Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / لقمان ہزاروی / سیاست کا محور مولانا فضل الرحمان

سیاست کا محور مولانا فضل الرحمان

آج کل "مولانا آرہا ہے" کے چرچے زد عام ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یہی بحث و مباحثہ تھا کہ مولانا کا آنا ممکن نہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی مولانا کو سنجیدہ نہ لیا اور بارہواں کھلاڑی قرار دیکر اب تک کی ناکام سیریز کھیلی۔ اس سیریز کی ناکامی کی بڑی وجہ کپتان نہیں بلکہ کھلاڑی ہیں، جو سیاسی مفادات سے نابلد ہیں۔ ان کھلاڑیوں کو تجربہ کار سمجھ کر ہی کپتان نے لوگوں کو تبدیلی کا جذبہ دیا۔ بہر حال اب مولانا آ نہیں رہا بلکہ آچکا ہے، ان کے آنے کی وجہ سے کچھ کھچڑی ضرور پکنی ہے۔ یقینا مولانا اپنے سیاسی کیرئیر کا سب سے اہم میچ کھیل رہے ہیں، اس میچ کے ڈرا ہونے کے چانسز نا ہونے کے برابر ہیں، لیکن ہار جیت جلد یا بدیر کسی کے گلے پڑنے والی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ اسمبلی سے آوٹ مولانا فضل الرحمان اسمبلی میں موجود فضل الرحمان سے زیادہ خطرناک ہے، یہ بلکل واضح ہوچکا۔ کیا وجہ ہے کہ ایک دور میں دھرنوں کی سخت مخالفت کرنے والا خود یہ کرنے پر مجبور ہوا؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ سیاست مفادات کا دوسرا نام ہے، ان مفادات کو حاصل کرنے کے لیے کئی یو ٹرن لینے پڑتے ہیں، اس بار مقتدر حلقوں کا یو ٹرن کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہا، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ سوچے بنا کہ دوسری طرف کے کھلاڑی نہ صرف تجربہ کار ہیں بلکہ غیر مطمئن عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنا پلڈا موجودہ حکومت کی جھولی میں ڈالا۔

اس مارچ میں کئی مثبت اور کئی منفی پہلو بھی سامنے آئے۔ سب سے مثبت پہلو یہ تھا کہ مارچ کے دوران میٹرو بس کی سروس بحال رہی، ایمبولینس کو راستے دیے گئے، عام لوگوں کی زندگی مفلوج نہیں کی۔ ہمارے ملک میں دھرنا سیاست نے ہمیشہ ملک کے مفاد کو نقصان پہنچایا، کئی تجزیہ نگاروں کے ہاں اس سے مارچ سے بھی ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا، جو کہ ہر دھرنے کا ایک منفی پہلو ہوتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو مفلوج کیے بغیر مارچ کرنے کی کوشش کا سہرا مولانا کو جاتا ہے۔ اگر اس ملک میں بیس افراد کا بھی مارچ ہو تو، وہ سب سے پہلے

روڈ بند کرتے ہیں، عام لوگوں کو گزرنے نہیں دیتے، توڑ پھوڑ کرتے ہیں، لیکن اب تک مولانا کے مارچ میں یہ کچھ دیکھنے کو نہیں ملا، جو کہ سب سے اچھی بات ہے۔

‏آزادی مارچ میں شامل ہونے کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے وابستہ ہماری توقعات غلط ثابت ہوئی ہیں اور ہونا بھی ایسا ہی تھا۔ ہر ایک اس وقت نقصان کی تجارت میں کم سے کم فائدے کی جنگ لڑرہاہے، جہاں کہیں سے اس فائدہ کے ملنے کی خوشبو آئے تو اسی طرف رخ کرلیا جاتا ہے۔ ‏اقتدار کی راہ داریوں کا کھیل ہی عجیب ہے، نظر کچھ آتا ہے، دکھائی کچھ دیتا ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ مولانا کس حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر اپنے مطالبات کو نہیں منوا پاتے تو کیا ہو گا اور منوا لیا تو نتیجہ کیا نکلے گا؟اب سیاست کا دائرہ مولانا کے گرد گھوم رہا ہے اور مولانا ہی اس وقت سیاست کے مرکز و محور بن چکے ہیں۔

لقمان ہزاروی

لقمان ھزاروی  گزشتہ دو سالوں سے سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل پر اپنے خیالات قلمبند کررہے ہیں۔ وہ ایک اچھا کالم نگار اور لکھاری بننا چاہتےہیں، ایک ایسا قلم کار جو حقائق پر مبنی تحاریر لکھے، حق و سچ کا بول بالا کرے۔