ٹیرھا لگا ہے قط، قلمِ سرنوشت کوناصر عباس نیّر03 مئی 2024کالمز3582میرے لیے یہ ایک خاص الخاص لمحہ، بلکہ نادر ونایاب لمحہ ہے۔ میری سبک دوشی پر برپا کی گئی یہ تقریب کئی لحاظ سے نادر ونایاب ہے۔ یہ کسی اور زمان و مکان میں بھی ہوسکتمزید »
میں اس کوشش میں ہوں کہ مفید نہ بنوںناصر عباس نیّر09 اپریل 2024کالمز13482کچھ کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ زمانے کی کوئی آندھی، ان کی دانش کا چراغ نہیں بجھاتی۔ ایسی ہی ایک چینی حکایت ہے۔ یہ حکایت چوانگ سو سے منسوب ہے جو تاؤ مت کے درمزید »
انسانی تجربہ، جگہ اور شہرناصر عباس نیّر30 مارچ 2024کالمز1464انسانی تجربہ خاص وقت میں، کسی خاص مقام پر کیے گئے تجربے تک محدود نہیں۔ یعنی حیرت، خوف، نشاط، رنج، اداسی، مایوسی، ناستلجیا، کشف کا کوئی وقتی تجربہ، انسانی تجربے مزید »
نطشے اور مریل گھوڑاناصر عباس نیّر13 مارچ 2024کالمز1367میرے قدم لائبریری کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میرے دھیان میں لائبریری کا وہ شیلف تھا، جہاں میری مطلوبہ کتابیں پڑی تھیں۔ مجھے خیال آرہا تھا کہ کہیں کسی نے ان کی ترتیب برمزید »
نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب (3)ناصر عباس نیّر05 مارچ 2024کالمز1394اور اب نابغہ (genius) ادیب، اوسط درجے کا ادیب تخلیق کی چنگاری کو اپنے زمانے کے حاوی و مقبول رجحانات کی پیروی میں خرچ کرڈالتا ہے۔ اس کی نگاہ و تخیل کی حد، اور اسمزید »
نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب (2)ناصر عباس نیّر02 مارچ 2024کالمز9408فطین ادیب(talented writer)، اوسط درجےکے ادیب اور نابغے کے بیچ کی کڑی ہے، لیکن اس کا دونوں سے فاصلہ یکساں نہیں ہے۔ فطین ادیب، اوسط درجے کے ادیب سے خاصی دور ی پر،مزید »
نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب (1)ناصر عباس نیّر29 فروری 2024کالمز68593ادب کی تاریخ میں تین طرح کے ادیب ملتے ہیں: نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب۔ سب سے پہلے اوسط درجے کا ادیب (mediocre writer)۔ ہر نوع کی صلاحیت کے درجے ہیں: بنیامزید »
منٹو، حاشیائی کردار اور غالبناصر عباس نیّر18 جنوری 2024کالمز2549منٹو سماج کے حاشیائی کرداروں کو افسانے کے کبیری کردار بناتے اور ان کے عزائم و طرزِحیات کو افسانے کا نقطہء ارتکاز (Focalisation) بناتے ہیں۔ یہ عمل بجاے خود مرکز مزید »
شام کو جبناصر عباس نیّر27 ستمبر 2023نظم2877شام کو جب شہر کی سب سڑکیں شہد کا چھتہ بن جاتی ہیں کاریں، رکشے، بسیں، ویگنیں، موٹر سائیکلیں پہلے بھنبنھانے لگتے ہیں، پھر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے اور بالآخر بمزید »