Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / لقمان ہزاروی / پرائویٹ سکولوں کی لوٹ مار!

پرائویٹ سکولوں کی لوٹ مار!

تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے سے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے۔
تعلیم حاصل کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ اور اس حق کو حاصل کرنے کیلئے شہری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت وقت کی اہم ترین ذمہ داری ہوتی ہے۔ امیر اور غریب میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے بچے اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کریں اور اس شعبے میں اپنا اور ملک کا نام روشن کریں۔
ہمارے ملک پاکستان میں تعلیم فراہم کرنے والے ادارے تین قسم کے ہیں۔ 1 سرکاری ادارے، 2 پرائیویٹ ادارے، 3 دینی ادارے، سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔ عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ سرکاری اداروں میں ان لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو پرائیویٹ اداروں کی فیسیں ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی بتلائی جاتی ہے کہ ان اداروں کے طلبہ کی بورڑ کے امتحانات میں پوزیشنیں نہ آنے کے برابر ہوتیں ہیں۔ تعلیم جب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل نہ ہو تو ایسے ہی حالات دیکھنے کو ملتے ہیں جیسے ہمارے ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں کے حالات ہیں۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سکہ اس وقت چل چکا ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان قدرے بہتر ہے۔ صاحب استطاعت لوگ پرائیویٹ اداروں کے مقابلے میں سرکاری تعلیمی اداروں کو ہر گز ترجیح نہیں دیتے۔ آج کل پرائیویٹ تعلیمی ادارے موقع کو غنیمت جان کر خوب دولت کے بکسے بھرتے ہیں۔ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کی غرض سے اپنی استطاعت سے بڑھ کر بہترین تعلیمی اداروں میں بھیجنا چاہتے ہیں جو ان کا حق ہے۔ لیکن بڑے ادارے ان کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ جو والدین کی جائز خواہش کے جرم میں ان کا خون تک چوس لینا چاہتے ہیں کیونکہ حکومت کی طرف سے باقاعدہ کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے والدین کا استحصال معمول بن گیا ہے لیکن شنوائی کہیں نہیں ہے۔
ہمارے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم فراہم کرنے کے بجائے ایک کاروباری ادارہ چلانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کے سربراہان کے بچے انکے اپنے اداروں کے بجائے کسی دوسرے ادارے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں انہیں اپنے ادارے پر اعتماد تک نہیں ہوتا تو کیسے وہ اپنے بچوں کو ان اداروں میں تعلیم دلوائیں گے؟۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور بزنس ایک جملے میں استعمال ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنا نام بنانے کی چکر میں لائق طلبہ کی بولیاں لگاتے ہیں اور اچھے داموں خرید لیتے ہیں ان لوگوں نے بھی علاقے بانٹے ہوتے ہیں۔ ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم بھی انتہائی پست ہے۔ یہ ادارے والدین سے ان دنوں کا معاوضہ بھی لیتے ہیں جن دنوں میں یہ بچوں کو خدمات فراہم نہیں کرتے۔ چھٹیوں میں سکول کی خدمات دیتے نہیں اور فیس لیتے ہیں یہاں تک کہ اکثر ادارے چھٹیوں میں اساتذہ کو بھی تنخواہ نہیں دیتے۔ او لیول 2 سال میں آسانی سے ہو سکتا ہے۔ چند سیمی پرائیویٹ سکول 2 سال میں کروا بھی رہے ہیں اسی طرح جیسے آٹھویں میں ہی میٹرک کا سلیبس شروع کروا دیا جاتا ہے اسی طرح آٹھویں سے ہی او لیول کا سلیبس پڑھانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سکول مافیا بچوں کا ایک سال اضافی لگوا کر او لیول تین سال میں کرواتے ہیں اور ایک سال کی اضافی فیس وصول کرتے ہیں۔ یہ ادارے والدین سے بے جا پیسہ بٹورتے ہیں لیکن اساتذہ کو مناسب تنخواہ تک نہیں دیتے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب اساتذہ کو تنخواہ کم ملتی ہے تو وہ محنت کم کرتے ہیں اور یوں معیار تعلیم پست ہی رہ جاتا ہے۔ ایک کلاس میں ٹیچر نے (cat) کو سیٹ تلفظ کے ساتھ پڑھایا، تو بچوں نے کہا یہ سیٹ نہیں کیٹ ہے، ٹیچر نے جواب میں عرض کیا کہ اتنی کم تنخواہ میں یہ سیٹ ہی بنتا ہے کیٹ نہیں۔ حقیقت میں یہ ظلم ہورہا ہے حرص یہاں تک ہے کہ اساتذہ کو مناسب معاوضہ تک نہیں ملتا تو یہ اساتذہ خاک محنت کریں گے، انہوں نے بھی پیٹ پوجا کرنی ہوتی ہے، بچوں کی پرورش کرنی ہوتی ہے، گھر کا خرچہ کرنا ہوتا ہے، بوڑھے والدین کی خدمت کرنی ہوتی ہے، انہیں بھی ہسپتال جانا ہوتا ہے تو اتنے اخراجات یہ کہاں سے پورے کریں گے؟۔ ایسا ادارہ جو کم فیس میں معیاری تعلیم فراہم کرے اور اساتذہ کو مناسب معاوضہ بھی دے تو ایسے ادارے ہمارے ملک میں بہت کم ہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ کئی سرکاری مسائل سے لاچار ہیں۔ ۔ یقین کیجئے گا کہ دل ڈوب جاتا ہے جب اسکول اور بزنس ایک ہی جملے میں استعمال ہوتے ہیں۔
عصری تعلیمی اداروں کا حال یہ ہے کہ یہ ملک کو ایک ماہر معاشیات تک فراہم نہ کرسکے جبکہ موجودہ گورنمنٹ قابلیت کی بناء پر عاطف میاں کو ایڈوائزری کونسل میں شمولیت کرنے پر لگی ہے۔ یہ الگ موضوع ہے کہ عاطف میاں کی تقرری درست ہے یا نہیں، وہ قابل بھی ہے یا نہیں بہر حال اس پر بات کرنا میرا آج کا موضوع نہیں۔ تعلیم مفت اور معیاری ہونی چاہیے۔ حکومت وقت تعلیم کے شعبے پر زیادہ توجہ دے اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرے۔ ہر بچے کیلئے تعلیم لازمی ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی ہونی چاہیے۔ کوتاہی کرنے والے کے خلاف سزا کا تعین ہونا چاہیے تاکہ بچوں کا مستقبل بہتر بنایا جاسکے۔ کیا وجہ ہے کہ یہی بچے جب دوسرے ممالک سے تعلیم حاصل کرتے ہیں تو انکی تعلیم اور یہاں کے بچوں کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ غیروں پر انحصار کے بجائے اپنے افراد تیار کیے جائیں۔ غیر کبھی بھی ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

لقمان ہزاروی

لقمان ھزاروی  گزشتہ دو سالوں سے سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل پر اپنے خیالات قلمبند کررہے ہیں۔ وہ ایک اچھا کالم نگار اور لکھاری بننا چاہتےہیں، ایک ایسا قلم کار جو حقائق پر مبنی تحاریر لکھے، حق و سچ کا بول بالا کرے۔