1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. شاہد کمال/
  4. اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اس جہان رنگ وبو کا نظام بغیر کسی تعطل کے اپنے مدار پر مسلسل گردش کررہا ہے۔ ۲۰۱۷ ؍ کاسورج اپنی تمام تر یقین و گمان کی کشمکش کے ساتھ غروب ہوکر اب ہماری تاریخی باقیات کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ اب ایک نئے سال کا آغاز ہوچکاہے۔ چونکہ انھیں گردش ایام ماہ و سال کی فطری تدوین اوراس شب وروز کی آمد ورفت سے انسان اپنی زندگی میں واقع ہونے والی تبدیلی اور رونما ہونے والے خوشگوار اور ناخوشگوار واقعات وحادثات سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔ ہم نے اس نئے سال کا خیرمقدم بڑے پُرجوش اندازمیں کیا۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو نئے سال کے آمد کی مبارک باد بھی پیش کی۔

لیکن مجھے ایک بات ضرورحیرت واستعجاب میں مبتلا رکھتی ہے۔ کہ ہم جیسا دیکھ رہے ہوتے ہیں اصل میں وہ ایسا ہوتا نہیںہے۔ خاص کر ایسے موقعوںپرہمارے سماج کی طبقاتی کشمکش اور اس کے درمیان واقع خلیج بہت واضح ہوتی ہوئی دکھائی دینے لگتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نئے سال کے جشن کا اہتمام تو کرتے ہیں۔ لیکن گزرنے والا سال ہمارے درمیان ایک سوالیہ نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے، کہ جوہمیںیہ سوچنے پر مجبور کرتاہے، کہ گزشتہ سال میں رونما ہونے انسانیت سوز جرائم اور ہمارے ملک کی جمہوریت کے نظام کی دھجیاں اڑانے والوں کا احتساب کیسے کیا جائے گا۔ اورسماج میں زندگی کی سب سے نچلی سطح پر زندگی گزارنے والے مظلوموں، مقہوروں، معتبوں، مطعونوں، کے حقوق کا استحصال کرنے والوں سے باز پرس کون کرے گا۔ ؟کیا وہ انسان نہیں۔ ؟ اگر انسان ہیں تو کیا انھیں جینے کا حق نہیں۔ ؟اگر انھیںجینے کا حق ہے توانھیں کبھی اقلیت کے نام پر کبھی ذات پات، کبھی رنگ و نسل اور کبھی مذہب ومسلک کے نام پر تشدد کا ہدف کیوں بنایا جاتا ہے۔ ؟نئے سال کا استقبال کرنے کے ساتھ ہمیں گزشتہ سال کا معروضی اور منطقی اعتبار سے تجزیہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ کیا واقعی، یہ گزشتہ سال ہمارے ملک اور ہماری جمہوریت کے لئے خوشحالیوں سے بھرپو رہا ہے۔ میرے خیال سے ایسا سوچنا قطعی درست نہیں۔

ہم عالمی منظر نامے پرنظر ڈالنے سے پہلے اگر اپنے ملک کی جمہوریت کا جائزہ لیں تو یہ بات واشگاف ہوتی ہے، کہ یہ سال ہمارے ملک کے عوام کے لئے اقتصادی، سیاسی، سماجی، طبقاتی، لسانیاتی اور مذہبیاتی اعتبار سے اتنا اچھانہیں رہا، جتنا کہ یہاں کے عوام کو امید تھی۔ سیاسی، سماجی اور مذہبیاتی نظریات کی مزاحمت کے تشدد انگیزاور منافر ت آمیز رویہ سے پیدا ہونے والے حالات سے ہمارے ملک کے امن پسند مزاج میں کافی برہمی دیکھنے کو ملی۔ شاید ہم اس نئے سال میں گزشتہ سال کی طرح اس سال کسی ایسے ناخوشگوار واقعہ کی توقع نہیں رکھتے۔ جس سے ہمارے ملک کے امن وامان کو خطرہ ہو۔ جمہوری رواداری کا تقاضہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیںاپنے ملک کے جمہوری آئین کا تحفظ کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیا سال ہمارے لئے کیساثابت ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ سال ہمارے سیاسی جوتشیوں کی امیدوں کے برخلاف واقع ہو، تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کاش کہ ایسا ممکن ہو۔ !

