تھی کبھی تم سے ملاقات جو مشہور نہیںشائستہ مفتی14 ستمبر 2023غزل1641تھی کبھی تم سے ملاقات جو مشہور نہیں ذکر اپنا ترے قصے میں بھی مذکور نہیں یاد کیا تجھ کو دلائیں وہ مہکتے ایام!ہو گوارہ مرے احساس کو منظور نہیں تم جو چاہو تو ذرامزید »
تاش کے پتےشائستہ مفتی12 ستمبر 2023افسانہ1667اُس کے ہاتھوں کی ہتھیلیاں پسینے سے شرابور ہو رہی تھیں مگر پھر بھی اُس نے تاش کے پتوں کو بہت مضبوطی سے تھامے رکھا ہوا تھا جیسے اُس کی کل کائنات اِن پتوں کی رنگ بمزید »
کس سے کہیں یہ حال جو اپنا عجیب تھاشائستہ مفتی01 ستمبر 2023غزل1589کس سے کہیں یہ حال جو اپنا عجیب تھااے چارہ ساز دل سے مرے تو قریب تھا کچھ بھی اثر یہ زہر ہلاہل نہ کر سکاحیران مجھ پہ کتنا ہی میرا طبیب تھا اس بزمِ دوستاں میں کومزید »
تنہا اکیلا گھر تھا وہ جنگل میں زاغ کاشائستہ مفتی29 اگست 2023غزل7888تنہا اکیلا گھر تھا وہ جنگل میں زاغ کااک گیت گونجتا تھا خموشی میں راغ کا سنتے ہیں اسکی نیند تھی، راتیں اداس تھیں اک خواب جل بجھا تھا دھوئیں میں چراغ کا یوں دھیمزید »
شہرِ آشوبشائستہ مفتی23 اگست 2023نظم26704اے مرے دیس میں بستے ہوئے اچھے لوگوخود ہی سوچو کہ سزا جیسی یہ تنہائی ہے جس جگہ پھول مہکتے تھے وفاؤں کے کبھی اُن فضاؤں میں اٹل رات کی گہرائی ہے ان اندھیروں سے پمزید »
صوفی کی جنتشائستہ مفتی16 اگست 2023افسانہ101590صبح صادق کے دودھیا اجالے میں صوفی نے اپنے اپارٹمنٹ کی بالکونی سے اسے سڑک کی دوسری جانب ٹہلتے دیکھا، خوف کی ایک انجانی لہر صوفی کے رگ و پے میں سرایت کر گئی، "ارےمزید »
اک قصۂ پارینہ دھندلا سا ہے آئینہشائستہ مفتی04 اگست 2023غزل1799اک قصۂ پارینہ دھندلا سا ہے آئینہگنجینۂ گوہر ہے یادوں سے بھرا سینہ کیوں آنکھ چراتے ہیں ملتے ہیں جو محفل میں اک وقت میں اپنــــے تھے یہ ہمدمِ دیرینہ بہتا ہوا پامزید »
میرے ہاتھوں میں کچھ گلاب تو ہیںشائستہ مفتی26 جولائی 2023غزل24680میرے ہاتھوں میں کچھ گلاب تو ہیں جو نہ ممکن رہے وہ خواب تو ہیں رنگ بکھرے ہیں چار سو میرےریگ زاروں میں کچھ سراب تو ہیں تیری چاہت کی آرزو نہ سہــــیہم ترے سایۂ عمزید »