیں جن میں مساجد و امام باڑوں کی تعمیر اور اسلامی و شیعی مناسبات کا احیاء کرنا شامل ہیں۔ اسی طرح سے انہوں نے شہر مدینہ منورہ میں حوزہ علمیہ کی تاسیس کی ہے جس میں حوزہ کی ابتدائی تعلیم سے لیکر درس خارج تک کے دروس تدریس ہوتے ہیں۔ مسجد اور ان کا دفتر اسی مزرعہ میں واقع ہیں۔ جہاں آل رسول ع کا نام لینا جرم سمجھا جائے وہاں پر اذان میں اشھد ان علیا ولی اللہ کی آواز سنائی دیتی ہے اور یہ شیخ محمد علی عمری مرحوم کی ہی مرہون منت ہوا۔ شیخ عمری نے اپنی عمر کے 45 سال سعودی عرب کی جیل میں گذارے اور انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے کچھ سال کے بعد جیل سے آزاد ہوئے۔ آل سعود کی عدالت میں کئی بار انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے ان کی پھانسی ٹل گئی۔ آخری بار ان کے پھانسی کے تمام مقدمات فراہم ہوگئے لیکن وہ بطور معجزہ اس سے نجات پا گئے۔ اس پھانسی سے نجات پانے کی داستان خود وہ اس طرح سے بیان کرتے ہیں "مجھے پھانسی دینے کے تمام امکانات فراہم ہونے کے بعد، کئی مہینے جیل میں رکھا گیا۔ آخر کار جب پھانسی کی تاریخ آ گئی تو مجھے ملاء عام میں ہزاروں شیعوں اور بعض سعودی افسروں کے سامنے پھانسی کی جگہ تک لے جایا گیا۔ رسی میری گردن مین ڈال دی گئی، میں نے بنتِ محمد ص سے توسل کیا۔ جب پھانسی کا بھندا کھینچا گیا تو تقریبا 30 سکینڈ کے بعد رسی ٹوٹ گئی اور میں بیہوش ہو گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو 35 دن گذر چکے تھے اور میں مدینہ منورہ کے ایک ہاسپیٹل میں ایڈمٹ تھا اس وقت مجھے سمجھ میں آ چکا تھا کہ میں نجات پا چکا ہوں۔ 105 سال کی عمر میں انہوں نے طبعی موت پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے اہل مدینہ کہتے ہیں مدینہ منورہ کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ انکا ہی ہوا۔ 

انکو میں ہمیشہ سے ابوزرِ ثانی کہا کرتا ہوں کیونکہ اس مرد مجاہد نے مدینہ منورہ کی فضاء میں اشھد ان علی ولی اللہ کی صدا بلند کی اور دنیا بھر کے عشاق اہل بیت ع کو دشمنان اہل بیت ع کے شہر میں عزاداری کا موقع فراہم کیا۔ جس شہر کے مالک کی مظلومہ بیٹی کی قبر پہ رونے نا دیا جائے اس شہر میں جب زائرین اس بارگاہ میں داخل ہوتے ہیں تو انکی حالت اس ماں جیسی ہوتی ہے جسکو جوان بیٹے کی میت پہ زبردستی رونے سے روکا جا رہا ہو اور کچھ وقت وہ ماں صبر کرکے آخر پھٹ پڑتی ہے اور پھر بے قابو ہوجاتی ہے۔  یہاں ہر رنگ و نسل کے عزادارن آل محمد ع اپنی زبان اور اپنے انداز میں سیدہ کائینات س کو پرسہ پیش کرتے ہیں۔ سلطان زمانہ عج کے ظہور پاک تک مدینہ منورہ میں جب تک عزاداری برپا ہوتی رہے گی تب تک شیعان حیدر کرار ع شیخ محمد علی العمری کے مقروض رہیں گے۔ آپ سب سے التماس ہے کہ ابوزر ثانی کے درجات کی بلندی کے لئے ایک دفعہ سورہ فاتحہ تلاوت فرما دیں۔