گزشتہ سال کا عالمی منظر نامہ خاک وخون سے عبارت رہا، اور خاص کر اسلامی ممالک میںکافی غیر اطمینانی، اور کرب و بے چینی کی کیفیت رہی، میانمار کے مسلمانوں پر ان کا عرصہ حیات تنگ کردیا گیا، ان کے مکانات، کھیت کھلیان مذہبی تشدد کی بھیانک آگ میں جل کر خاکستر ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان پر ہونے والے مظالم نے انھیں اپناگھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا، کچھ شرپسند بودھ راہبوں کی منافر ت نے مسلمانوں کے گھروں کو مقتل میں تبدیل کردیا۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا، جس کی پشت پناہی دنیا کی فسطائی طاقتوںکے اشارے پر انجام دیا گیا۔ خاص کر مشرق وسطیٰ میں اسلامی ممالک کے حالات بڑے نا گزیر رہے، عراق و سیریا میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا گیا، اور ان کے مکانات کوکھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ عمل محض اسرائیل اور امریکہ کی توسیع پسندانہ نظریات کی تکمیل کے لئے کیا گیا۔ یہود و نصاریٰ نے اپنے اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے کچھ اسلامی ممالک کی سیاسی عدم بصیرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طرح کا اقدام کیا۔ عراق و سیریا کے ساتھ یمن جیسی چھوٹی ریاست کو بھی میدان جنگ بنادیا گیا۔ ریاض حکومت کی طرف سے یمن پر مسلسل بمباری کی وجہ سے یمن کا بنیادی انفرا، اسٹریکچر پوری طرح سے تباہ کردیا گیا۔ وہاں کے عوام کو ان کی بنیادی سہولتوں سے محروم کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہاں مسلمانوں کی اموات کی شرح میں کافی اضافہ ہوگیا ہے اور وہاں کی عوام غذائی قلت اور طبی امداد جیسی بنیادی سہولتوں سے ابھی تک نبرد آزما ہے۔ بحرین بھی آل خلیفہ کی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار رہا، اور وہی کے عوام اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے سڑکوں پراحتجاج کرتے ہوئے نظر آئے، لیکن یہ سلسلہ اس نئے سال میں بھی جاری رہ سکتاہے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ یمن کی مقاومتی و مزاحمتی گرہوںکے عزم و استقلال، اور اپنے ملک کے دفاع میں لڑی جانے والی جنگ کا انجام اس نئے سال میں ایک فیصلہ کن نیجہ پر ضرور منتج ہوگا۔ جس میںتخریبی طاقتوں کی شکست کے امکان بہت واضح دکھائی دے رہا ہے۔ اس جنگ کے منطقی تجزیہ نگاروں کے مطابق بھی یمن اپنی دفاعی جنگ میں ضرور سرخرو ہوگااوریمن کی جنگ سے برآمد ہونے والا نتیجہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی سیاسی صوررت حال کو جنم دے سکتا ہے۔ اس غیر متوقع نتیجے سے خود کو خلیجی ممالک کا چودھری سمجھنے والوں کے حواس معطل ہوجائیں گے۔ گزشتہ سال کے آخری عشرے میں امریکی صدارت کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا داراسلطنت قرار دئے جانے کے علان کے بعد امریکہ کو سیاسی اور بین الاقوامی طور سے کافی ذلت اٹھانی پڑی۔ دوسری طرف شمالی کوریہ کے صدر اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی لسانی جنگ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز رہی۔ شمالی کوریہ نے امریکہ صدر کے ہر بیان کے بعدپے درپے کئی کامیاب آیٹمی و مزائیلی تجربات کئے، جس سے پوری دنیاکو ایک نئی جنگ کا احساس ستانے لگا۔ تاحال یہ سلسلہ جاری ہے، اس سال ان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی لسانی جنگ کون سا روپ اختیار کرے گی اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ لیکن امریکہ کے رویہ سے اس بات کا اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے، کہ امریکہ شمالی کوریا کو لے کر ایک نفسیاتی دباؤ کا شکار ضرور دکھائی دے رہا ہے۔ اگر امریکہ اور شمالی کوریا میدان جنگ میں اترتے ہیں تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس دنیاکو ایک بڑی جنگ سے دوچار ہونے پڑے گا، ایسی صورت میں ساری دنیا کو بہت بڑ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ دوسری طرف عراق اور سیریا میں برپا ہونے والی جنگ اپنی منطقی انجام سے ہمکنار ہوچکی ہے، اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کا حال ساری دنیا کے سامنے ہے۔ عراق اور سیریا میں داعش کی شکست سے امریکہ و اسرائیل اور ان کے حلیف ممالک کے منصوبے پہلے سے ہی خاک میں مل چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ با ت کہنے میںمجھے کوئی تامل نہیں کہ یہ سال امریکہ واسرائیل اس کے حلیف ممالک کے لئے انتہائی دشوار گزار رہے گااور آمریت نواز طاقتوں کو ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔ غالب ؔ کے اس شعر پراپنی بات کا اختتام چاہتاہوں۔

دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض